معروف شاعر ، ادیب اور صحافی رضی الدین رضی کی کہانی
- تحریر آغا محمد علی
- جمعہ 26 / دسمبر / 2025
’’ چلتے چلتے‘‘ کے عنوان سے میرے چند کالم ہی شائع ہوئے تھے کہ ایک دن موبائل فون پر بیل بج رہی تھی اور پھر بجتے بجتے وہ مس کال بن چکی تھی ۔۔۔ میں نے کال چیک کی تو ایک قابل احترام شخصیت کا نام لکھا تھا۔
کچھ دیر تک فون کو دیکھتا رہا کہ صحافت، ادب اور شاعری میں بڑے نام کی شخصیت جن سے میرا تین دہائیوں سے مختلف اوقات میں رابطہ رہا ہے آ ج خیریت ہو مجھے کیسے یاد کیا ہے۔ پہلے سوچا کہ کوئی اور آ غا نام کے ان کے دوست ہوں گے اس چکر میں مجھے کال کی ہوگی۔ کیونکہ میرے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہوتا رہا تھا ۔ پھر میں نے خود ہی کال کرلی اور دوسرے طرف سے وہی شخصیت اپنے محبت بھرے لہجے میں کہہ رہے تھے کہ آ غا صاحب میں آ پ کے لکھے گئے کالم کو پڑھ رہا ہوں۔ بہت اچھا کام کر رہے ہو اور اس سلسلے کو بند نہیں کرنا ہے۔ میں نے کہا انشا اللہ آپ کے یہ الفاظ میرے لیے آ کسیجن ہیں اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے کافی ہیں، میری اس بات پر وہ خوش بھی ہوئے ۔
پھر ایک بار رات کو فون کیا کہ تو بہت آ ہستگی سے بات کر رہے تھے اور آ واز میں وہ جوش نہ سن کر پوچھا! خیریت تو ہے؟ مجے محسوس ہوا کہ وہ جہاں بیٹھے تھے اس جگہ سے دور ہوئے ہیں کیونکہ اب انہوں نے معمول کے انداز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یار آ غا جب آ پ کی کال آ ئی تو میں اپنی بیمار والدہ کے قدموں میں بیٹھا تھا۔ اور وہ سو رہی تھیں۔ اس لیے آ ہستہ سے بات کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا والدہ محترمہ کو کیا ہوا ہے تو انہوں نے بتایا وہ کافی عرصے سے بیمار ہیں اور میں جب تک سونے سے پہلے ان کے پاس وقت نہیں گزارتا ہوں، مجھے سکون و چین نہیں ملتا ہے۔ میں نے ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ میں آ پ کے پاس آ نا چاہتا ہوں۔ فوری کہا گھر آ نا چاہو گھر حاضر اور دفتر آ نا چاہو دفتر حاضر ہے ۔
اس کے بعد چند دن ہی گزرے تھے کہ یہ خبر سننے کو ملی کہ اس شخصیت کی والدہ محترمہ جن سے وہ بے حد مثالی محبت کرتے ہیں، ان کو اور ان کے پیاروں کو چھوڑ کر اپنے ان پیاروں کے پاس چلی گئی ہیں جو ان سے پہلے دوسرے جہاں میں چلے گئے تھے ۔ ان کی والدہ کی نماز جنازہ میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ شخصیت جن کا چہرہ ہمیشہ میرے سامنے قہقہے لگاتے اور فی البدیہہ جملوں میں ایکسپرٹ اور لکھنے لکھانے میں تو کمال صلاحیت رکھتے ہیں لیکن محفل ہو یا دوستوں کے درمیاں، سٹیج ہو یا مشاعروں کیلئے سجا پنڈال، سب بولنے میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں تو ایسی شخصیت کو دیکھا کہ اس کو والدہ کی جدائی کا کس قدر دکھ صدمہ ہوا ہے کہ ایک عمر رسیدہ شخص بن چکے ہیں ۔
