کیا ڈھاکہ میں ہونے والا مصافحہ پاکستان و بھارت کو قریب لاسکتا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 01 / جنوری / 2026
ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے ایس شنکر کے درمیان مصافحہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کے بارے میں قیاس آرائیوں نے زور پکڑا ہے۔
سرکاری طور پر پاکستان یا بھارت نے اس ملاقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن اس موقع پر لی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور متعدد تبصرے دیکھنے میں آئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کی صورت حال سنگین اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں بھارتی کھلاڑیوں کو پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملانے سے روکا گیا ہے اور نئی دہلی پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ جاری رکھنے پر بضد ہے۔ بھارت ، پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کو روکنے اور سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے پر اصرار کرتا ہے جبکہ پاکستان اس قسم کی کسی بھی کارروائی کو اقدام جنگ قرار دے کر اسے مسترد کرتا ہے۔
اس ماحول میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق پاکستانی وفد کے قائد کی حیثیت سے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ڈھاکہ گئے ۔ دوسری طرف بھارتی وفد کی قیادت وزیر خارجہ جے شنکر کررہے تھے۔ تعزیت اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کو پارلیمنٹ کے ایک مہمان خانے میں بٹھایا گیا تھا۔ ایاز صادق نے بعد میں ایک ٹی وی انٹرویو میں اس حوالے سے بتایا کہ ’ ویٹنگ روم میں تمام مہمانوں کو اکٹھاکرنے کے بعد انہیں بیگم خالدہ ضیا کے جنازے پر لے کر جانا تھا۔تمام وفود اسی جگہ آ رہے تھے ۔ جب انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر پہنچے تو وہ مالدیپ اور بھوٹان کے وفود کے اراکین کے پاس گئے جبکہ میں آخر میں بیٹھا ہوا ہائی کمشنر سے بات کر رہا تھا‘۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آ گئے ہیں، کافی عجیب صورت حال تھی۔ مجھے حکومت کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں تھیں، نہ ہم امید کر رہے تھے۔ ایسے میں وہ میرے ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے ہیلو کہا۔ میں پھر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے اپنا تعارف کروایا۔ میں نے کہا ہاؤ آر یو؟ ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ’جب میں اپنا تعارف کرانے لگا تو انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ کو تعارف کی ضرورت نہیں ہے‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہائی کمشنر اور سفارت خانے کے باقی عملے سے ہاتھ ملایا اور پھر ایک صوفہ پر بیٹھ گئے۔ ایک سوال کے جواب میں ایاز صادق نے کہا کہ حال ہی میں میچ میں ہاتھ نہ ملانے کے واقعے کی وجہ سے میں نے ہائی کمشنر سے کہا تھا کہ ہماری پوزیشن بہت نازک ہو گی، ہم آپس میں بات کرتے ہیں تاکہ ہمیں ان سے گفتگو نہ کرنی پڑے ۔ ’پھر جب انہوں نے ہیلو کہا تو میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ خود آ کر کھڑے ہوئے۔ وہاں بہت سے لوگ تھے جو سب ہماری طرف دیکھ رہے تھے، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، بنگلہ دیش کے لوگ تھے‘۔کیمرے ان کے ساتھ تھے۔ ان کو پتہ تھا کہ کمرے میں پندرہ سے زیادہ لوگ ہیں۔ ہم نے تربیت لی ہے کہ کوئی خود آئے تو ہم جواب میں کیسے برتاؤ کرتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان پیش آنے والی صورت حال نے برصغیر میں محتاط امید کی کرن روشن کی ہے لیکن صرف ایک مصافحہ سے کیا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کوئی پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے؟ یوں تو دو انسانوں کے درمیان تعلقات ہوں یا دو ملکوں کے مراسم، ان میں چھوٹے چھوٹے واقعات ،سنگین تنازعہ کا سبب بھی بن جاتے ہیں اور کسی اہم موقع پر معمولی سی لچک اور خیر سگالی کا اظہار بعض اوقات مشکل مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار بھی ادا کرسکتا ہے۔ ایاز صادق اور جے شنکرکے اس مصافحہ کو اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے اور اس پر گفتگو ہورہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے سردار ایاز صادق اور ایس جے شنکر کے مصافحے کی تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر ’خیرسگالی کے کلمات کا تبادلہ‘ کیا۔ یہ مصافحہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ وقوعہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں پیش آیا۔ اس وقت نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور مودی حکومت بنگلہ دیش کے ساتھ بگڑتے تعلقات پر تشویش کا شکار بھی ہے ۔ بنگلہ دیش کی مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اس وقت بھارت ہی میں مقیم ہیں اور بنگلہ دیش انہیں واپس لاکر انہیں انسانوں کے قتل کا حکم دینے پر سزا دینا چاہتا ہے۔ نومبر میں ایک عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔
