کراچی کی اٹھارویں عالمی اردو کانفرنس اور فارمولا فلم

اردو کی اٹھارویں عالمی کانفرنس کے موقع پر اس بار کراچی کے محبان اردو اور ادب نے عدم دلچسپی کا اظہار کرکے یہ خاموش پیغام دے دیا کہ ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرکے گھسے پٹے موضوعات اور برسوں سے دیکھے ہوئے چہروں کے ساتھ جو یہ تین چار روزہ میلہ سجایا جاتا ہے۔ اس میں انہیں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔

 اس بار ماسوا مشاعروں اور قوالی نائٹ کی تقریبات کے باقی سب مشنز حیران کن حد تک حاضرین سے محروم رہے۔ اکثر تقریبات تو ایسی تھیں جن میں اسٹیج پر مقررین زیادہ اور ہال میں سننے والے کم ہوتے تھے۔ کتابوں کی رونمائی کے مشتہر تو شرمناک حد تک حاضرین سے خالی رہے، سینکڑوں کی گنجائش والے ہال میں دس پندرہ افراد موجود ہوتے تھے۔ ایسا تو ہونا ہی تھا۔ آپ اٹھارہ برس سے یکسانیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ صرف ایونٹس کی حد تک نہیں بلکہ مندوبین، موضوعات اور مقررین کی حد تک بھی آپ مکھی پر مکھی مارے جا رہے ہیں، آخر کراچی کے اہلِ ادب یہ جگالی کب تک سنیں اور کب پرانے دقیانوسی چہروں کے وہی گھسے پٹے لایعنی ترکیبات اور اصطلاحات میں لپٹے خیالات سن کر اپنا ذہن وہی بنائیں گے جس طرح ایک فارمولاا فلم یا ڈرامہ بالآخر پٹ جاتا ہے۔اس طرح کراچی کا یہ ادبی ڈرامہ بھی بُری طرح فلاپ ہو گیا ہے۔

 کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ ایک اچھے منتظم ہوں گے مگر وہ پروڈکٹ کیا پیش کرنا چاہتے ہیں، اس کا انہیں علم نہیں۔ ایک فارمولا فلم یہ ہوتی ہے کہ آپ دوچار مقبول اداکار ڈالتے ہیں، ایک مصالحے دار کہانی لکھواتے ہیں۔ پانچ گانے، چھ مختلف نوعیت کے ڈانس، دوچار قتل، ہیرو ہیروئن کے رومانس میں دوچار کھڑے مقامات، سنسنی خیز موڑ، ساس بہو کے جھگڑے اور تھانے کچہری کے چند سین ڈال کر فلم مکمل کرلیتے ہیں، پھر دھوم دھام سے اس کی پبلسٹی کرکے ریلیز کر دیتے ہیں۔ پہلا شو ختم ہوتا ہے تو لوگ ڈبہ ڈبہ کہتے باہر نکلتے ہیں۔ کراچی کی عالمی اردو کانفرنس کا حشر بھی اس بار یہی ہوا ہے۔

 ایسا ہونا ہی تھا۔کوئی بھی اس کی سادہ سی وجہ تلاش کر سکتا ہے۔ آپ اس سے پچھلے سال کی کانفرنس اٹھا کے دیکھ لیں۔دونوں کانفرنسوں کے کارڈز اور پروگرامز ملاحظہ کریں۔ شرکا کے نام اور ادبی مشنز کے موضوعات دیکھیں، کچھ بھی تو بدلا نظر نہیں آئے گا۔ سب سے اوپر افتخار عارف کا نام چمکتا دکھائی دے گا۔ آج سے نہیں پچھلے اٹھارہ برسوں سے، آپ بتائیں دنیا میں کہاں ہوتا ہے کہ ایک ہی سکالر، نقاد یا شاعر کے خیالات کو آپ اٹھارہ برس تک سناتے رہیں اور لوگ سن کر عاجز نہ آ جائیں۔ شاعروں کی فہرست دیکھ لیں۔زمیں جنبد نہ جنید گل محمد، وہی شاعر اور پھر مستزاد یہ کہ ان کی وہی پرانی شاعری، پرانی غزلیں، جو گھس پٹ چکی ہیں مگر احمد شاہ انہیں کراچی کے محبانِ ادب کو منوانے پر بضد ہیں۔ ہاں البتہ احمد شاہ نے اس بار ایک اچھا کام ضرور کیا۔ انہوں نے ”ڈرامائی“ شاعر علی زریون کو مشاعرے سے پہلے یہ کہہ دیا وہ بیٹھ کے پڑھیں گے۔ اچھل کود کی اجازت نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا موصوف اس بار بُری طرح پٹ گئے۔

