جنگ زدہ انسانیت اور دنیا کے لاچار لوگ

پوپ لیو نے کرسمس کے موقع پر دنیا میں جنگ کی تباہ کاریوں اور بے گھر لوگوں کی مجبوری و لاچاری کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ عام طور سے اس موقع پر مسیحی دنیا کے سب سے بڑے لیڈر روحانی بالیدگی کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن اس سال  امریکی نژاد پوپ لیو نے غزہ  کے ان بے گھر لوگوں کا ذکر کیا ہے جو طویل مدت سے سخت  قدرتی آفات اور موسمی شدت کا سامنا کررہے ہیں۔

عیسائی دنیا کے  روحانی لیڈر کا یہ بیان خاص طور سے اس تناظر میں اہم ہے کہ اس میں کسی عقیدے، نسل یا خطے کی تخصیص کرنے  کی بجائے انسانیت اور اسے لاحق مسائل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایک مذہبی اجتماع  سے دنیا اور اس کے لوگوں کو درپیش افسوسناک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے پوپ لیو نے درحقیقت دنیا بھر کے سیاست دانوں کو جنگ اور تباہی و بربادی  سے گریز کرکے امن قائم کرنے اور انسانوں کی بہبود کے لیے کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ پوپ لیو  اپنی خاموش طبع اور غیر سیاسی مزاج کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن اس بار کرسمس کے خطاب میں انہوں نے غزہ اور جنگوں کا شکار دیگر خطوں کے لوگوں کا ذکر نہایت درمندی سے کیا ہے۔

پوپ لیو نے کہا  کہ ’  ہم غزہ کے ان لوگوں کو کیسے بھول سکتے ہیں جو طویل مدت سے ناقص خیموں میں  بارش، آندھی اور سردی کا سامنا کررہے ہیں‘۔ انہوں نے دنیا بھر میں بے گھر لوگوں کی حالت زار پر توجہ  مبذول  کرائی اور جنگوں کی تباہ کاری سے متنبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جنگوں کا سامنا کرنے والی آبادیاں کمزور و لاچار ہیں۔ ان کے نواح میں ملبہ ہے اور دل زخموں سے چور ہیں۔ اور وہ نوجوان بے بس ہیں جنہیں ہتھیار اٹھا کر جنگی محاذ پر بھیجا جاتا ہے۔ ان کے دماغ مبالغہ آمیز تقریروں کے ذریعے انہیں بے مقصد موت کی طرف روانہ کرنے والوں کی بے حسی محسوس کرسکتے ہیں۔

مسیحی روحانی  پیشوا کی  یہ باتیں  شاید براہ راست جنگیں رکوانے یا مظلوموں کی مدد  کے لیے  کسی مؤثر تبدیلی کا سبب  نہ بن سکیں لیکن ان الفاظ کے ذریعے مسیحی پیشوا نے یہ واضح کیا ہے کہ عقیدے کے نام پر لوگوں کی رہنمائی کا دعویٰ کرنے والا کوئی شخص انسانوں کے دکھ ، درد اور پریشانی سے لاتعلق نہیں ہوسکتا۔  پوپ لیو کے الفاظ  امید کی ایسی کرن روشن کرنےکا سبب بنے ہیں جو شاید کبھی دکھی انسانیت کے غموں کا مداوا کرسکے۔ ان کی باتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ روحانیت  کے سفر پر  روانہ ہونے سے پہلے انسان سے محبت   بنیادی شرط کی حیثیت رکھتی ہے،  جو اس شرط پر پورا نہیں اترتا ، اسے  اعلیٰ  روحانی منازل طے کرنے کے دعوے کرنے  کا بھی کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

رومن کیتھولک پوپ کی یہ باتیں درحقیقت صرف دنیا بھر کے سیاسی لیڈروں ہی کو آئینہ نہیں دکھاتیں بلکہ دیگر تمام  مذاہب  کے رہنماؤں کو بھی دعوت دیتی ہیں کہ  عقیدہ  و نقطہ نظر کے تمام تر اختلافات کے باوجود  سب سے پہلے ہر مذہبی لیڈر  کو انسان کے بارے میں سوچنا چاہئے اور انسانیت کی بات کرنی چاہئے۔ پوپ لیو کا یہ پیغام ایک ایسی دنیا میں بے حد اہمیت کا حامل ہے  جہاں متعدد صورتوں میں  مذہب کو جنگی عذر کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اسرائیل نے خود حفاظتی کے نام پر  ہزاروں فلسطینی ہلاک کیے ہیں اور لاکھوں کو بے گھر کرنے کے بعد ان کی امداد کے راستے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔  اس کے برعکس متعدد مسلمان گروہ  عقیدہ کے نام پر جنگ کرنے اور لوگوں کو ہلاک کرنے کا پیغام عام کررہے ہیں۔ اس کا  ایک ہولناک نمونہ چند روز  پہلے آسٹریلیا کے بونڈی ساحل پر دیکھا جاچکا ہے جہاں  مسلمان باپ اور اس کے بیٹے نے  یہودیوں کے ایک اجتماع پر فائرنگ کرکے  15 لوگوں  کو ہلاک کردیا۔  خوش قسمتی سے ایک  دوسرے مسلمان   احمد الاحمد نے اپنی جان پر کھیل کر ایک حملہ آور  سے اسلحہ چھینا اور درجنوں لوگوں کی زندگی بچانے کا سبب بنا۔

