پاکستان ناروے تعلقات اور نارویجئن سفیر کو ڈیمارش

پاکستان میں ناروے کے سفیر پھیر آرنے السوس کو پچھلے ہفتے پاکستان کی وزارت خارجہ نے دفتر میں طلب کر کے ڈی مارش کی کاروائی کو بروئے کار لائے جانے نے بہت سے حلقوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ یہ احتجاج ایسے ملک اور سفارت کار کے حوالے سے ہے جو پاکستان دوستی کا علمبردار ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے اس ردعمل کی وضاحت دیتے ہوئے نارویجن سفیر کو اس ڈی مارش کی وجہ اُن کی طرف سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں پاکستانی انسانی حقوق کی ایکٹیوسٹ اور وکیل ایمان مزاری کے خلاف ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں موجودگی کو بنایا گیا۔ اور سفیر محترم کی طرف سے اس سماعت کو سننا آداب سفارت کاری گردانا گیا ۔ ڈی مارش جسے سفارتی زبان میں احتجاج ریکارڈ کرانا بھی کہا جاتا ہے، ایک عمل ہے جس کو کوئی بھی ملک دوسرے ملک یا اُس کے سفارتکار کی طرف کسی غیر پسندیدہ یا پھر معاندانہ عمل کے سامنے آنے پر دیا جاتا ہے۔ یا پھر کسی سفارتکار کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل سفارتی استثنیٰ کے غلط استعمال پر سامنے آتا ہے۔ یا پھر جس ملک کا سفیر نمائیُدہ ہوتا ہے اُس ملک کے اندر کسی ایسے اقدام پر دیا جاتا ہے جس سے میزبان ملک کی شہرت یا داخلی معاملات میں دخل اندازی کا تاثر ملتا ہو۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت پاکستان ایک خود مختار ملک کی حثیت سے اپنے ملک کے اندر کسی سفارت کار کے عمل سے نا خوش ہو کر ڈی مارش کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یا پھر اس سفارتکار کے ملک کے اندر کوئی پاکستان مخالف سرگرمی انعقاد پذیر ہونے پر ایسی کارروائی کو عمل میں لاتی ہے۔ ایسی صورت میں ایسا احتجاج ریکارڈ کروانا ایک معمول ہے جسے سفارتی سطح پہ اپنایا جاتاہے۔ لیکن ناروے کے سفیر کے اس ڈیمارش نے کئی سوالات کے ساتھ حیرانی کو جنم دیا ہے اور کئی حلقوں میں اس پہ تعجب کا اظہار سامنے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناروے بظاہر ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے ساتھ گرمجوش نہ سہی لیکن دوستانہ تعلقات کی تاریخ ایک طویل عرصہ پر محیط ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پچھتر سالہ سفارتی تعلقات کے دوران کسی ایسی بحران کا نشان نہیں ملتا جس میں تعلقات میں تناؤ تو کجا سردمہری تک کا کوئی نشان ملتا ہو۔

سفارتی تعلقات استوار ہونے سے لے کر آج تک دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں اور ابھی بھی موجود ہیں۔ ناروے نے کبھی پاکستان کے ساتھ اپنی سفارتی پالیسی میں کوئی ایسا رویہ نہیں اپنایا جس میں پاکستان کو شکوہ کا موقع دستیاب ہوا ہو بلکہ ناروے اور پاکستان کے بین الااقوامی تعلقات میں بہت ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر دونوں ممالک ایک دو طرفہ اچھے سفارتی تعلقات کا دعوئ کر سکتے ہیں۔ ناروے نے بین الاقوامی سطح پر شاید ہی کبھی کسی پاکستان مخالف موقف کی حمایت کی ہو بلکہ ناروے نے ہر موقع پر بین الاقوامی اصولوں اور اخلاقیات کو مد نظر رکھ کر ہمیشہ درست موقف کی حمایت ہی کی ہے، جس میں ایک مثال مسئلہ کشمیر ہے۔ ناروے نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل کرنے کی حمایت کی ہے۔ ناروے اور پاکستان کے درمیان کبھی کسی بین الااقوامی پلیٹ فارم پر کبھی کوئی تصادم سامنے نہیں آیا ہے۔ اور نہ ہی کسی تضاد کی بنیاد پر ان دونوں ممالک کے درمیان کبھی کوئی کشیدگی سامنے رہی ہے۔ پاکستان کی طرح ناروے نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں دنیا بھر کے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔

اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو ناروے نے ہر مشکل مرحلہ میں پاکستان کی مدد اور اعانت میں ہمیشہ پہل کرتے ہوئے دل کھول کر آگے بڑھا ہے۔ چاہے وہ 2005 کا زلزلہ ہو یا حالیہ چند سال قبل کے سیلاب ہوں۔ ناروے ہمیشہ ایسی مشکل کی گھڑی میں پیش پیش رہا ہے اور مالی اور ریسکیو امداد فراہم کی ہے۔ لہذا اس ڈیمارش کے سامنے آنے پر کئی حلقوں میں حیرانی بجا نظر آتی ہے۔ کیونکہ اس طرح کے ڈیمارش تعلقات میں تناؤ کا اشارہ دیتے ہیں جو کہ بظاہر ناروے اور پاکستان کے درمیان کہیں موجود نہں۔ لہذا اس ڈیمارش سے کئی ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جن کے جواب تلاش کیے جا رہے ہیں۔

