یمن میں خانہ جنگی طول پکڑ سکتی ہے!

سعودی عرب کے انتباہ کے بعد متحدہ عرب امارات نے جنوبی  یمن سے اپنے تمام فوجیوں کو  چوبیس گھنٹے کے اندر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ  یو اے ای سعودی عرب کی سلامتی کو ترجیح دیتا ہے۔ سعودی  عرب نے  جنوبی  یمن کی  مکلا بندر گاہ پر  جنگی ساز و سامان کی ترسیل ناکام بنانے کے لیے فضائی حملوں کے بعد  یو اے ای کو یمن سے فوج واپس بلانے کی وارننگ دی تھی۔

متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ اس نے 2019 میں طے شدہ فریم ورک کے تحت دیے گئے فرائض مکمل کرنے کے بعد یمن میں اپنی فوجی موجودگی ختم کر دی تھی ۔ اُس کے بعد سے اب تک یمن میں امارات کی موجودگی صرف انسدادِ دہشت گردی کے لیے مخصوص ٹیموں  تک محدود تھی۔ یہ ٹیمیں متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کر رہی تھیں۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق یمن میں حالیہ پیش رفت، اپنے اہلکاروں کی سلامتی اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی غرض سے یو اے ای یمن میں موجود اپنی انسدادِ دہشت گردی ٹیموں کو  ختم کر رہا ہے۔ اس حوالے سے جاری بیان میں یو اے ای نے  سعودی عرب کا یہ الزام بھی مسترد کیا  ہے کہ بحری جہاز  کسی خاص عسکری گروہ کے لیے فوجی ساز و سامان لے کر گئے تھے۔ امارات نے ایسی کسی سرگرمی سے قطعی لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سعودی عرب کے فضائی حملے، وارننگ اور پھر متحدہ عرب امارات کی طرف سے سعودعی خواہش کے مطابق کارروائی کا اعلان کرنے سے مشرق وسطیٰ کی  دو امیر مملکتوں کے درمیان فوری اور براہ راست تنازعہ کا  اندیشہ ٹل گیا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں یمن کے علاوہ سوڈان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر خطوں میں ان دونوں  ملکوں کے درمیان کھینچا تانی اور تناؤ کی  کیفیت جاری رہے گی۔ ان حالات  میں یہ قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ یمن میں امن  کی کوششیں اب مزید متاثر ہوں گی اور سعودی عرب   ، ایران کے حمایت یافتہ حوثی قبائل کے ساتھ مفاہمت کی جو کوششیں کررہا تھا، اب  ان پر شاید پوری طرح عمل درآمد نہ  ہوسکے۔ یا  اگر حوثی قبائل کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی ٹرانزیشنل کونسل( ایس ٹی سی) اب یمن کی سعودی حمایت یافتہ قومی حکومت کو چیلنج کرتی رہے گی۔ یو اے ای  یمنی زمین پر اپنی موجودگی نہ ہونے کے باوجود مالی  طور سےجنوبی یمن کے باغی  عنصر  کی حمایت جاری رکھ کر  یمن میں بحران کا سبب بنا رہے گا۔ 

گزشتہ روز کے فضائی حملوں اور آج یو اے  ای کے بیان کے بعد لیکن سعودی عرب اور امارات کے درمیان مشرقی وسطیٰ میں معاشی و اسٹریٹیجک برتری حاصل کرنے کا  مقابلہ  کھل کر پوری دنیا کے سامنے  آگیا ہے۔  نہ سعودی عرب یو اے ای کی طرف سے مطمئن ہوگا اور نہ ہی متحدہ عرب امارات سعودی عرب کو تن تنہا مشرق وسطیٰ میں سب سے بااثر سیاسی ، اسٹریٹیجک اور معاشی قوت  ماننے پر آمادہ ہوگا۔  یہ حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں نئے اور طویل المدت تنازعات کا سبب بنی رہے گی۔ لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان  فلسطین  میں امن اور فلسطینیوں کے لیے  علیحدہ مملکت کے قیام کے مقصد کو ہوگا۔ حیرت انگیز طور پر دیگر مسلمان ملکوں کی طرح سعودی عرب اور  متحدہ عرب امارات  بھی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حامی ہیں۔ البتہ سعودری عرب اور یو اے ای نے اس حوالے سے بالکل متضاد حکمت عملی اختیار کی ہے۔

سعودی  عرب نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل جب تک  دو ریاستی حل  مان کر اس پر  عمل درآمد کے کسی معاہدے پر  متفق نہیں ہوتا، اس وقت تک  سعودی عرب ابراہم اکارڈ میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سعودی حکمت عملی کی وجہ سے متعدد عرب و مسلمان ممالک بھی اسی پالیسی پر عمل کریں گے ۔ تاہم اس کے برعکس متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کے سابقہ دور حکومت میں ہی ابراہم اکارڈ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا ۔بلکہ دونوں ملکوں کے  درمیان قریبی تجارتی اور  اسٹریٹیجک تعلقات استوار ہوگئے تھے جنہیں غزہ کی طویل جنگ میں بھی کوئی گزند نہیں پہنچی۔ عرب ممالک میں اس وقت یو اے ای ، اسرائل کا سب سے بااعتماد اور قریبی شراکت دار ہے۔ اس شراکت داری سے اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کو قوت حاصل ہوتی ہے اور وہ مسلسل غزہ میں امن معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک کے دباؤ پر ٹرمپ امن معاہدے میں   یہ شق شامل کرنے  پر آمادہ ہوگئے تھے کہ  غزہ میں جنگ بندی کے بعد  وہاں آباد فلسطینیوں کو  نکالا نہیں جائے گا۔ صرف حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا اور اس کے متحرک کارکنوں کو یا تو پر امن طریقے سے غزہ میں رہنے کی اجازت ہوگی یا پھر وہ غزہ چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں چلے جائیں۔  تاہم یہ شرط صرف حماس  اور دیگر جنگجو گروہوں کے  باقاعدہ  کارکنوں کے بارے میں کہی گئی ہے۔ اس دوران البتہ اسرائیل نے  صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ خبریں گردش کرنے لگی ہیں کہ اسرائیل غزہ سے شہریوں کو صومالی لینڈ بھیجنے کی  کوشش کرے گا۔

