27 دسمبر ایک لیڈر کا قتل یا سانحات کا تسلسل ؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 30 / دسمبر / 2025
یہ سطور اس وقت لکھی جا رہی ہیں جب ملک کے مختلف شہروں سمیت بیرون ممالک بھی محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی برسی کی تقریبات جاری ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان اور راہنما محترمہ کی جمہوریت اور ملک کے لیے خدمات کا زور و شور سے اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
یہ تقریبات ہر سال منعقد کی جاتی ہیں۔ سب سے بڑی تقریب گڑھی خدا بخش لاڑکانہ سندھ میں ہوتی ہے۔ جہاں ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ سمیت بھٹو خاندان کی قبریں موجود ہیں۔ ملک کے کونے کونے سے پیپلزپارٹی کے جیالے وہاں پہنچ کر بھٹوز کی قبروں پر حاضری دیتے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 27 دسمبر 2007 کو جب میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اپنی دکان کے لیے کچھ سامان لینے نکل رہا تھا تو یہ خبر ملی کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں محترمہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کی شہادت کی خبر بھی نشر کر دی گئی۔ جب میں اس سٹور پر پہنچا جہاں سے سامان لینا تھا تو وہاں ایک پاکستانی ہی بیٹھا ہوا تھا جس کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ اسے میں نے ہی یہ خبر سنائی تو وہ انتہائی پریشانی کی حالت میں بولا کہ اب پاکستان قائم نہیں رہ سکے گا۔ میں نے اسے حوصلہ دیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ مگر اسی کی پریشانی میں کوئی کمی نہ آئی۔
میرے تایازاد بھائی جو ساہیوال شہر میں رہتے ہیں اور بھٹو کے نظریاتی جیالے ہیں ان سے رابطہ کیا تو وہ پہلے ہی جلوس لے کر شہر میں سراپا احتجاج تھے۔ اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ہر شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ اسی اثنا میں خبر ملی کہ میاں نواز شریف صاحب بھی ہسپتال میں پہنچ گئے ہیں اور زرداری صاحب جو اس وقت دوبئی میں تھے نے پیغام بھیجا کہ ہم بینظیر صاحبہ کا پوسٹ مارٹم نہیں کروائیں گے۔ حالانکہ کہ قتل کی تفتیش کا پہلا تقاضا ہی پوسٹ مارٹم ہوتا ہے۔ بہرحال اگلے دن زرداری صاحب کی طرف سے "پاکستان کھپے" کا نعرہ بلند ہوا اور ملک میں امن قائم ہونا شروع ہو گیا۔
محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ ایک بہادر، دوراندیش سیاستدان اور جمہوریت کی چیمپئن شخصیت کی مالک تھیں جن کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ "جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے"۔ وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جس نے اپنی نوعمری سے ہی مشکلات کا سامنا کیا اور باپ کی جدائی کے صدمے کے ساتھ ساتھ جیل اور جلاوطنی کی صعوبتوں سے نمبرد آزما رہیں۔ 86 میں جب جلاوطنی سے واپس پاکستان آئیں تو لاہور ایئرپورٹ سے مینار پاکستان تک تاریخ کا سب سے بڑا استقبالی جلوس تھا جس میں یہ خاکسار اپنے بھائیوں سمیت شریک تھا۔ محترمہ کو اقتدار سے روکنے کے لیے کئی حربے استعمال کیے گئے مگر محترمہ بینظیر صاحبہ نے ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور 88 کے عام انتخابات میں بڑے بڑے سیاسی برجوں کو شکست سے دوچار کر کے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
مگر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور مخالف سیاسی قوتوں نے محترمہ کو بادل نخواستہ وزیراعظم تو قبول کر لیا تھا۔ سازشیں البتہ جاری رکھی گئیں۔ محترمہ نے اپنی شہادت سے تھوڑی دیر پہلے دو بڑے معاہدے کیے تھے جن میں ایک میاں نواز شریف اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ میثاق جمہوریت اور دوسرا معاہدہ اس وقت کے آمر پرویز مشرف کے ساتھ کیا جو این آر او کے نام سے بدنام معاہدے کے طور پر یاد رکھا گیا۔ اس وقت میرے دماغ میں جو سوچ چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ کیا بینظیر صاحبہ کا قتل ایک فرد کا قتل تھا یا یہ اس سلسلے کی کڑی تھی جو 50 کی دہائی سے پاکستان کو کمزور کرنے اور جمہوریت سے دور رکھنے کی سازش چلتی آ رہی تھی؟
ہر سال 27 دسمبر آ کر گزر جاتا ہے، ویسے تو یہ پورا دسمبر ہی ہمارے لیے گہرے اندھیرے چھوڑ کر گیا ہے لیکن 27 دسمبر ایک ایسا دن ہے جس نے پاکستان کی تاریخ کو دھندلا کر دیا۔ یہ دن محض بینظیر بھٹو صاحبہ کے درد ناک قتل کی المناک داستان یاد نہیں کراتا بلکہ یہ بیرونی اور اندرونی استعماری قوتوں کی سازشوں کا تسلسل تھا جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنے، پاکستان کو جمہوریت سے دور رکھنے، بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اندھیروں کی طرف دھکیلنے اور نفرت پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
میں سوچ رہا ہوں کہ ہر سال 27 دسمبر کو ملک کے کونے کونے سے حتی کے بھمبر کے دور دراز علاقے سنگھڑ سے بھی لوگ گڑھی خدا بخش پہنچتے ہیں ( میرے کچھ اپنے قریبی عزیز بھی وہاں جاتے ہیں )۔ اور ہر شہر میں بینظیر کی برسی منائی جاتی ہے۔ لیکن ایک سوال ہر سال ہم سب کا منہ چڑاتا ہے کہ بینظیر کے قاتل کون تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پاکستان کے دشمن کون ہیں۔ جنہوں نے ہر اس راہنما کو راستے سے ہٹایا جس نے پاکستان بنانے، پاکستان کو دفاعی طور پر مضبوط کرنے اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کو باوقار بنانے کا خواب دیکھا؟ بطور قوم ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم محض سوگ منانے والی مردہ پرست قوم ہیں یا پھر تاریخ کا سبق یاد رکھنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں؟
محترمہ کے قتل کے صدقے میں ملنے والی عوامی حمایت کے باعث پاکستان پیپلزپارٹی 5 سال تک اقتدار میں رہی اور آصف علی زرداری صاحب اب دوسری بار عہدہ صدارت پر براجمان ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ محترمہ کے قتل کی تحقیقات ادھوری رہیں اور ابھی تک اصل قاتلوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا؟