اس دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ایک سمپوزیم میں پاک بھارت جنگ میں ثالثی کرانے کا ذکر کیا ہے ۔ اس بیان پر بھی بھارت میں سیاسی طور سے بے چینی پائی جارہی ہے اور اپوزیشن مودی حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔ چین کے وزیر خارجہ نے منگل کو ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2025 کے دوران دوسری جنگ عظیم کے بعد مقامی سطح پر اور سرحد پار جنگوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی تنازعات میں بھی اضافہ ہؤا۔ ہم نے پائیدار امن کے لیے مسائل کی وجوہات اور حقیقی عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی اور منصفانہ مؤقف اختیار کیا۔ اسی حکمت عملی کے تحت چین نے شمالی میانمار، ایران نیوکلئیر معاملے ، پاک بھارت تنازعہ اور اسرائیل فلسطین جنگ میں مصالحتی کردار ادا کیا۔ حال ہی میں ہم نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جھگڑے میں بھی معاونت کی۔
گو کہ یہ بیان عالمی جیو پولیٹیکل صورت حال پر عمومی تبصرہ کرتے ہوئے ایک وسیع تر تناظر میں سامنے آیا ہے لیکن نئی دہلی میں اپوزیشن اسے نریندر مودی حکومت کی کمزوری اور سفارتی نااہلی قرار دے رہی ہے۔ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار پاک بھارت جنگ بند کرانے کا کریڈٹ لے چکے ہیں۔ البتہ بھارتی حکومت ایسے کسی مؤقف کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مئی کی جنگ میں دونوں ملکوں کے فوجی افسران کے رابطہ کے بعد جنگ بندی ہوئی تھی۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی جسے بھارتی فوج نے مان لیا تھا۔ البتہ دنیا بھر کے ماہرین ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ممالک کے درمیان جنگ کے دوران عالمی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ بہت صراحت سے امریکی کردار کے بارے میں بتاتے رہے ہیں۔ اب چینی وزیر خارجہ کے بیان سے واضح ہؤا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ایک ایسا سنگین اور ناقابل قبول صورت حال تھی کہ سب ممالک اسے ختم کرانے میں سرگرم تھے۔ اب چینی وزیر خارجہ نے اپنی حکومت کے کردار کے بارے میں بین السطور نشاندہی کی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ کیریئر ڈپلومیٹ اور انتہائی تجربہ کار سفارت کار ہیں۔ کسی دوسرے ملک کے دارالحکومت میں پاکستانی وفد کے ساتھ ان کی مواصلت نہ تو بے معنی ہوسکتی ہے اور نہ ہی یہ کوئی اچانک رونما ہونے والا وقوعہ تھا کہ جے شنکر کو مجبوراً ہاتھ آگے کرنا پڑا۔ وہ خود چل کر پاکستانی وفد کے سربراہ کے پاس پہنچے اور ان کے ساتھ عزت و تکریم سے بات کی۔ اسے اگر کوئی بڑا اشارہ نہ بھی سمجھا جائے تو بھی یہ ضرور قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے جنگ جوئی اور پاکستان دشمن نعرے بازی کے باوجود مودی حکومت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو جنگ کی بجائے مصالحت اور سفارتی طریقے سے مسائل حل کرنے پر یقین کرتے ہیں۔ ایاز صادق کی طرف جے شنکر کے بڑھے ہوئے ہاتھ کے ذریعے ان عناصر نے پاکستان کو نہیں بلکہ اپنے ملک کے حکمرانوں کو عقل کے ناخن لینے اور مسائل کا پر امن حل نکالنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ عناصر کس قدر طاقت ور ہیں اور مودی کی انتہا پسند قیادت کس حد تک اس رائے کو قابل غور سمجھتی ہے۔
پاکستان اور بھارت جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ دونوں ممالک میں کرہ ارض کے ایک چوتھائی لوگ آباد ہیں جن میں سے بیشتر غربت و محرومی کا شکار ہیں۔ مئی میں پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے بھارتی لیڈروں نے قومی و عالمی سطح پر یہ تاثر قائم کیا ہؤا تھا کہ بھارت عسکری لحاظ سے پاکستان سے بہت آگے ہے اور چند لمحوں میں پاکستان کو مغلوب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں بھارت ’کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن‘ کے دعوے کرتا رہا ہے جس میں ایک ہی ہلے میں پاکستان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا جائے گا۔ البتہ مئی کی جنگ نے کم از کم بھارتی فوجی قیادت کی یہ غلط فہمی دور کردی ہے۔ وہ پہلے بھی پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ کے خلاف تھے لیکن لگتا ہے کہ مئی کے بعد مخالفت باقاعدہ ’مزاحمت ‘ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اگرچہ انڈیا کی سیاسی لیڈروں نے اس معاملہ پر عسکری قیادت کے ساتھ کسی اختلاف کا کبھی اعتراف نہیں کیا۔ لیکن پاکستان کے حوالے سے اب خوف برتری کے زعم پر حاوی ہوگیا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی لیڈر مسلسل متنبہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر بھارت نے پھر حملہ کیا تو اس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔
ان حالات میں جے شنکر کا بڑھا ہؤا ہاتھ خیر سگالی کا ایسا محتاط اشارہ ہے جسے نہایت باریک بینی سے سمجھنے اور اسے مثبت اور قابل عمل پیش رفت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس موقع پر نئی دہلی اور اسلام آباد کی طرف سے یکساں سفارتی چابک دستی اور باہمی احترام کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ایسے مواقع ضائع ہوتے بھی دیر نہیں لگتی۔