مفرور صحافیوں کو سزاؤں سے اعتبار بحال نہیں ہوگا!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 02 / جنوری / 2026
اسلام آباد کی ایک دہشت گردی عدالت نے ملک سے مفرور متعدد صحافیوں، تجزیہ نگاروں، یوٹیوبرز اور ایک سابق آرمی افسر کو دو بار عمر قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ ان لوگوں کو یہ سزائیں سانحہ9 مئی سے متعلق مقدموں میں دی گئی ہیں۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ان لوگوں نے ڈیجیٹل دہشت گردی کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی اور لوگوں کو حملوں پر اکسایا۔
جن لوگوں کو یہ سزائیں دی گئی ہیں، وہ برطانیہ یا امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی غیر حاضری میں ہونے والی کارروائی کے دوران ان لوگوں کا مقدمہ پیش نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی انہوں نے اپنی صفائی دینے کی ضرورت محسوس کی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ضابطے کے مطابق ان سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق دینے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن اس حکم کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ یہ لوگ بیرون ملک مقیم ہیں اور ملکی سیاسی ہی نہیں بلکہ عدالتی نظام پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ ان سزاؤں کے خلاف اپیل نہیں کریں گے بلکہ ملک میں سیاسی موسم کی تبدیلی کا انتظار کریں گے تاکہ وہ واپس آکر خود کو سب سے زیادہ محب وطن ثابت کرسکیں ۔ اور عدالتیں بھی ان کے دعوؤں کو نئے سیاسی ماحول میں درست مانتے ہوئے ان سزاؤں کو کالعدم قرار دیں۔
ماضی میں چونکہ ایسی صورت حال مشاہدہ کی جاچکی ہے ، اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں دیا جاسکتا کہ آج عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والے کسی آنے والے پاکستان میں ’ہیرو‘ اور آزادی رائے کے چیمپئن کے طور پر پیش کیے جائیں۔ البتہ فی الوقت ملک میں موجود صورت حال میں ایسا امکان موجود نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ملک کو دو انتہاؤں میں تقسیم کردیا گیا ہے اور دونوں اپنے اپنے ہتھیار اٹھائے ایک دوسرے پر الزامات کے تیر برسانے میں مستعد ہیں۔ اسے عام طور سے سوشل میڈیا پر جاری مہم جوئی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حکومت انہی حالات پر قابو پانے کے لیے زیریں عدالتوں سے ایسے لوگوں کو بھی سزائیں دلانے کا اہتمام کررہی ہے جوبظاہر نہ تو اس کی دسترس میں ہیں اور نہ ہی اس بات کا امکان ہے کہ انہیں کسی عالمی طریقہ کار کے تحت ملک واپس لاکر جیلوں میں بھیجا جاسکے گا۔
پھر انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کو ملک کے متعدد نامور اور جانے پہنچانے صحافیوں کو طویل المدت یا دوسرے لفظوں میں عبرت ناک سزائیں دے کر کیا حاصل ہوگا؟ عدالت کی حد تک تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اپنا فریضہ نبھایا ہے۔ اب یہ اس کے سوچنے کا معاملہ نہیں ہے کہ سزائیں پانے والے لوگ ملک میں موجود نہیں ہیں یا وہ کبھی جیل نہیں بھیجے جاسکیں گے۔ انگریزی محاورے کے الفاظ میں ’کتاب کے مطابق‘ ہونے والی اس کارروائی کے بارے میں اگر یہ سو فیصد سچائی ہوتی تو اس پر تشویش یا پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ بدقسمتی سے ملکی عدالتی نظام کے بارے میں جو تاثر عام ہے اور جیسے یہ نظام حکومت مخالفین و حامیوں کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے دو مختلف پیمانے استعمال کرتا ہے، اس کی روشنی میں یہ معمول کی عدالتی کارروائی سے بڑھ کر معاملہ کہا اور سمجھاجائے گا ۔ اسے اسی طرح بیان بھی کیا جائے گا۔ اس تاثر کے حوالے سے ان سزاؤں پر غور کرتے ہوئے یہ سوال اٹھانا پڑتا ہے کہ حکومت یا ملک کے طاقت ور ادارے، سانحہ 9 مئی کے دو اڑھائی سال بعد محض زبانی یا تحریری طور پر حکومت یا ریاست مخالف مؤقف اختیار کرنے والوں کو سزائیں دلا کر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
اس کا پہلا اور بنیادی مقصد تو یہی ہوسکتا ہے کہ خوف کی فضا پیدا کی جائے۔ بیرون ملک مقیم لوگوں کی گرفت نہ بھی کی جاسکے تو بھی انہیں اس عدالتی حکم کے ذریعے یہ پیغام ضرور بھیجا جائے کہ ان کے اقدامات کو معاف نہیں کیا جائے گا ا ور ریاست پاکستان ان عناصر کا پیچھا کرے گی۔ اس سے زیر غور مقدموں میں سزائیں پانے والے لوگ تو شاید بہت ’خوفزدہ ‘ نہ ہوں لیکن اس سے ان کی پیروی کرتے ہوئے ویسا ہی طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کرنے والے دیگر عناصر کو متنبہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ ریاست اب سوشل میڈیا پر جھوٹ سچ کی ملاوٹ سے پیش کیے جانے والے بیانیے کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ بلکہ اس میں جو بھی ملوث ہوگا، اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وارننگ سے بیرون ملک سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف محاذ آرا عناصر پر تو شاید کنٹرول ممکن نہیں ہوگا لیکن ملک کے اندر اظہار رائے کی صورت حال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ کچھ صحافی احتیاط کی وجہ سے، کچھ خوف کے سبب اور کچھ اپنے اداروں کی مجبوریوں کے باعث، انصاف و آزادی یا سیاسی حقوق کے سوال پر جائز سوال اٹھانے سے بھی گریز کریں گے۔