تاہم محبت اور انسانیت کا ایسا رویہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ پوپ کا پیغام یہی ہے کہ ہمیں  عقیدہ  سے پہلے انسانیت اور زندگی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔   یہ  پیغام ایک ایسی دنیا میں خاص طور سے اہمیت کا حامل ہے  جہاں عقیدہ کے فرق کی وجہ سے بنیادی انسانیت فراموش کی جاتی ہے۔ بھارت کے متعدد مقامات پر ہندو گروہوں نے کرسمس کے  موقع پر کی جانے والی سجاوٹ تباہ کی اور عیسائیوں کی موجودگی کے خلاف  اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔  بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمان بھی ایسی ہی مذہبی شدت پسندی کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر تعصب و تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی حالات اس سے بہت مختلف نہیں ہیں۔ سندھ میں کم سن ہندو لڑکیوں کو اغوا کرکے انہیں مسلمان کرنے  کی خبریں سال ہا سال سے ایک المناک مذہبی شدت  پسند ذہنیت کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ توہین مذہب کے نام پر  مولویوں کے  بھاشن اور عام لوگوں کا  گروہی عدالت لگا کر انسانوں کو ہلاک کرنے کا اقدام بھی پاکستانی سماج کے چہرے پر بدنما  داغ کے طور پر نمایاں ہے۔ پوپ لیو کی دانشمندانہ گفتگو ایسی شدت پسند مذہبی ذہنیت کو مسترد کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ جیسے پوپ نے کسی عقیدہ کی تخصیص کے بغیر انسانوں اور ان کے دکھوں کی بات کی ہے، مسلمانوں اور دیگر عقائد پر عمل پیرا لوگوں کو بھی اسے ایک عیسائی مذہبی لیڈر کی باتوں کی بجائے، ایک اچھے اور روشن خیال انسان کا مشورہ سمجھ کر ان پر عمل کرنا چاہئے۔

رسمی طور پر ہی سہی پاکستان کے وزیر اعظم ہاؤس میں کرسمس کے موقع پر ایک تقریب  منعقد ہوئی۔  اس طرح    ایک اچھی اور مثبت روایت کا تسلسل دیکھنے میں آیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ  حضرت عیسیٰ نے انسانیت کو ظلم وجبر سے نجات دلائی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی تعلیمات آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے  یقین دلایا کہ پاکستان میں اقلیتوں اور  خاص طور پر مسیحی برادری کا قابل قدر اور تاریخی کردار ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک تمام اقلیتوں نے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کیا، مسیحی برداری نے تعلیم، طب، دفاع سمیت ہر شعبے میں گراں قدرخدمات انجام دیں۔ قوم مسلح افواج میں مسیحی افسران اور جوانوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں ہرشہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ مسجد، مندر، گرجاگھر یا گوردوارہ میں سب کو عبادات کی آزادی  ہے۔کسی اقلیتی شہری سے ناانصافی یا زیادتی ہوئی تو قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا۔  اقلیتوں سے زیادتی کرنے والے ہر ہاتھ کو روکا جائے گا۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پوری طرح کھڑے ہیں، کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اقلیتوں سے ناانصافی کرے۔

پاکستانی وزیر اعظم کی یہ باتیں  خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں لیکن ان باتوں کو محض تقریر  تک محدود  نہیں رہنا چاہئے بلکہ حکومت کو ملک میں اقلیتی عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیاں سہل بنانے اور انہیں حقیقی مذہبی آزادی فراہم کرنے کے لیے عملی اقدمات کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں  عقیدہ و مسلک کے نام پر  نفرت  انگیز گفتگو کا خاتمہ ہونا چاہئے اور  وسیع المشربی  کا پیغام عام  کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مذہبی رہنما بنیادی اور اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے بیشتر مذہبی علما  عقیدے سے بلند ہوکر معاملات کو انسان  کی بھلائی اور بہبود کے تناظر میں دیکھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں جزوی طور سے  مذہب فروشی سے حاصل ہونے  والے مفادات کا بھی عمل دخل ہے لیکن اس کے علاوہ معاشرہ    عقلی بصیرت اور دلیل کی ضرورت و اہمیت سے محروم کیا جارہا ہے۔ کرسمس اور حضرت عیسیٰ کے یوم ولادت پر ایک دوسرے کو تہنیتی پیغام کے سوال پر ملک کے ایک ممتاز مذہبی رہنما کا گمراہ کن پیغام سوشل میڈیا  پر پھیلایا جارہا ہے۔  اگر یہ پیغام جھوٹا یا من گھڑت ہے تو متعلقہ عالم دین کو فوری طور سے اس کا نوٹس لے کر انسانوں کے درمیان دیواریں اٹھانے کی بجائے انہیں گرانے کے مقدس کام میں شریک ہونا چاہئے۔

دنیا کے ہر خطے میں انسانوں کو مصائب و مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں کمی کے  لیے کرہ ارض پر آباد سب لوگوں کو اپنے محدود دائروں سے باہرنکل کر پوپ لیو کی طرح  یہ سوچنا  ہو گا کہ  انسانوں کو مشکلوں و پریشانیوں سے نجات دلانے کے لیے ہم میں سے  ہر فرد کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