نواز شریف: اصل سوچ اور وقتی مصلحتیں !
- تحریر سہیل وڑائچ
- ہفتہ 27 / دسمبر / 2025
نواز شریف جنوبی ایشیا کے سینئر اور تجربہ کار ترین سیاسی رہنما ہیں۔ 3بار کے وزیراعظم اور موجودہ نظام کے اہم شریک کار ہونے کے علاوہ، وہ چار دہائیوں میں مقتدرہ اور سول حکمرانوں کے درمیان دوستیوں اور لڑائیوں کے اہم ترین گواہ بھی ہیں۔
نوازشریف بہت ہی گہرے آدمی ہیں۔ ان کی مرضی کے بغیر آپ اُن سے دل کی بات نکلوا نہیں سکتے۔ صحافت کے ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے مجھے ان سے درجنوں ملاقاتوں کا بار بار موقع ملا اور اپنے تئیں ان کی اصل سوچ اور افکار کو سمجھنے کی کوشش کی۔ نواز شریف بہت ہی متحمل اور نرم لہجے کے آدمی ہیں۔ لیکن اگر کسی پر غصّہ ہو تو وہ اسے چھپا نہیں پاتے۔ ان کے سفید رنگ چہرے پر سرخی نمایاں ہو جاتی ہے اور ان کا ملاقاتی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ وہ ناراض ہیں۔ وگرنہ عام طور پر ان کے معصوم چہرے اور حیرانی کے تاثرات سے ملاقاتی انہیں سادہ لوح شخص سمجھتا ہے۔ ان کے چہرے کی معصومیت اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود یہ ظاہر کرنےکہ انہیں کچھ علم نہیں، بہت سے لوگ مغالطے میں آجاتے ہیں کہ ’میاں صاحب کتنے سادہ ہیں‘۔ مگر میرے خیال میں ان کا یہ قدرتی انداز ہی انہیں لوگوں کا محبوب بھی بناتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اندر موجود بے پایاں گہرائی کو چھپا کر بھی رکھتا ہے۔
اپنے ناقص العقل ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے عرض ہے کہ آج کے دور میں اگر نواز شریف کے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ نواز شریف کے سیاست، عالمی منظر نامے اور پاکستان کے داخلی ایشوز پر اصل خیالات بالکل اور ہیں اور آج کل وہ جن حالات سے گزر رہے ہیں اور انہیں اپنائے ہوئے ہیں، یہ ان کے اصل خیالات سے متضاد ہیں۔ بلکہ اگر سچ کہا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ وقتی مصلحتیں ان کی اصل سوچ پر غالب آئی ہوئی ہیں۔ اور جب آپ مصلحتوں کا شکار ہو کر اصل سوچ پر کمپرومائز کرتے ہیں تو لازماً تضاد پیدا ہوتا ہے۔ نواز شریف کی موجودہ سیاست میں یہ تضاد نمایاں ہے۔
نواز شریف کا عرصۂ دراز سے یہ خواب تھا کہ بھارت سے لڑائی اور دشمنی ختم کرکے دونوں ملک اپنی معاشی ترقی پر توجہ دیں، اس حوالے سے انہوں نے بھارتی وزیراعظم واجپائی اور پھر وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان مدعو کیا۔ وزیراعظم واجپائی نے پاکستان آنا تھا تو اس وقت کی مقتدرہ، دائیں بازو کی جماعتوں اور ایک نظریاتی اخبار نے ان کے خلاف محاذ قائم کرلیا، جماعت اسلامی کے حامیوں نے توڑ پھوڑ کی۔ لاٹھی چارج ہوا آنسو گیس چلی مگر نواز شریف ڈٹے رہے۔ تیسری بار وزیراعظم بنےتو جنرل مشرف کا کارگل مس ایڈونچر ان کے ذہن میں تھا، اس لئے انہوں نے بھارت کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات پر اس وقت کے انٹلیجنس بیورو سے ’آزادانہ‘ اور ’غیرجانبدارانہ‘ تحقیقات کروائیں تو اشارہ ملا کہ کارروائی ’اپنی‘ ہی ہے۔ اسی حوالے سے ایک میٹنگ کی اندرونی کہانی کو ’ڈان لیکس‘ کا نام دیا گیا اور بالآخر بتدریج نواز شریف کو اس وقت کی مقتدرہ نے اختلاف کی بنا پر نکال باہر کیا ۔
نواز شریف نے جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنانے کا بڑا فیصلہ بھی اس لئے کیا تھا کہ جنرل باجوہ بھی نواز شریف کی طرح بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کے حامی تھے۔ آج کی صورتحال میں نواز شریف نے بھارت سے جنگ جیتنے پر مقتدرہ اور وزیر اعظم کو مبارکباد بھی دی ہے اور انہوں نے عرصہ دراز سے کبھی بھارت سے دوستی کی بات نہیں کی۔ کیا انہوں نے مودی اور بھارت کےبارے اپنی رائے پر نظرثانی کرکے مقتدرہ کا نظریہ اپنا لیا ہے کہ جب تک بھارت ہمیں برابری نہیں دیتا، اس وقت تک Tit for Tat کا فارمولا ہی درست ہے؟ بظاہر یہی لگتا ہے کہ فی الحال انہوں نے اس فارمولے کی مخالفت نہیں کی۔ مگر ایک تشکیک پسند کو یہی لگتا ہے کہ نواز شریف کے پاک بھارت تعلقات پر اصل خیالات وہی پرانے ہیں اور آج کل ان کی خاموشی وقتی مصلحت ہے ۔