اس کے بعد پھر سوچ ہی رہا تھا کہ اب جاکر ملتا ہوں لیکن پھر اس محترم شخصیت نے خود ہی مجھے میرے اس کالم کے حوالے سے اپنی والدہ، والد کے ساتھ لازوال محبت اور سقوط ڈھاکہ کے تحت میرے لئے ابتدائیہ سینڈ کردیا اور میرے تصاویر کی درخواست پر بغیر کہے وہ سب تصاویر بھی سینڈ کردیں جو کہ میں نے کہہ کر مانگنی تھیں۔ اب اس کے بعد کا مرحلہ ملاقات کا میرا ہوتا ہے تو اس محترم شخصیت نے یہ بھی مجھے نہ کہنے دیا اور محبت سے دعوت دے دی کہ آ غا صاحب فرصت ہو توآ فس چکر لگالیں۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا بغیر کہے سب کچھ ہوگیا تھا ۔ اب مجھے یقین ہے کہ بہت سارے دوست اور پڑھنے والے اس شخصیت کو پہچان چکے ہوں گے۔ نہیں تو میں بتا دیتا ہوں یہ پیاری قابل احترام شخصیت رضی الدین رضی ہیں۔ اور صحافت میں سفر کے حوالے سے یہ میرے سینئر ہیں۔ ان سے زیادہ تر ملاقاتیں پریس کلب کے الیکشن کے دوران ہوا کرتی تھیں۔ کیا کمال کی شخصیت ہے جس سائیڈ پر کھڑے ہیں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں یا نہیں سب کو پتا ہوتا تھا کہ وہ معمولی سا بھی جھول دکھائے بغیر پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر کھڑے ہیں۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ اس ایڈیشن میں ان کے بچپن ‘لڑکپن اور جوانی اور والدہ سے مثالی محبت تک کی ہی کہانی شامل کروں گا۔ اور بطور صحافی، شاعر ، ادیب کے حوالے سے پارٹ ٹو میں کالم ایڈیشن شائع کروں گا ۔ رضی بھائی سے جب پوچھا اپنی جیون کہانی تو سنائیں تو انہوں نے بتایا:
’آ غا صاحب ایک ساڑھے تین سال کے بچے نے پہلی بار جنازہ دیکھا ہو، وہ بھی اپنے والد محترم ذکا الدین اوپل کا اور وہ دھندلا سا یاد ہے کہ جب ان کے والد کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ موقع پر ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ سائیکل پر سوار ایم سی سی گراؤنڈ میں کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے آ رہے تھے کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماری اور وہ اس دنیا سے چلے گئے ۔ گھر جب میت آئی تو کہرام مچ گیا تھا، مجھے محلے میں دادا صاحب کے ایک دوست کے گھر چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ یہ ننھا رضی پریشان نہ ہو جائے۔ جب شام کو گھر آ یا تو میرے والد کا جنازہ جاچکا تھا ۔ والد کی عمر اس وقت صرف 38برس اور وہ پینٹ کوٹ سینے کے ماہر درزی تھے۔ والدہ محترمہ کی بھی کم عمری میں شادی ہوئی تھی اور پھر انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے شریک حیات کے دنیا سے چلے جانے کےبعد 57 برس ہم بہن بھائیوں کی بڑی محنت مشقت سے پرورش کی اور دوسرے جہاں روانہ ہوگئیں‘ ۔۔
رضی صاحب نے بتایا وہ 7مئی1964 میں لائلپور موجودہ فیصل آباد میں پیدا ہوئے تھے مگر میٹرک کی سند کے مطابق ان کی پیدائش 7مئی 1965 درج ہے ۔ دادا شیخ عبد الکریم اوپل محکہ ریلوے میں ملازم تھے ۔ تایا ابو میجر ضیا الدین اوپل 1965 کی جنگ میں واہگہ بارڈر پر شہید ہوئے ۔ دادا جان نے پہلے بیٹے کا 1965 میں غم سہا تو تین برس بعد ان کے دوسرے بیٹے یعنی میرے والد کی 1968 میں جدائی برداشت کرنا پڑی۔ چچا ظہیر الدین اوپل بھی محکمہ ریلوے میں ڈی پی ایم ڈویژنل پے ماسٹر تھے۔ ایک اور تایا ظفر احمد اوپل ٹی اینڈ ٹی، محکمہ ٹیلی فون میں جاب کرتے تھے ۔کینٹ صدر ملتان میں اوپل سٹریٹ ان کے شہید تایا کے نام پر ہے ۔
(بشکریہ : روزنامہ پاکستان)