وینزویلا: نائب صدر ڈیلسی نے اقتدار سنبھال لیا
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیے جانے کے بعد وینزویلا کی عدالت عظمیٰ نے نائب صدر ڈیلسی کو عارضی طور پر عہدہ سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔
وینزویلا کی سپریم کورٹ نے رات گئے حکم نامہ جاری کیا کہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز انتظامی تسلسل اور ملک کے ہمہ جہت دفاع کی ضمانت کے لیے قائم مقام کی حیثیت سے صدارتی دفتر سے وابستہ تمام تر صفات، فرائض اور اختیارات سنبھالیں اور ان کا استعمال کریں۔
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ملک پر ہونے والی مسلح جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ ملک کی دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے۔ روڈریگز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مزید ردعمل آئندہ چند گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے، یہاں ایک واضح حکومتی نظام موجود ہے، وینزویلا باوقار اور قانونی مکالمے کے لیے تیار ہے۔
عدالت عظمیٰ کے ججوں نے مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے غیر حاضر قرار دینے سے گریز کیاکیوں کہ اس فیصلے کی صورت میں 30 دن کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہوتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ جب تک اقتدار کی محفوظ منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی، امریکہ وینزویلا کو چلائے گا، امریکی تیل کی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔
وینزویلا کی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ امریکا کا حملہ صرف تیل اور معدنیات پر قبضہ کے لیے کیا گیا، امریکی صدر ٹرمپ نے بالواسطہ طور پر اس بات کی تصدیق بھی کر دی۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو چلانے کے دعوے کو مسترد کیا اور واضح کیا کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا، صدر مادورو کو اغوا کیا گیا ہے۔ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے صدر ہیں۔
ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے عوام صبر اور اتحاد سے کام لیں۔ امریکی فوج کی کارروائی کے بعد ہم وینزویلا کے دفاع اور اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے تیار ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی کو بطور صدر حلف دلا دیا گیا ہے۔نائب صدر ڈیلسی نے مارکو روبیو سے بات کی ہے، ڈیلسی روڈریگیز وینزویلا کو دوبارہ عظیم بنانے کیلئے پر عزم ہیں۔
دوسری جانب سے وینزویلا کی حکومت نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے کا جواب دینے کیلئے وینزویلا کی خصوصی دفاعی کونسل بلا لی ہے۔
دریں اثنا چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے وینیزویلا میں کارروائی کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور جنوبی امریکا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے چین نے روس اور ایران کے ساتھ صف آرا ہو کر مادورو کے اتحادیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جنہوں نے پہلے ہی امریکی کارروائی کو مسترد کیا تھا۔
امید کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز اس حملے پر اجلاس منعقد کرے گی، جس نے دنیا کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے متضاد ردعمل کو جنم دیا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان خیل پینتو سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔ اس ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے امریکہ کی جانب سے وینیزویلا پر حالیہ حملے کے اثرات اور تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق عباس عراقچی نے امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ وینیزویلا کے قانونی صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا ’ریاستی دہشت گردی‘ اور اس ملک کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہے۔‘
عراقچی نے اس موقع پر ایران کی جانب سے صدر نیکولس مادورو، ان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ ایران اور وینیزویلا طویل عرصے سے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ نے بھی ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وینیزویلا کے عوام اور حکومت اپنی خودمختاری اور حقِ خودارادیت کے دفاع کے لیے امریکہ کی ’غیر قانونی اور زور زبردستی کی سخت پالیسیوں‘ کے مقابلے میں پرعزم ہیں۔