2025 کا سب سے قابل غور بیان
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 31 / دسمبر / 2025
مزید ایک سال بیت گیا۔ ملک میں سیاسی حالات اور کسی حد تک معاشی صورت حال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ سیاسی ابتری کا سب سے بدتر مظاہرہ حال ہی میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران دیکھنے میں آیا ۔ اس موقع پر حکومت پنجاب اور تحریک انصاف کے لیڈروں نے یکساں طور سے کم ظرفی اور بدزبانی کا مظاہرہ کیا۔
تاہم خوش قسمتی سے گزشتہ سال کا سب سے قابل غور اور دل پذیر بیان بھی تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ اس بیان میں حالات کا کرب اور سیاسی الجھنوں کی بنیادی وجوہ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان پہلوؤں کی طرف شارہ کیا گیا ہے جو مسائل حل کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ بیان میڈیا میں زیادہ جگہ نہیں پاسکا ۔ اور یا شاید بیرسٹر گوہر کی پارٹی میں بھی اس کے لیے کوئی خاص نرم گوشہ نہ ہو۔ اس کے باوجود بیرسٹر گوہر علی نےجس درمندی سے یہ باتیں کی ہیں اور ان میں جیسے تعطل سے نکلنے اور مسائل حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے بلاشبہ اسے 2025 کا سب سے زیادہ قابل غور بیان قرار دیا جانا چاہئے۔
بیرسٹر گوہر علی سال کے آخری منگل کو اپنے لیڈر عمران خان سے ملاقات کی خواہش لیے ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچے اور حسب دستور انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت نے عمران خان سے ملاقاتوں پر مکمل پابندی لگائی ہوئی ہے اور بدقسمتی سے کسی عدالتی فورم نے ابھی تک اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی فیصلے پر غور کرنے یا کوئی حکم صادر کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ کسی حد تک عمران خان کی بہنوں اور سیاسی طور سے ناپختہ و نادان نمائیندوں نے اس سوال پر بیان بازی کے ذریعے بھی حالات خراب کیے ہیں اور انہیں اس پر کوئی پشیمانی بھی نہیں ہے۔ لیکن حکومت نے اس صورت حال میں عمران خان سے ملنے پر بلینکٹ پابندی لگائی ہوئی ہے ۔ حتی کہ برطانیہ سے ان کے صاحبزادوں نے جنوری کے دوران پاکستان آکر ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن حکومت کی طرف سے اس میں بھی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی بلکہ قاسم خان اور سلیمان خان کو بالواسطہ طور سے دھمکی آمیز پیغامات بھیج کر ان کے پاکستان آنے میں براہ راست رکاوٹ ڈالی ہے۔ حکومت اس پالیسی کو اپنی سیاسی کامرانی سمجھتی ہوگی لیکن جیسے پنجاب حکومت نے لاہور آمد پر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ اور ان کے وفد کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں اس موقع پر غیر ضروری طور سے زیادہ میڈیا کوریج اور بیان بازی کا موقع دیا ، بعینہ عمران خان سے ملاقاتوں پر مکمل پابندی کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جیل میں عمران خان کی حالت اور اس غیر انسانی رویہ کے بارے میں تشویش و بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی نے اسی پس منظر میں گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی درمندی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حالات تبدیل کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا : ’میں ہر منگل یہاں آتا ہوں لیکن افسوس کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی بھیک مانگتا ہوں۔ 2025 گزر گیا اب تو حالات بدلنے چاہئیں۔ تحریک اپنی جگہ لیکن مذاکرات بھی ہونے چاہئیں۔ حالات جیسا تقاضے کر رہے ہیں ،مذکرات ویسے نہیں ہو رہے۔ میں صاحب اقتدار سے درخواست کرتا ہوں کہ حالات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دل بڑا کریں۔ اس ملک اور قوم کے بچوں پر رحم کریں۔ ہمارے لیے سسٹم رک گیا ہے، نہ رکتا تو روز یہاں کھڑے نہ ہوتے۔ عدالتی آرڈر ایس او پیز کے تحت جاری ہیں۔ کوئی طریقہ نکالیں جس سے حالات بہتر ہوں‘۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ 2026 میں داخل ہو رہے ہیں اور لگتا ہے یہ سال بھی سزاؤں کا سال ہوگا۔
اس بیان میں سیاسی رکاوٹوں کا بیان بھی ہے اور حالات کی مکمل تصویر بھی ۔ بیرسٹر گوہر علی ضرور ایک ایسی پارٹی کے چئیرمین ہیں جس کی پالیسی اور طرز عمل سے اتفاق ضروری نہیں ہے لیکن گنجلک سیاسی معاملات کے حل کے لیے انہوں نے جس قومی جذبے اور گرمجوشی سے مقدمہ پیش کیا ہے، وہ بلاشبہ اس قوم کے بچے بچے کی آواز ہے۔ پاکستان کے شہری تصادم اور لڑائی جھگڑے سے زیادہ مفاہمت اور امن و امان کے حق دار ہیں۔ ملک کو سرحدوں کے علاوہ دیگر متعدد شعبوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان حالات میں اہل پاکستان کو ایک آواز اور متحد ہونا چاہئے۔ لیکن پاکستان میں یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آتی۔ انتشار اور کیچڑ اچھالنے کی کوششوں میں ہر شعبہ اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ اب یہ الزام محض سوشل میڈیا کے چند غیر ذمہ دار عناصر پر عائد کرکے آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ سیاسی مواصلت کے راستے روکنے اور مصالحت پر پہرے بٹھانے والی حکومت اور ان حالات میں افہام و تفہیم کی بجائے اشتعال انگیز بیانات کو نمایاں کرنے والے میڈیا کو بھی یکساں طور سے ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین کا یہ کہنا بجا اور درست ہے کہ اگر تحریک انصاف احتجاج کرنے یا تحریک چلانے کی بات کرتی ہے تو یہ اس کا آئینی حق ہے۔ اسے مذاکرات کا راستہ روکنے کے لیے عذر کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا موجودہ طریقہ جاری رہا تو اپوزیشن اور حکمران جماعتیں کبھی مل بیٹھ کر مسائل پر بات نہیں کرسکیں گی بلکہ ہمیشہ ٹاک شوز اور بیانات میں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں رہیں گی۔ بیرسٹر گوہر کا بیان اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے بارش کے پہلے قطرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ممکن ہے تحریک انصاف میں بیرسٹر گوہر کی سیاسی حکمت عملی کو زیادہ قبولیت حاصل نہ ہو اور ان کے خلاف تصادم اور حملہ آور ہونے کے ہتھکنڈے اختیار کرنے والے عناصر زیادہ مؤثر اور طاقت ور ہوں۔ تاہم اگر حکومت صورت حال کا سیاسی حل چاہتی ہے تو اسے تحریک انصاف کی ان آوازوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی جو مل جل کر آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں۔ سیاسی طور سے مقبول پارٹی یا لیڈر کو نظر انداز کرکے ملکی حالات بہتر کرنے کی سب باتیں بے بنیاد اور فرضی ہیں۔ اسی لیے اس دکھ کو سمجھنا چاہئے جو بیرسٹر گوہر کے بیان میں موجود ہے۔
یہ بات پوری قوم نے نوٹ کی ہے کہ فوج نے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف اپنا مضبوط مقدمہ پیش کیا ہے۔ لیکن لیفٹینٹ جنرل احمد شریف اس پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے باوجود تحریک انصاف پر پابندی لگانے یا خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے بارے میں کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ریاست کی نمائیندہ ہے اور اس کی طرف سے فیصلے کرتی ہے۔ ہم نے اپنا مقدمہ پیش کردیا ہے۔ باقی فیصلے کرنا حکومت کا کام ہے۔ بدقسمتی سے ملک پر حکمران جماعت اور لیڈروں نے اس بیان کے بعد ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے اور تحریک انصاف کو مین اسٹریم سیاست میں مناسب اور اس کی اہمیت و حیثیت کے مطابق جگہ دینے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔
حکومتی نمائیندے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد انہی دلائل اور طرز بیان کی جگالی کرتے رہے ۔ حالانکہ حکومت کا فرض تھا کہ ایک طرف وہ ایک بڑی سیاسی پارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان غیر ضروری اختلاف کو کم کرنے میں کردار ادا کرتی تو دوسری طرف یہ واضح کیاجاتا کہ نمائیندگی کا حقدار ہونا اور کسی جرم میں ملوث ہونا دو مختلف معاملات ہیں۔ عوام اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق جسے بھی ووٹ دیں لیکن متعلقہ شخص یا گروہ کسی جرم میں ملوث ہوگا یا ملکی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی سزا عدالتیں دیں گی۔ حکومت یہ فرق واضح کرنے میں ناکام رہی ۔ اسی لیے عدالتی نظام کی شفافیت اور حکومت کی نیک نیتی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کمزور اور لغو الزامات میں عمران خان کو سزائیں دلا کر حکومت انصاف کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے لیکن ان کے خلاف فوج میں بغاوت کی حوصلہ افزائی کا جو حقیقی الزام ہے، اس پر کوئی ٹھوس عدالتی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی کیوں کہ حکومتی ادارے اس معاملے میں اپنا مقدمہ مناسب طریقے سے تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی کا بیان درحقیقت 2025 کے دوران سیاسی و عدالتی شعبوں میں پائی جانے والے ابہام اور غلط رویوں کی طرف اشارہ ہے اور انہوں نے ایک پاکستانی کی حیثیت سے ان مسائل پر غور کرنے اور مذاکرات کے دروازے کھولنے کے علاوہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر ناجائز پابندی ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہر پاکستانی کو گوہر علی کے اس بیان اور ان کی باتوں پر اسی حب الوطنی اور سیاسی فراخدلی کے ساتھ غور کرنا چاہئے، جس کا عکس ان باتوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سیاست کو مردہ قرار دے کر جبر عام کرنے سے پاکستان آگے نہیں بڑھے گا بلکہ سیاست کو فعال کرنے اور جبر سے انکار ہی خوش حالی اور عوامی اطمینان کا راستہ کشادہ کرسکتا ہے۔ بیرسٹر صاحب نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ اسی پر عمل کرنے سے 2026 گزرے ہوئے سال کے مقابلے میں امید کا سال قرار پاسکے گا۔