یہ سزائیں دینے سے ممکنہ طور سے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے کہ جن لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں ، وہ ان کی سنگینی اور پاکستان میں اپنے تمام راستے مسدود ہونے کے خوف میں درپردہ حکومت سےیا بعض بااثر اداروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کریں گے۔ یا وہ پروپیگنڈا و رنفرت کی مزیدمہم جوئی کا حصہ نہیں بنیں گے ۔اور دوسرے شاید حکومت کے ساتھ ’ڈیل‘ کے نتیجے میں ایک بار پھر انہیں اداروں کے زیر سایہ آنے کی کوشش کریں جن کی آغوش التفات میں پرورش پاکر وہ مائیکروفون کو ہتھیار بنانے کے قابل ہوئے تھے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کا یہ فیصلہ اگر سوشل میڈیا کے ذریعے امریکہ و برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کرنے والے عناصر کے لب و لہجہ پر اثر انداز ہوتا ہے یا مستقبل میں یہ لوگ اپنی زہر ناکی سے تائب ہوجاتے ہیں تو بھی کہا جائے گا کہ حکومت کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے ایک حد تک یہ واضح کرنے اور تسلیم کرانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ موجودہ نظام مستحکم ہے اور نفرت انگیز مہموں یا سیاسی مظاہروں سے اسے تبدیل کرنے کا امکان نہیں ہے۔ یہ صورت حال بعض لوگوں کے حوصلے کمزور کرنے کا سبب ضرور بن سکتی ہے۔ لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والے لوگ ان ذرائع سے بے شمار مالی وسائل حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس کشش کے ہوتے ہوئے ایک عدالتی فیصلہ شاید ان لوگوں کو ’راہ راست‘ پر لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
اس واقعاتی یا زمینی حقائق کے مطابق صورت حال سے قطع نظر اگر اس معاملہ کو آزادی رائے اور عدالتی نظام کے درمیان توازن کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ عدالتی حکم بے بنیاد اور ناجائز ہے۔ اول ایک وقوعہ کے اڑھائی سال بعد محض ریڈیائی نعرے لگانے والوں کو سزائیں دینا غلط ہے۔ دوسرے کسی عدالت کو بھی کسی صحافی یا میڈیا پرسن کی غیر موجودگی میں اسے اپنے دفاع کا مناسب موقع فراہم کیے بغیر طویل المدت سزا دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ اس سے ملکی عدالتوں کے بارے میں اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنے کی بجائے حکومتی آلہ کار کے طور پر خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ ایسی شہرت کسی بھی ملک کے عدالتی نظام کے لیے مناسب نہیں ہوسکتی۔ خاص طور سے ایک ایسے ماحول میں یہ تاثر مزید افسوسناک ہوسکتا ہے جب ملک کی ایک اہم سیاسی پارٹی اور اس کے لیڈروں کو عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات کا سامنا ہے۔ عدالتوں کی غیر جانبداری کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات ناانصافی کی شکایات میں اضافہ کریں گے ۔ اس ماحول میں جمہوری تقاضے پامال ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک طرف ملک میں میڈیا کو پابہ زنجیر کیا جارہا ہے تو دوسری طرف بیرون ملک بیٹھے بعض عناصر تمام صحافتی و اخلاقی اقدار کے برعکس جھوٹ اور شر پسندی پھیلاکر ماحول خراب کرتے ہیں۔ عوام کے پاس چونکہ جھوٹ سچ کو نتھارنے کا کوئی آلہ نہیں ہوتا ، اس لیے وہ اپنی سیاسی سوچ یا پسند و ناپسند کے مطابق جھوٹ کو بھی دنیا کی سب سے بڑی سچائی سمجھنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سےسوشل میڈیا کے ذریعے ففتھ جنریشن وار کے نام پر یہ مہم جوئی انہی ریاستی اداروں نے ایک خاص سیاسی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے شروع کی تھی جو اس وقت خود سے ’باغی‘ ہوجانے والے ان عناصر کی زد پر ہیں۔ ملکی اداروں کے لیے ماضی قریب کا یہ سبق بھی عبرت ناک ہونا چاہئے اور اس سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ البتہ میڈیا کے مفرور لوگوں کو سزائیں دلا کر سیکھنے کا یہ عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
سادہ لفظوں میں سوال کیا جاسکتا ہے کہ پھر اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اس کا سوال بھی اتنا ہی سادہ اور آسان ہے۔ میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور صحافیوں کو مقررہ پیشہ وارانہ ضوابط اور ملکی قوانین کے مطابق اپنے ضمیر کی آواز کی روشنی میں فرائض ادا کرنے کا موقع دیاجائے۔ جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ اور نفرت کا نفرت سے نہیں ہوسکتا۔ ریاست اور حکومت اگر اس اصول کو سمجھے اور سچ پیش کرنے اور نفرت سے گریز کی پالیسی اختیار کرے تو وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