ناروے اور پاکستان کے تعلقات جہاں سفارتی سطح پہ دوستانہ ہیں تو وہیں ایک بہت بڑی سفارت کاری کا عنصر وہ پاکستانی نژاد تارکین وطن بھی ہیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے ناروے میں آباد ہیں۔ انہیں نارویجئن معاشرہ مکمل شہری حقوق کے ساتھ برابری کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ان تارکین وطن کی موجودگی پاکستان اور ناروے کے تعلقات میں قربت کو پروان چڑھا رہی ہے۔ دونوں ملکوں کی دوستی کے ساتھ عوام کی دوستی اور سفارتکاری بھی ایک بہت بڑا عنصر ہے جو دونوں ملکوں کی خوشگوار قربت میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ لہذا یہ ڈیمارش نے کئی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے اور پریشانی سے زیادہ مایوسی کا عنصر بھی غالب ہے کیونکہ پاکستان میں ناروے کے سفیر پھیر آرنے السوس کا عرصہ سفارتکاری بڑا عمدہ اور پاکستان دوستی سے بھر پور ہے۔ سفیر محترم دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ثقافت کے فروغ کے علاوہ عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کو قریب لانے میں سرگرم رہے ہیں۔ لہذا سفیر محترم کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک کھلی اور عام سماعت کے موقعہ پر حاضری کو بین الاقوامی سفارتی آداب کے خلاف قرار دینا بہت سے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔

ایک ایسی سماعت جو عام اور کھلی ہو، وہاں پر موجودگی پر پاکستان اپنے نقطہ نظر سے سوچ کر مختلف نتیجہ اخذ تو کر سکتا ہے لیکن اسے سفارتی قواعد کی خلاف ورزی ٹھہرا کر اس پر اس قدر نالاں ہونے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر یہ ایک ایسے سفارتکار کے بارے میں جس کی پچھلے ساڑھے تین سال کی کارکردگی ہر قسم کی سفارتی غلطی سے پاک ہو، جو پاکستان ناروے دوستی پر یقین رکھتا ہواور جس کی طرف سے دونوں ممالک کو قریب لانے کی کاوشیں شامل ہوں۔ پھیر آرنے السوس ایک تجربہ کار اور لائق سفارتکار ہیں جو اپنے عہدے اور پاکستان ناروے تعلقات کی حساسیت کا ادراک رکھتے ہیں۔ جو کسی بھی صورت ان تعلقات کو نقصان پہنچانے کاُ شاید سوچ بھی نہیں سکتے ۔  

اگر دیکھا جائے تو ناروے کے اندر پاکستانی سفارتکاروں کو بہت زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے جس کی بڑی وجہ وہاں پاکستانی کمیونٹی کی تقریبات ہوتی ہیں جو شاید اگر قواعد و ضوابط کے کڑے اصول کے تحت ہوں تو شاید سفارتی عملہ کے لیے ان میں شمولیت مشکل ہو جائے۔ لیکن ان باتوں کو کمیونٹی سرگرمیوں کے تناظر اور سفارتی اصولوں کی وسیع تشریع کی وجہ سے قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا ۔ راقم کو اس بات کا علم ہے کہ کئی بار ناروے میں ہندوستانی سفارتکاروں نے پاکستانی کمیونٹی تقریبات میں پاکستانی سفارتکاروں کی گفتگو کو سفارتی ضوابطہ کے خلاف تصور کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا۔ لیکن اسے نارویجن احکام کی طرف سے کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ لہذا توقع ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ بھی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ناروے پاکستان دیرینہ دوستی کی خاطر اس قدر سخت اقدام اُٹھاتے ہوئے ان دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات کے مثبت پہلوؤں کو مد نظر رکھے گی۔ تاکہ دونوں ممالک کے درمیان یہ ایشو سرد مہری کا باعث نہ بن پائے۔

خاص کر ایک ایسے سفارتکار کی موجودگی میں جس نے پچھلے چند سالوں میں اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران دونوں ممالک کے روابط کو بہتر کرنے اور مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا ہو اور جو ابھی بھی پوری گرمجوشی سے اس مشن کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پھیر آرنے کو ڈیمارش حیرت کا باعث ہے اور یہ بات تسلیم کرنا مشکل ہے کہ ایسا سفارتکار ڈیمارش کا مستحق ہو سکتا ہے۔ پاکستان ناروے کے دوستانہ تعلقات دونوں ممالک اور وہاں کے عوام کے مفاد میں ہیں جس میں پھیر آرنے السوس جیسے سفیر کا قابل تعریف رول درکار ہوتا ہے۔