اسرائیل مسلسل غزہ کو امداد کی فراہمی اور مکمل طور سے اس علاقے سے انخلا سے انکار کررہا ہے۔ تاہم دوسری طرف  حماس نے بھی  ٹرمپ معاہدے پر  متفق ہونے کے باوجود  ابھی تک ہتھیار پھینکنے کے کسی میکنزم پر اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی  عبوی حکومت کے قیام میں کوئی پیش رفت ہوسکی ہے۔  اسی طرح  غزہ میں امن  و امان اور پولیسنگ  کے لیے عالمی فوج کا  قیام بھی  ممکن نہیں  ہوسکا ۔ اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے  کہ  کوئی مسلمان ملک حماس کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری لینے پر آمادہ نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت نے ضرور اس عالمی فورس کا حصہ بننے پر دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن وہ بھی حماس کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ پر آمادہ نہیں۔ اس ماحول میں اگر مشرق وسطیٰ  کی دو اہم قوتیں آپس میں دست و گریباں ہوں گی تو اس سے ایک طرف نئے محاذ گرم ہوں گے  تو دوسری طرف  فلسطین کا دہائیوں پرانا معاملہ بھی تعطل کا شکار رہے گا۔  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان  تنازعہ طول پکڑنے کی صورت میں یو اے ای  کا اسرائیل پر انحصار بڑھ سکتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں قطعی طور سے ایک نئی صورت حال پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

اس پس منظر میں پاکستان کا کردار بے  حد دلچسپ  ہوگا۔ آنے والے وقت میں دیکھا جائے گا کہ پاکستان ان دو دوست ممالک کے درمیان کیوں کر  تعلقات بحال کرانے یا خود اپنی پوزیشن واضح کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے اور اسے سعودی عرب سے کثیر مالی امداد بھی ملتی ہے لیکن پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اس قربت کے باوجود   متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات مستحکم رکھے ہیں۔ یو اے ای کے صدر  محمد بن زید النیہان  (ایم بی زیڈ)  نے  گزشتہ  ہفتے کے دوران  اسلام آباد کا مختصر سرکاری دورہ کیا تھا  اور اس کے بعد  سے وہ نجی دورے پر رحیم یار خان میں مقیم ہیں۔ وزیرا عظم شہباز شریف نے  یمن میں تنازعہ بڑھنے کے بعد رحیم خان جا کر یو اے ای کے صدر سے ملاقات کی ہے۔ تنازعہ کے عین درمیان پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ  ایم بی زیڈ کی ملاقات  سے پاکستان کی سفارتی اہمیت واضح ہوتی ہے۔  تاہم پاکستان نے سعودی عرب  اور یو اے ای کے  ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ معاشی مجبوری کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں ممالک میں پاکستانی تارکین وطن کی کثیر تعداد کام کرتی ہے۔ پاکستان ان لوگوں کے  بھیجے ہوئے زر مبادلہ پر  انحصار  کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہوگی کہ وہ دونوں ملکوں میں سے ایک کی دوستی چننے کی بجائے ، ان دونوں کو آپس میں تنازعات ختم کرنے پر آمادہ کرے۔

تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اصل  لڑائی معاشی برتری کے معاملہ پر  ہے۔ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی قیادت  میں سعودی حکومت معاشی خود مختاری اور تیل  کی بجائے  متبادل مالی و  تجارتی شعبوں پر  توجہ مبذول کررہا ہے۔ اس حکمت عملی نے دوبئی اور ابوظہبی کی  اس خطے میں معاشی اسٹریٹیجک حیثیت کو متاثر کیا ہے۔  متحدہ عر ب امارات  سوڈان اور یمن میں اثر و رسوخ کے ذریعے درحقیقت اپنے مالی دائرہ اثر  کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس حکمت عملی کو اپنے   معاشی استحکام  کے  لیے ضروری سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں میں اصل مقابلہ معاشی مفادات کے لیے اثر ورسوخ میں اضافے کے حوالے سے ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ یہ دونوں ملک نہ تو براہ راست جنگ میں  ملوث ہوسکتے ہیں  اور نہ  ہی ایک دوسرے سے مکمل طور سے قطع تعلق کرسکتے ہیں۔

البتہ اس بات کا اندیشہ موجود رہے گا کہ اگر ایم بی ایس اور ایم بی زیڈ نے مل کر باہمی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر اتفاق نہ کیا تو  پس پردہ  اختلاف وتنازعات کی سلگتی آگ دونوں کو نقصان پہنچائے گی۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا پاکستان جیسا  غیر جانبدار  ملک اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔  یا  دو بڑی معاشی طاقتوں کے مقابلے میں بالآخر پاکستان کو بھی کسی ایک طرف جھکنا پڑے گا۔