اہل وطن کو سال نو مبارک
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 31 / دسمبر / 2025
آج سب سے پہلے تمام اہل وطن کو بلا تمیز مذہب وملت، رنگ ونسل سال نو کی خوشیاں مبارک۔ سال 2025 اپنی تمام تر تابانیاں دکھا کر اور قہر سامانیاں ڈھاکر رخصت ہوگیاہے۔
گویا آج کی دنیا نے اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی گزار لیا۔ ایک سال ہی نہیں اس ربع صدی میں انسانیت نے کیا کھویا؟ کیا پایا ہے؟ ہر ذی شعور کو اس کا جائزہ لینا چاہیے، ساتھ ہی یہ سوچنا چاہیے کہ اگلے برس اور اگلی چوتھائی صدی کو پوری دنیا کے لیے کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ اس گلوبل ویلیج کے تمام باسیوں کو انسانی بھلائی و فلاح کی نئی سربلندیوں کیلیے غورو فکر اور تگ و دو کرنی چاہیے۔ جہاں تک ہمارے اس پیارے تضادستان کا تعلق ہے ،اس کے حالات پر ہمیں بہت زیادہ پریشان ہونے اور کڑھنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ یہاں کے حالات یونہی رہنے ہیں، جیسی ہماری پچھلی دو برس کم آٹھ دہائیاں گزری ہیں۔ الحمد للہ اگر ہمارا پیارا راج دلارا قائم و دائم رہا تو اگلی دس دہائیاں بھی ایسی ہی گزریں گی۔
کیونکہ جب تک ہماری مخصوص تعلیم اور مطالعۂ پاکستان کے جہادی و راسخ العقیدہ مورچے قائم و دائم ہیں جنہیں کوئی مائی کا لال ہلا نہیں سکتا تو کوئی دل جلا ہمارے اس روایتی سماج کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ ہمارا موجودہ ہائیبرڈ سسٹم بھی یونہی چلتا رہے گا۔ مولانا طاہر اشرفی جیسے آفتابِ علم و عرفان علمائے حق اور شمشیرانِ اسلام کی مناجات اور رائیونڈ کی طویل دعاؤں کی برکات سے علما اور طاقتوروں کا الائنس ہرگزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط اور شاد باد منزل مراد ہوگا۔ ہمارے جواں سال نگینوں اور کہنہ مشق شبینوں بلند پروازوں کی موجیں یونہی لگی رہیں گی۔ درویش جیسے دل جلے اپنی جلن کے پھپھولے یونہی پھوڑتے رہیں گے۔
قہردرویش برجانِ درویش کے مصداق زیادہ چوں چراں کی تو کسی روز اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ قیدی نمبر804 اپنے کرموں کا پھل یونہی اڈیالہ شریف کے پیر خانوں یا پنہاں خانوں میں چکھتا رہے گا۔ جب تک شرابِ طہور یا انگور کا نشہ اترے گا تب تک قوی جسم و جاں اس قدر ڈھیلے پڑچکے ہوں گے کہ گوہر نایاب خان جیسی یوتھ یا جوانی بھی ملاقاتیں نہ ہوپانے کی پریشانی بھول کر یہی کہے گی کہ اب ہمارے بزرگوار کو اللہ اللہ ہی کرنی چاہیے۔ اگرچہ اقبال کے شیدائی انہیں یہ گنگنا کر پریشان کرتے رہیں گے:
کرسکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی
اے پیرِ حرم تیری مناجات سحر کیا
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
اب رشی چاہے دیسی مرغی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مرن بھرت رکھ لے مگر یہ یاد رہے کہ کلیمؑ کے پاس محض عصا نہیں بنی اسرائیل کا ٹھاٹھیں مارتا عوامی ہجوم یا کنگ کی غلامی سے نالاں یوشع جیسا جواں طبقہ طوفان بھی تھا۔ اب ان محض بہتر وفا شعاروں کے ساتھ تو دشت صحرا وکرب و بلا کی تپش ٹھنڈی نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ کوئی انقلاب لایا جاسکے۔ لہٰذا کسی شہزادے شہزادی یا دور و نزدیک کے تعلق دار کو بیچ میں ڈال کر سلطنتِ خداداد کی سرحدوں سے باہر جابیٹھنے کا آزمودہ نسخہ ”شریفِ جدہ“ کو آزما یا اپنالیا جائے اور اسی کو صلح حدیبیہ یا فتح مبین کا نام دے لیاجائے۔