مجھے تو اس بات پر بھی حیرانی ہوتی ہے کہ اس کانفرنس کو ہربار عالمی کانفرنس کیسے قرار دیا جاتا ہے۔ ”عالمی“ کا پتہ بھی ہے کسے کہتے ہیں؟ اردو کے چند فرمائشی شاعروں اور شاعرات کو امریکہ،برطانیہ سے بلا کر عالمی کانام دے دیا جاتا ہے۔ یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا دھوکہ ہے اور فہرست اٹھا کر دیکھ لیں سوائے ایک دو ناموں کے یہ آنے والے عالمی شاعر و شاعرات ہر سال آتے ہیں۔ کئی تو پلے سے ٹکٹ لگا  کےآتی ہیں کہ بس نام آ جائے کہ عالمی شاعرات بن گئی ہیں ۔بدلے میں یہ احمد شاہ بھی امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے دوروں پر چلے جاتے ہیں اور باہمی مفادات کا یہ کھیل کراچی کے عوام کی خون پسینے سے حاصل ہونے والی کمائی پر ٹیکس لگا کے حاصل ہونے والے فنڈز سے کیا جاتا ہے۔ آج تک سندھ حکومت نے کبھی اس کانفرنس کے اخراجات کا آڈٹ نہیں کرایا۔ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ کتنے کروڑ روپے ہر سال ادب کے نام پر اڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ ادب کو ایک دھیلے کا فائدہ نہیں ہوتا۔

 کوئی بتائے کہ اس اٹھارویں عالمی اردو کانفرنس کا زبان و ادب کو کیا فائدہ ہوا۔ ایک خاص گروہ چار دن فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کے مزے لے کر ہوائی جہازوں میں اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلا گیا ۔آخر پر احمد شاہ نے یہ اعلامیہ جاری کیا کہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جو منہ توڑ جواب دیا ہم اس پر اپنی قیادت اور افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جبکہ حالت یہ  ہے کہ اس موضوع پر پوری کانفرنس میں کوئی سیشن ہی نہیں تھا۔ کبھی ان تقریبات کو بے نظیر بھٹو سے منسوب کیا گیا اور کبھی جشن پاکستان کا نام دیا۔ یہ سب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی اردو کانفرنس کے سکرپٹ کی تیاری پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔سب کچھ موقع محل دیکھ کے ہوتا رہا۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ان تعلیمی موضوعات کو جو جامعات کے شعبہ ہائے اردو میں پڑھائے جا رہے ہیں، ایسی عالمی اردو کانفرنسوں کا موضوع بنایا جا سکتا؟ مثلاً ناول پر وہی دقیانوسی گفتگو، یا نظم پر گھسے پٹے انداز میں اظہارِ خیال۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسی کانفرنسوں میں اہلِ قلم کے لئے، نئی راہیں کھولی جائیں۔ انہیں عصر حاضر سے جڑے موضوعات پر لکھنے کی ترغیب دی جائے۔ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ طبقاتی تقسیم کیسے زہر آلود فضا بنی رہی۔ علاقائی اور نسلی چیلنجز کیا ہیں، سرمایہ داری کلچر کے آنے سے ہماری تہذیب و ثقافت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آنے سے سماج کو جن تبدیلیوں کا سامنا ہے ادب میں انہیں کیسے موضوع بنایا جا سکتا ہے اور ان کے بُرے اثرات سے بچانے کے لئے ادب کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

 غرض ایک سے بڑھ کر ایک موضوع موجود ہے، لیکن اس کانفرنس کے ماضی و حال میں متعین موضوعات کو دیکھ لیں ان میں سوائے الفاظ کی جگالی یا اصطلاحات کی طوطا مینا کے اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے جب آپ انہی پرانے چہروں کو سامنے لاتے رہیں گے، جن کے پاس ادبی جمود کے اورکچھ نہیں رہا تو وہ نئی بات، آج کے سماج اور رویوں پر بات کیسے کر سکیں گے۔ سندھ حکومت کی یہ سوچ کہ احمد شاہ ہر سال ایک بڑا شو کرا دیتا ہے، آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔ یہ نہ صرف وسائل کا ضیاع ہے بلکہ اس سے اہل ادب اور نئی نسل میں ادب ہے جو عدم دلچسپی پیدا ہو رہی ہے ،وہ اگر بڑھتی رہی تو ادب معاشرے کے لئے جنسِ بے کار بن جائے گا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)