دھورندھر: آرٹ اور بی جے پی کا نفرت بھرا بیانیہ

آج کل بھارت اور پاکستان کشیدگی کے پس منظر میں تیار کی گئی بھارتی فلم ”دھورندھر“ کے متعلق بہت چرچا ہو رہا ہے۔ بعض لوگ اسے مختلف وجوہات کے باعث تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ ایک فلم ہے اور اسے خالصتاً فلم کے طور پر دیکھا اور انجوائے کیا جانا چاہیے۔ مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔

دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور اس کے دوران ہٹلر کی حکومت نے کئی پروپیگنڈا فلمیں تیار کیں تاکہ لوگوں کو ایک مخصوص سوچ تک محدود کیا جاسکے۔ دوسری طرف ہٹلر کے مخالفین یعنی اتحادیوں نے بھی لوگوں کی ذہن سازی کے لیے پروپیگنڈا فلمیں تیار کیں۔ اسی طرح پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان نے بھی ریاستی پروپیگنڈے کے لیے متعدد فلمیں بنوائیں جن کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ سیاستدان بدعنوان اور نااہل ہیں اور جمہوریت ناکام ہو چکی ہے۔ سردجنگ کے زمانے میں امریکہ نے کئی فلموں کے ذریعے سویت یونین اور کمیونسٹوں کے خلاف سیاسی تعصب پھیلا کر لوگوں کی سوچ کو محدود کرنے کی کوشش کی۔

اب آیئے چلتے ہیں 3 گھنٹے اور34 منٹ لمبی فلم ”دھورندھر“ کی طرف۔ یہ فلم 8 ابواب پر مشتمل ہے اور سکرین پر ہر باب کا نمبر اور نام دکھایا جاتا ہے۔ یوں ایک کتاب پڑھنے یا قسطہ وار ٹی وی سیریل دیکھنے جیسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم میں حقیقی زندگی کے واقعات اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کو خیالی کہانی کے ساتھ ملا کر دکھایا گیا ہے اور حقیقی زندگی کے بعض کرداروں کے ساتھ مماثلت اتفاقیہ نہیں ہے۔

سب سے پہلے دسمبر 1999 میں انڈین ایئرلائنز کی وہ پرواز جسے دہشت گرد ہائی جیک کر کے افغانستان کے شہر قندہار لے گئے تھے، دکھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کا واقعہ دکھایا جاتا ہے۔ یوں شروع میں ہی کسی سوالیہ نشان کے بغیر بھارت کے”دشمن“ کو واضح کر دیا جاتا ہے۔ اب بھارتی انٹیلی جنس پریشان ہے کہ پاکستان بار بار دہشت گردی کے ذریعے بھارت کو نقصان پہنچا رہاہے اور بھارتی سرکار مناسب جوابی کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ یوں سیاسی اور سفارتی آلات کو لاچار دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھارتی انٹیلی جنس کے مطابق سب سے بہتر حل ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کروا دیا جائے مگر یہ ممکن نہیں کیونکہ امریکہ پاکستان کی مالی مدد کرتا ہے۔

لہٰذا آپریشن ”دھورندھر“ ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے پاکستان کو سبق سکھایا جاسکتا ہے۔ آپریشن کے مطابق انٹیلی جنس کا خفیہ ایجنٹ بلوچ بن کر”حمزہ علی مزاری“ کے نام سے افغانستان کے طورخم بارڈر کے راستے سے پاکستان پہنچ کر کراچی کے علاقے لیاری پہنچ جاتا ہے۔ تاکہ بھارت کے خلاف دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ وہاں ایک گلی میں اس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ پشتون ہے یا بلوچ۔ یوں کراچی میں لسانیت کا عکس دکھایا گیاہے۔

پلان کے مطابق حمزہ لیاری کے بدنام زمانہ رحمان ڈکیٹ کے گینگ میں شامل ہو نے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ رحمان ڈکیٹ کا تعلق بلوچستان سے ہے اور حمزہ کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ بلوچ ہے۔ لہٰذا حمزہ کو گینگ میں جلد ہی اچھی پوزیشن مل جاتی ہے۔ فلم میں لیاری کو دنیا کی تمام برائیوں کا مرکز دکھایا گیا ہے۔ وہاں بھارتی کرنسی پلیٹیں ہیں، اس لیے وہاں جعلی کرنسی نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ نومبر 2008 کے بمبئی میں دہشت گردی کے حملوں کے لیے اسلحہ بھی لیاری سے ہی جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی جس کا فلم میں نام عوامی پارٹی رکھا گیا ہے، کا لیاری کی برائیوں کے ساتھ گہرا تعلق دکھایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے راہنما نبیل گبول کا کردار جمیل جمالی کے نام سے دکھایا گیاہے۔ جمیل جمالی کی بیٹی لینا جمالی اور حمزہ کے درمیان پیار ہو جاتا ہے۔ حمزہ اپنے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے رومانس کو بھی استعمال کرتا ہے۔ آصف علی زرداری کا نام عاقب علی زرواری دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کو بھی ایک فرضی نام سے سرسری طور پر دکھایا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کے اہلکار میجر اقبال کی مدد سے رحمان ڈکیٹ اپنی جماعت پیپلز امن کمیٹی بنا کر سیاست میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہی میجر رحمان ڈکیٹ سے اسلحہ خریدتا ہے جو رحمان ڈکیٹ بلوچستان میں اپنے لوگوں سے خریدتا ہے۔ رحمان ڈکیٹ کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے جمیل جمالی کو اپنی سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا وہ رحمان ڈکیٹ کو راستے سے ہٹانے کے لیے معطل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چوہدری اسلم کو ایس پی کے منصب پر بحال کر دیتا ہے۔ چوہدری اسلم نامعلوم وجہ سے بلوچوں کو پسند نہیں کرتا۔