اصل سوچ اور وقتی مصلحت کا دوسرا نکتہ، نواز شریف کی معیشت کو ترجیح دینے کی پالیسی ہے ۔ وہ ہمیشہ سے ملک کی ترقی، مضبوطی اور خوشحالی کی کنجی معیشت کو سمجھتے ہیں۔ وہ گزشتہ اڑھائی تین سال سے قائم اپنی حکومت کو بھی بار بار یہی تلقین کرتے ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اڑھائی سال سے ریاست اور حکومت کی پہلی ترجیح سیکورٹی اور دفاع ہے اور پھر دوسری ترجیح خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ ریاست کو ان دونوں حوالوں سے خاصی کامیابی ملی ہے جس کا اعتراف نواز شریف کرتے رہتے ہیں۔ معیشت میں اگرچہ کافی حد تک استحکام آیا ہے لیکن نہ کارخانوں کا پہیہ چلا ہے نہ بیرونی سرمایہ کاری آئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں برآمدات بڑھنے یا شرح نمو میں نمایاں اضافےکے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ نواز شریف ہمیشہ سے Means نہیں End کے قائل رہے ہیں اس لئے وہ معاشی پالیسیوں پر وقتی مصلحت کا شکارہیں۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یا نہیں ہو پا رہا، یہ ان کی اصلی سوچ سے بالکل لگا نہیں کھاتا ۔
نواز شریف نےاپنے طویل سیاسی کیریئرمیں دوسیاسی جماعتوں سے براہ راست سیاسی جنگ کی ہے۔ پہلے ان کا ہدف پیپلز پارٹی رہی اور اب ان کا مسئلہ عمران خان اور تحریک انصاف سے ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک طویل جنگ میں انہوں نے اپنی شخصیت کے عین مطابق دباؤ اور فوائد یعنی گاجر اور چھڑی دونوں سے کام لیا اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کا صفایا کرکے چھوڑا ۔ ایک طرف وہ جنرل ضیا کے پسندیدہ نیلی آنکھ والے تھے تودوسری طرف مرحوم پیرپگاڑا کے بیان کے مطابق انہوں نے1986 میں بے نظیر بھٹو کے استقبال کیلئے خفیہ طور پر فنڈ بھی دیئے تھے۔ اسی طرح جب بے نظیر بھٹو کے خلاف لاہور ہائیکورٹ نے ان کی نااہلی اور گرفتاری کا جسٹس قیوم والا بدنام زمانہ فیصلہ سنایا تو اس سے پہلے یہ یقینی بنایا گیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو بیرون ملک ہوں تب یہ فیصلہ آئے تاکہ وہ گرفتار بھی نہ ہوں مگر نااہل رہیں۔ یہ معاملہ ان کی سوچ کے عین مطابق تھا کیونکہ نواز شریف کی سیاست کے کمرے کے دو دروازے ہیں۔ ایک دروازے سے وہ حملہ آور ہوتےہیں اور دوسری طرف سے مصالحت کا پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں۔ مگر تحریک انصاف کے ساتھ آج کل جاری مبارزت میں حکومت کا رویہ نواز شریف کی اصل سوچ اور طریق کار سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
ماضی میں عمران خان کے ساتھ نواز شریف کا رویہ مصالحانہ ہوتا تھا۔ وہ ان کے گھر بنی گالہ بھی گئے تھے مگر اس بار وہ عمران خان کو کوئی راستہ دینے کو تیار نہیں۔ شاید اس کی وجہ تحریک انصاف اور عمران خان کی طرف سے حد سے بڑھے ہوئے سوقیانہ حملے ہیں یا پھر مقتدرہ کے ساتھ ہم آواز ہونے کیلئے انہوں نے وقتی مصلحت کا رویہ اپنا رکھا ہے؟ بظاہر یہی نظرآتا ہے کہ اس معاملے میں ان کے خیالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور وہ مقتدرہ کے ساتھ ہیں۔ تاہم کبھی کبھی ان کے زوردار اور کھلے بیانات Freudian Slip یعنی غیر ارادی زبانی لغزش (جب انسان لا شعوری طور پر وہ بات کہہ دیتا ہے جو اس کے اندر کی آواز اور خیالات کی عکاس ہو) کے مصداق ہوتے ہیں۔ نواز شریف کی مقتدرہ کے ساتھ وقتی مصالحت تو ہے مگریہ ان کی سیاسی وراثت کیلئے ایک چیلنج بھی ہے۔
ظاہر ہے کہ وہ ایک پاپولر جمہوری رہنما کے طور پر یاد رکھے جانے کو ترجیح دیتے ہوں گے اور وہ وقتی مصالحت کے اندر مخمصوں کا طوق اتارنا چاہتے ہوں گے۔ مگر آج ان کی 78ویں سالگرہ تک تو یہ طوق انہیں گلے کی ہڈی محسوس ہورہا ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)