اضطراب میں دونوں ہیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 28 / دسمبر / 2025
ملک کے دو سیاسی فریق آمنے سامنے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بے چین ہیں اور دونوں ہی بے حد مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت اور تحریک انصاف اپنے اپنے طور پر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے دعوے کرتی ہیں لیکن وزیر اعظم کی براہ راست دعوت کے باوجود مستقبل قریب میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کسی بامقصد مکالمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اس کا ایک مظاہرہ حال ہی میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران دیکھنے میں آیا۔ پنجاب حکومت نے غیر ضروری پابندیوں، راستے روک کر اور سہیل آفریدی کی آمد و رفت محدود کرکے اپنے تئیں بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن دوسری طرف سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں نے تلخ اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے اور سوشل میڈیا پر مہم جوئی کے ذریعے میدان مارنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس مقابلے میں تحریک انصاف اس حد تک کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ حکومت کی خواہش کے برعکس اسے میڈیا میں مسلسل کوریج ملتی رہی اور سوشل میڈیا پر یک طرفہ اور اشتعال انگیز پیغامات کی بھرمار سے بھی تحریک انصاف ہی کو فائدہ ہؤا۔
یہ سمجھنا مشکل ہے کہ پنجاب حکومت کو سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے موقع پر غیر ضروری طور سے مستعد ہونے اور سرکاری وسائل سڑکیں روکنے، ناکوں پر کنٹرول اور کے پی کے وزیر اعلیٰ کی نقل و حرکت محدود کرنے پر صرف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کی انتہا تو اس وقت دیکھنے میں آئی جب سہیل آفریدی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حسب پروگرام کھانے کے لیے لاہور کی فوڈ اسٹریٹ پہنچے تو نہ صرف راستے بند تھے بلکہ حکومت پنجاب کے حکم سے اسٹریٹ فوڈ کی تمام دکانیں بھی بند تھیں۔ اس طرح سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں کو نعرے لگانے اور پنجاب حکومت کو مطعون کرنے کا موقع ملا۔ اس قسم کی حرکتوں سے کسی حکومت کی طاقت اور معاملات پر کنٹرول کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ اس سے گھبراہٹ کا زیادہ تاثر ملتا ہے ۔ یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ واقعی سہیل آفریدی کو اگر آزادی سے گھومنے پھرنے کا موقع مل جاتا تو نہ جانے کون سا طوفان بپا ہوجاتا۔ یوں تحریک انصاف جس عوامی قوت کا مظاہرہ کرنے میں مسلسل ناکام ہے، پنجاب حکومت کی عاقبت نااندیشانہ حکمت عملی کی وجہ سے ، وہ کم از کم اس کا پر زور دعویٰ کرنے میں ضرور کامیاب رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پارٹی اور حکومتی سطح پر یہ طے کرنا چاہئے کہ وہ تحریک انصاف کا مقابلہ سیاسی طریقوں اور بیلٹ پیپر کے ذریعے کرنا چاہتی ہے یا وہ یہ مقابلہ زور آزمائی سے جیتنا چاہتی ہے۔ حکومتی اختیا رکی وجہ سے کسی بھی پارٹی کو سرکاری مشینری اور طاقت تک رسائی ہوتی ہے۔ وہ تحمل کا مظاہرہ کرکے مخالفین پر یہ بھی واضح کرسکتی ہے کہ اسے کسی سیاسی چیلنج سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن جیسی بدحواسی لاہور میں دکھائی گئی ہے، اس کے ذریعے یہ پیغام بھی عام کیا گیاہے کہ پارٹی حکومتی طاقت کے ساتھ سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے پر کسی بھی حد تک جائے گی۔ بدقسمتی سے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے سیاسی بداعتمادی میں اضافہ ہورہا ہے اور دونوں طرف سے بار بار یہ دعویٰ کرنے کے باوجود کہ وہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں، ایسی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ لاہور کے دورہ کے دوران خیبر پختون خوا کے وزیر ااعلیٰ نے اگرچہ یہ کہا کہ مذاکرات یا احتجاج کا فیصلہ کرنے کا اختیار عمران خان نے ’ تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ اور محمود خان اچکزئی کو دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ بانی تحریک انصاف نے انہیں احتجاج منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے اور وہ اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں۔
حیرت انگیز طور پر سیاسی مکالمہ کے لیے کسی سیاسی پارٹی میں جس یکسوئی اور یک جہتی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ تحریک انصاف کی صفوں میں دیکھنے میں نہیں آتی۔ بظاہر پارٹی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی ہیں اور عمران خان کے جیل میں ہونے کے دوران ، انہیں ہی تمام فیصلوں کا اختیار ہونا چاہئے۔ لیکن وہ عام طور سے غیر متعلق دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان خود کو اپنے بھائی کی ’حقیقی ترجمان اور سیاسی وراثت کی حقدار‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو دوسری طرف عمران خان نے خیبر پختون خوا میں ایک نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنو ا کر بظاہر یہ پیغام دیا ہے کہ اب تحریک انصاف کی منہ زور سیاست کی قیادت ان کے ہاتھ میں ہوگی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عمران خان نے ہی محمود خان اچکزئی کو اپنے سیاسی نمائندے کے طور پر نامزد کیا ہؤا ہے اور کہا ہے کہ وہی زمینی حالات کی روشنی میں فیصلے کرنے کے مجاز ہوں گے۔ عمران خان کی طرف سے ان تمام اشاروں سے تحریک انصاف میں داخلی انتشار موجود ہے۔ ا ور دوسری سطح کے لیڈر غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بوجوہ یہ تاثر قوی ہوتاہے کہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں اور وہ مصالحت کی بجائے ٹکرا جاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لاہور کے دورہ کے دوران سہیل آفریدی نے یہی پیغام عام کرنے کی کوشش کی ہے۔