فلم کو اگر پروڈکشن کے لحاظ سے جانچا جائے تو یہ ایک انتہائی پروفیشنل ٹیم کی بنائی گئی فلم ہے۔ لوکیشنز اور سیٹ سچویشن کے مطابق ہیں۔ پاکستان کے مناظر تھائی لینڈ اور بھارتی شہر لدھیانہ کے ایک گاؤں میں شاندار سنیماٹوگرافی سے فلمبند کیے گئے ہیں۔ ناظرین کو متاثر کرنے کے لیے جن اجزا کا استعمال کیا گیا ہے اُن میں میوزک بہت اہم ہے۔ پرانے مشہور گیتوں کو ری کمپوز اور ری مکس کرکے بھنگڑے کی دھڑکنوں، قوالی کی دھنوں اور پاپ میوزک کو ملا کر ریٹرو میوزک کا ایک دلکش نمونہ تیار کیا گیا ہے۔

سکرپٹ بہت نِیرَس ہے۔ اس میں کوئی سوال نہیں اُٹھایا گیا، صرف جوابات ہی دیے گئے ہیں۔ یوں ناظرین کو سوچنے کے عمل سے دور رکھا گیا ہے۔ بھارت کے مناظر میں کوئی بھی مسلمان کردار نہیں دکھایا گیا، یوں بھارت کے مذہبی تنوع کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ گینگ وار، پراسرار جاسوسوں کی خیالی دُنیا اور حب الوطنی کے اندھے جذبے کو لے کر بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دشمنی کی انتہائی متنازعہ تصویرکشی کی گئی ہے۔ ہدایتکار آدتیہ دھَر نے طویل دورانیے کے پرتشدد اور اذیت ناک مناظر کو بطور تفریح پیش کرتے ہوئے ایک ایسا دم گُھٹنے والا Macho سماج دکھایا ہے، جس میں تمام اہم کردار مرد ہیں۔

ایسے میں ادکارہ سارہ ارجن کی انتہائی مختصر کردار میں متاثرکن اداکاری ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔ بڑے کرداروں میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، سنجے دت اور راکیش بیدی موزوں ہیں۔ البتہ ارجن رامپال اپنے رول سے انصاف نہیں کر سکے حالانکہ وہ ایک اچھے اداکار ہیں۔ وہ جب بطور آئی ایس آئی کے اہلکار خطاب کو”کھتاب“ اور خرید کو”کھرید“ بولتے ہیں تو بہت جعلی لگتے ہیں۔ اوپر سے ان کی داڑھی مونچھ واضح طور پر نقلی لگتی ہے۔ حالانکہ میک اپ ٹیم نے اکشے کھنہ کے لیے بہترین وگ تیار کی ہے۔ کاسٹیوم ڈیزائنر نے اچھے ملبوسات تیار کئے ہیں مگر سوشل میڈیا پر رنویر سنگھ کی شلوار قمیض پر محض اس لیے تنقید کی جارہی ہے کہ قمیض شارٹ سلیوڈ، یعنی آدھے بازؤں والی ہے۔

اس فلم کا نفرت انگیز سیاسی پیغام انسانیت کے لیے اتنا خطرناک ہے کہ اس کے آگے قمیض کے بازو بالکل غیر متعلقہ ہیں۔ فلم میں تمام بلوچوں کو پیشہ ورانہ جرائم کا کرتادھرتا دکھایا ہے اور لیاری نہ صرف ہر جرم کا مرکز ہے بلکہ بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا حصہ بھی ہے۔ پاکستان کو ایک ایسا بے قابو اور وحشی معاشرہ دکھایا ہے جو بھارت کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جب فاشزم کو معمول بنایا جارہا ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ انا نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو یرغمال بنارکھا ہے۔ ایسے میں آرٹ کی ذمہ داری لوگوں کی سوچ کو محدود کرنے کی بجائے وسیع کرنے کی ہونی چاہیے۔ اس لیے ایسی فلمیں جن میں تفریح اور پروپیگنڈا کے درمیان فرق ختم کر دیا جائے لمحہ فکر ہونا چاہیے۔

(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)