سال 2026 کی خوش فہمیاں

کہتے ہیں کہ انسان جیسا گمان کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی وہی کچھ عطا فرماتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ہمیشہ خیر کی توقع کریں، مثبت رہیں تاکہ انسان کے معاملات میں بھی بہتری رہے۔ سو سال 2026 کے آ غاز میں ہی یار لوگوں نے خوش گمانیاں اور خوش فہمیاں پالنی شروع کر دی ہیں۔

نجانے کتنے ہی سالوں سے ہم ہر آ نے والے نئے سال سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں اور جب سال کے اختتام پر ان ساری امیدوں پر پانی پھرتا نظر آ تا ہے تو ہم نئے سال سے یہ شکوہ کرتے نظر آ تے ہیں کہ:
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا رکھا کیا ہے

جانے والے سال کے اختتام پر حسب روایت شادیوں کی بھر مار رہی۔ سڑکوں پر ٹریفک کا رش رہا اور سال نو شور شرابے اور ہلے گلے کے ساتھ شروع ہوا۔ سال گزشتہ میں بنیان المرصوص کے ذریعے بھارت کے دانت کھٹے کئے گئے اور اب نئے سال میں بھی یہی عزائم ہیں کہ حق اور سچ کا بول بالا رہے گا۔ ہر سال نئے جذبوں اور ولولوں کے ساتھ پی شروع ہوتا ہے۔ اس بار حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات میں دس روپے کی کمی سے نئے سال کی شروعات بھی خوش کن ہے۔ خدا کرے کہ آ نے والے دنوں میں مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے بھی پورے ہوں۔

ہر سال حکومت کی طرف سے دھوم دھڑکے کے ساتھ بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ بلند بانگ دعوے بھی کئے جاتے ہیں۔ لیکن ہر سال بجٹ خسارے کا پیش ہوتا ہے اور یہ خسارے سال کے اختتام تک بھی پورے نہیں ہو پاتے۔ کاش سال 2026 میں پیش کیا جانے والا بجٹ عوامی بجٹ ثابت ہو سکے جو واقعی عوام کی توقعات کے مطابق ہو۔ تعلیم کے شعبے میں بھی خاطر خواہ ترقی ممکن ہو سکے۔ تعلیم کو انڈسٹری اور کمرشل ازم ڈے نکالنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت اور ہمارے اداروں کو چائیے کہ وہ نئے سال کے کچھ اہداف مقرر کریں اور سال کے اختتام پر دیکھیں کہ ان میں سے کتنے پورے ہوئے ہیں اور کتنے ابھی باقی ہیں۔ اس لئے احمد فراز نے کہا تھا کہ:

ہر نئے سال کی آمد پہ یہ خوش فہم ترے
پھر سے آراستہ کرتے ہیں در و بام اپنے

پھر سے واماندہ ارادوں کو تسلی دینے
ہم بُھلا دیتے ہیں کچھ دیر کو آلام اپنے
گل شدہ شمعوں کو ہم پھر سے جلا دیتے ہیں
پھر سے ویرانیٔ قسمت کو دعا دیتے ہیں
یوں ہی ہر سال مرے دیس کی بے بس خلقت
پھر سے ادوار کے انبار میں دب جاتی ہے
خود فریبی کے تبسم کو سجا لینے سے
اک نظر دیکھ یہ انبوہ در انبوہ غلام
جو فقط شومیٔ تقدیر سے وابستہ ہیں
ان کو کچھ بھی تو بجز وعدۂ فردا نہ ملا

سو اب اس نئے سال کے خوش فہموں کو بھی بہت سی خوش فہمیاں ہیں۔ کاش اس نئے سال میں ہر بے روزگار کو روزگار ملے، ہمارے وطن کے نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر اور تکمیل کے لئے پردیس کے کشٹ نہ کاٹنے پڑیں۔ طالب علم ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے خوار ہوتے نظر نہ آ ئیں۔ کاش اس سال میرٹ کا بول بالا اور سفارش کا خاتمہ ہوا۔ کاش اس سال ہمارے حکمران پروٹوکول کلچر کا خاتمہ کریں اور عوامی نمائندے اپنے اپنے حلقوں کے عوام کے مسائل سے آ گاہی حاصل کریں۔ اسمبلیوں میں محض اپنے لئے نہیں بلکہ عوام کے لئے قانون سازی ہو:
دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
ایک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

کاش یہ خوش فہمی پوری ہو۔ نہیں تو لوگ قتیل شفائی کے اس شعر کو گنگناتے دکھائی دیں گے کہ:
‏جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

سو حکومت کو بھی چاہئے کہ محض کاغذی منصوبوں سے عوام کا پیٹ نہ بھرے،
عوام کو اس کے حقوقِ ملیں۔ عدالتوں سے مظلوموں کو انصاف ملے، بے گھروں کو گھر اور بے روزگاروں کو روزگار ملے۔ ملک میں ایک آزاد الیکشن کمشن کا قیام ہو جو اپنی آ ئنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ پوری کرے۔ تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت اور سیاست دان کو دھاندلی کا واویلا نہ مچانا پڑے۔

ملک میں امن وامان قائم کرنے والے، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کرنے والے ادارے بھی اپنا فعال کردار ادا کریں۔ ملک کی معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات کریں۔ صنعت کاروں، ٹیکس گزاروں اور چھوٹے تاجروں کے لئے سہولیات اور مراعات فراہم کریں۔ پی آئی اے کو اونے پونے بیچنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس سال اسے منافع بخش بنا کر لوگوں کو مطمئن کریں۔ اسٹیل ملز اور ریلوے کی حالت زار بہتر بنائیں۔ ملک کو کرپشن فری بنائیں۔ اساتذہ کی عزت نفس بحال کرتے ہوئے ان کے جائز مطالبات حل کریں۔ ملازمتوں سے جبری برطرف کئے گئے ملازمین کی فوری بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں۔

بنکوں اور دیگر اداروں کے پنشرز کے عدالتوں میں پڑے برسوں کے معاملات کی شنوائی کریں تاکہ ہم بجا طور پر کہہ سکیں کہ ہم نے اس نئے سال کے دامن سے بہت سی خوشیاں کشید کی ہیں۔ اور یہ نیا سال ہماری امیدوں اور امنگوں کا آ ئینہ دار ہے:
پھر نیا سال نئی صبح نئی امیدیں
اے خدا خیر کی خبروں کے اجالے رکھنا