کراچی میں افغانستان سے لایا گیا 2 ہزار کلو بارودی مواد برآمد، 3دہشتگرد گرفتار

  • سوموار 05 / جنوری / 2026

کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا۔ دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد قبضے میں لےکر ایک دہشت گرد کو موقع سے گرفتارکرلیا۔ بعد ازاں گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر کراچی میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا۔ دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے۔ پلاسٹک کے ڈرمز میں موجود کمرشل ایکسپلوسیو اور مکس بارودی مواد شامل ہے۔ یہ مواد بالکل تیار تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ اس دہشت گردی کے منصوبے کے پیچھے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ یہ منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا جن کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پکڑے گئے افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک اور کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی رات کو کی اس لیے ماہرین کی رائے اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