امریکا نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے بیرون ملک منتقل کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے کامیابی کے ساتھ وینزویلا اور اُس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔ مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔
یہ اعلان امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید معلومات پریس کانفرنس میں فراہم کی جائیں گی۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ایک آڈیو میں کہا ہے کہ حکومت کو صدر نکولس مادورو یا ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورز کی زندگی کے فوری ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دریں اثنا، وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے امریکا پر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ لوپیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حملہ آور امریکی افواج نے ہماری سرزمین کی بے حرمتی کی ہے اور یہاں تک کہ جنگی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر کے مطابق ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکے ہوئے۔ سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور طیاروں کی پروازیں نظر آئیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے جنوبی حصے میں، ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ صورتحال کس وجہ سے پیدا ہوئی، جو تقریباً رات دو بجے شروع ہوئی
کاراکس میں مقیم صحافی وینیسہ سلوا نے اپنی کھڑکی سے دھماکے کا منظر دیکھا۔
بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آواز بہت زور دار تھی جس سے ان کا گھر لرزنے لگا۔ وینیسہ نے بتایا کہ کاراکس ایک وادی میں واقع ہے، اس لیے آواز پورے شہر میں گونجتی رہی۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ میں خوفزدہ تھی کہ دھماکے بہت قریب محسوس ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اب شہر میں خاموشی ہے لیکن لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج کر خیریت دریافت کر رہے ہیں۔ ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ انہوں نے آسمان سے کچھ گرتے دیکھا اور دس سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکا سنائی دیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے دعوے کرتے رہے ہیں اور انہوں نے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا دانشمندانہ ہوگا۔ مادورو نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے وینزویلا کے پانیوں میں آنے جانے والے تمام پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ پابندیوں میں توسیع اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں درجنوں بحری اہداف پر حملے بھی کیے گئے۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس وقت کاراکاس پر بمباری ہو رہی ہے اور فوری عالمی اجلاس کا مطالبہ کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے دعووں کی مزید تفصیل نہیں دی۔ امریکا نے خطے میں فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جن میں طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ جبکہ مادورو حکومت منشیات اسمگلنگ میں کسی بھی کردار سے انکار کرتی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ وینزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔
وینزویلا کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری بیان کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین پر کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتا ہے‘۔