بدزبانی، جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں پر بیانیہ بنانے کی علت تحریک انصاف کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے لیکن پارٹی ابھی تک اسی ڈگر پر گامزن ہے۔ پارٹی کے جو لیڈر سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کے خواہاں ہیں، وہ فی الوقت بے اثر ہیں یا انہیں کنارے پر کر دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس لاہور میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ پر ذاتی حملے کرنے والے صوبائی سطح کے لیڈر یا بریڈ فورڈ کے مظاہرے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو قتل کرنے کی دھمکی یا بددعا دینے والی خاتون جیسے عناصر کو ہی پارٹی میں وسیع تر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی یوکے نے اگرچہ حکومت پاکستان کے احتجاج کے بعد پارٹی کی ویب سائٹ سے اس خاتون کی ویڈیو ہٹا دی ہے لیکن اس موقع پر وضاحت کرتے ہوئے اس انتہاپسندانہ گفتگو کو سیاسی بیان قرار دیتے ہوئے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کیا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کے تشدد کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت شروع نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ باہمی عدم اعتماد کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ طرفین یہ واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے کہ وہ کس موضوع پر بات کریں گے۔ اصولی طور سے وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتہ کے دوران جب کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی تھی تو انہیں ابتدائی سیاسی ایجنڈا واضح کرنا چاہئے تھا تاکہ بات چیت کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد فراہم ہوسکتی۔ وزیر اعظم کی دعوت میں اس کمی کوتحریک انصاف اپنےجواب میں ٹھوس سیاسی امور کا حوالہ دے کر پورا کرسکتی تھی۔ لیکن پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی بجائے دونوں ایک دوسرے پر تیر برسانے اور نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
تحریک انصاف گزشتہ سال کے دوران مذاکرات میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لے کر شامل ہوئی تھی اور اس پر پیش رفت نہ ہونے کے بعد، اس نےحکومت سے بات چیت ختم کردی تھی۔ اس سال پارٹی کا بنیادی مطالبہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی ختم کرانا ہے۔ اسی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ سیاسی متن کے بغیر کیے جانے والے مطالبات کے ذریعے اہم اختلافات پر اتفاق نہیں ہوسکتابلکہ بیان بازی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس دوران جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ملک میں پائے جانے والے سیاسی تعطل کا حل نئے انتخابات کو قرار دیا ہے۔ البتہ نئے انتخابات نہ تو تحریک انصاف کے ایجنڈے پر دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی حکومت مسائل حل کرنے کے لیے یہ راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔
اس معاملہ پر البتہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا یہ مشورہ صائب ہے کہ انتخابات اسی صورت میں کسی مسئلہ کا حل ثابت ہوسکتے ہیں جب ملک میں باہمی اعتماد کا ماحول ہو اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر اتفاق رائے پیدا کیاجائے۔ لاڑکانہ میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں۔ اگر تمام سیاسی قوتیں مل کر ایسا ماحول بنائیں جس سے سیاست کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو تو یہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔ معاشی مشکلات اور قومی سلامتی جیسے بڑے مسائل کا طویل المدتی حل کسی ایک جماعت کی لمبی اننگز نہیں بلکہ حقیقی اور پائیدار سیاسی استحکام ہے۔ بلاول نے مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے اور اپنی سیاست کو جمہوری دائرے میں واپس لے آئے۔ اگر پی ٹی آئی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اداروں کو للکارتی رہے گی تو اس کا رد عمل بھی آئے اور مسائل بھی حل نہیں ہوں گے۔ تحریک انصاف کو سمجھنا چاہئے کہ اگر حدت برداشت نہیں کرسکتی تو آگ سے دور ہوجائے۔
ملک کو درپیش حالات میں تحریک انصاف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اور حکومت کو بھی ان پہلوؤں پر غور کرنا چاہئے۔ سیاسی مخالفین کو اکسانے اور مسترد کرنے کی بجائے اعتماد سازی کا ماحول بنایا جائے اور دیکھا جائے کہ کس طریقے سے ہیجان ختم ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے علاوہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ جنگی حالات کا سامنا ہے۔ ایسے میں سیاسی پارٹیاں دست و گریبان ہوکر ایک دوسرے کا نہیں بلکہ ملک کا نقصان کررہی ہیں۔