طاقت اور محبت میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا

ذورین نظامانی کون ہے، بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے۔ اس ملک میں ٹریبیون پڑھنے والوں کی تعداد بھی قابل ذکر نہیں ہے۔ مگر جب کسی چیز کو زبردستی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ زیادہ ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔

محبت کبھی طاقت سے نہیں کروائی جا سکتی، محبت کو ہمیشہ پیار، احساس اور انصاف کے ترازو میں رکھ کر ہی تولا جا سکتا ہے۔ پاکستان ٹی وی ڈراموں کی نامور اداکارہ فضیلہ قاضی کو کافی لوگ جانتے ہوں گے۔ لندن کا سفر کرتے ہوئے فضیلہ اتفاق سے دو بچوں کے ہمراہ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھیں۔ تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد میں نے پوچھ لیا کہ کیا آپ فضیلہ قاضی ہیں تو اس نے تھوڑا مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ اور اس کے بعد ہم نے سفر کو آسان بناتے ہوئے راستے میں کافی گپ شپ لگائی تھی۔

میرا اندازہ ہے کہ اس دن فضیلہ کے ساتھ جو بچے تھے، ان میں سے ہی ایک ذورین نظامانی ہو سکتا ہے جس نے انگریزی زبان میں ٹریبیون میں ایک کالم لکھ دیا ہے جس میں اس ملک کے بڑوں کو کچھ صائب مشورے دینے کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج کی نئی نسل پر آپ کے پرانے حربے کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ یہ بات آپ جتنی جلدی سمجھ جائیں گے اتنا ہی اچھا ہوگا۔ وہ مضمون زبردستی ٹریبیون سے ختم کروایا گیا ہے یا اس پر پابندی لگائی کہ اب پورا ملک اس مضمون کو پڑھ رہا ہے اور ذورین کی پہچان بھی سارے پاکستان اور بیرون ممالک ہو رہی ہے۔

اس مضمون میں ذورین نے اپنے بڑوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اب بس کیجیے، ہمیں کچھ خود بھی سمجھنے دیجیے۔ اس کالم کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وطن سے محبت زبردستی کروائی جا سکتی ہے نہ آپ کے لیکچر لوگوں کو محب وطن بنا سکتے ہیں۔ بلکہ جب عام لوگوں کو انصاف ملتا ہے، برابری ملتی ہے، بنیادی حقوق ملتے ہیں،  روزگار ملتا ہے، بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور خوشحالی آتی ہے تو ہر فرد کو خود بخود ہی وطن سے محبت ہو جاتی ہے۔

یہ کالم تو اب لکھا گیا ہے جبکہ یہ خاکسار پچھلی کئی دہائیوں سے مختلف فورمز پر، اخبارات اور سوشل میڈیا پر یہ بات عرض کرتا آ رہا ہے کہ محبت کروانی ہے تو محبت کی فصل بوئی جائے، نفرت ، طاقت اور دھونس دھاندلی سے محبت کی فصل اگائی نہیں جا سکتی۔ دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کے پاس باقاعدہ فوج بہت ہی کم ہے۔ مگر ان ممالک کا ہر فرد فوجی تربیت لے کر وطن کا رکھوالا ہے۔

جب کسی ملک میں قانون کی عملداری ہوتی ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔ جب ہر کسی کو انصاف تک باآسانی رسائی حاصل ہوتی ہے اور جب معاشرہ خوشحال ہوتا ہے تو پھر ہر کسی کے لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور ہر فرد ملک سے محبت کرتا اور قانون پر عمل کرتا نظر آتا ہے۔ جس ملک کے نوجوان ہر مشکل کا سامنا کرتے ہوئے ملک سے فرار چاہتے ہوں، وہاں آپ کے بیانیے کام آ سکتے ہیں نہ لیکچر۔ بندوق اور پابندیوں سے زیادہ دیر تک لوگوں کو ڈرایا جا سکتا ہے نہ ان کو اپنا بنایا جا سکتا ہے۔