بات دور نکل گئی۔ عرضِ حال تو محض اتنی تھی کہ اس مملکتِ اللہ بخش کے حالات الحمد للہ جیسے ہیں ماشا اللہ ویسے ہیں رہیں گے۔ چاہے 2025 جائے یا 2026 اور ستائیس آئے۔ اس لیے اے میرے نوجوانو تم زیادہ پریشان ہونا چھوڑدو، نہ کسی کے خلاف ہوہا کرو، نہ اپنی محرومیوں کا رونا روؤ۔ ذرا سوچو آپ کا حکیم مشرق آپ کے اصل مرض کی کیا خوبصورت تشخیص کرگیا ہے:
عصرِ حاضر ملک الموت ہے ترا جس نے
قبض کی روح تری دے کر تجھے فکرِ معاش
لہٰذا آرام سکون سے پہلے اپنی معاشی پریشانیوں کو دور فرمائیں ملک و قوم کہیں بھاگے نہیں جارہے۔
2025جاتے جاتے اپنے پیچھے جو پریشانیاں چھوڑ گیا ہے ان میں سے ایک تو امریکی صدر ٹرمپ ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں ہلچل ہی نہیں مچا رکھی ایک وختا ڈالا ہوا ہے۔ اور یہ بلا 2026 میں بھی یونہی مسلط رہے گی۔ اس سے رشیا یوکرین جنگ بندی ہو نہ ہو مگر غزہ کا کباڑہ ضرور نکال کر جائے گا۔ چاہے اس کے باسیوں کو ارضِ جارڈن میں بسانا پڑے، چاہے صومالیہ لینڈ کو مزید آباد کرنا پڑے۔ البتہ ہمارے پاکستانیوں کے لیے یہ بندہ خوشگوار ہے کہ اس نے ہماری ہمسائیگی میں ابھرتی انڈین طاقت کے بے تاج بادشاہ مودی کا ضرور ناک میں دم کررکھا ہے۔ اور سات آٹھ طیارے گرائے جانے کا تذکرہ کرنا شاید وہ کسی بھی محفل میں نہیں بھولتا۔ اسے اصل غصہ اس بات پر ہے کہ مودی نے پاک ہند جنگ بندی میں اس کے عالمی رول کو تسلیم نہ کرتے ہوئے امن نوبل پرائز کے لیے اس کی نامزدگی کیوں نہیں کی۔ جسے وہ مودی کی حرامزدگی تو خیر بھاری اور غلط لفظ ہے نمک حرامی ضرور سمجھتا ہے۔
سال2025 جاتے جاتے اینڈ پر مسلم ورلڈ کو دو دھکے ضرور دے گیا ہے۔ ان میں ایک تو بنگلہ دیش کی پہلی منتخب خاتون پرائم منسٹر خالدہ ضیا کی رحلت ہے جس کے کارن اس کے بیٹے طارق رحمٰن کو بنگلہ دیش میں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ یوں جماعتِ اسلامی کا ابھرتا چراغ گل ہو نہ ہو ٹمٹمانے ضرور لگا ہے۔ 9پارٹیوں کو ساتھ ملا کر بیچاری نے کیا سپنے دیکھے تھے جو طارق رحمٰن کے ابھرنے کی صورت ٹوٹ رہے ہیں۔ دوسرے ہمارے پیارے ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں نئی ان بن ہے جو یمن حوثیوں کے حوالے سے افسوسناک ہی قراردی جاسکتی ہے۔ ان حوثی باغیوں کو مملکت سعودی عرب ایک آنکھ نہیں دیکھ سکتی جن کی پشت پناہی ایرانی ولایت فقیہہ کررہی ہے۔ اب امارات کے ساتھ الجھاؤ کا اصل فائدہ خطے میں اسرائیل کو حاصل ہوجائے گا جس کے یو اے ای سے سفارتی و تجارتی تعلقات کو غزہ ٹریجڈی بھی نقصان نہیں پہنچا سکی۔
ہمارے ملک کے لیے دونوں برادر ملک قابلِ محبت و احترام ہیں۔ دونوں سے ہی ہمارے گہرے معاشی و اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ اور پھر لاکھوں کی تعداد میں ہمارے لوگ وہاں سے مال کماکر ہمارے زرمبادلہ میں ڈھارس کا باعث بنتے ہیں۔ بھلا ہم کیسے ایک کی خاطر دوسرے کو ناراض کرسکتے ہیں۔
آج نیا سال نئی خوشیوں اور نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے جس کا پوری دنیا کی طرح ہمارے لوگوں نے بھی بھرپور تمناؤں کے ساتھ استقبال کیا ہے۔ اپنے تمام پڑھنے سننے والوں کو نئے سال 2026 کی مبارکباد کے ساتھ پنجاب حکومت کا بھی شکریہ جس نے اس خطے پر چھائی پرمژدگی کو محدود حد تک سمجھا تو ہے یوں اپنے مایوس نوجوانوں کو کم از کم ہنسنے کھیلنے یا تفریح کے چند مواقع بخشنے کا اہتمام کیا ہے۔ بالخصوص برسوں کے بعد اس سال یہاں بسنت بہار منانے کی اجازت دی ہے۔ بشرطریکہ ہمارے غیر ذمہ دار لوگ دھاتی تاروں کے ذریعے معصوم جانوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔
موٹروے پر تیز رفتاری کے کارن اگر کوئی سانحہ یا حادثہ ہوتا ہے تو اسے روکنے کا بندوبست ہونا چاہیے۔ نہ یہ کہ موٹروے کو ہی بند کردیاجائے۔