گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش
- تحریر خالد محمود اوسلو
- سوموار 19 / جنوری / 2026
قطب شمالی کے قریب موجود دنیا کے سب سے بڑے جزیرہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے پر مبنی صدر ٹرمپ کا مطالبہ مغربی دنیا میں ایک سیاسی بھونچال کی صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ یہ جزیرہ پچھلی پانچ صدیوں سے ڈنمارک کے زیر تسلط ہے اور ڈنمارک امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کے ساتھ یورپ اور امریکہ کے دفاعی اتحاد نیٹو کا بانی رکن ہے۔
امریکی صدر کی طرف سے ایک اتحادی ملک سے اس کی سرزمین پر قبضہ کرنے کی خواہش نے دنیا بھر اور خاص کر یورپ کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے بین الااقوامی امور کے ماہرین اس امریکی خواہش کی کوئی منطقی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک اتحادی ملک سے اس کا حصہ اس لیے لیا جا رہا کہ اُس اتحادی کے پاس اس کے رہ جانے سے امریکہ کے دفاع کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
گرین لینڈ کو دفاعی نقطہ نظر کے پیش نظر اپنے قبضہ میں لینے کی صدر ٹرمپ کی منطق اس لیے سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ جزیرہ مکمل طور پر امریکہ کے اتحادی اور نیٹو کے رکن ڈنمارک کا حصہ ہے اور اس کے علاوہ آج بھی گرین لینڈ پہ امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ 1951 کے دفاعی معاہدہ کے تحت امریکہ کو اس جزیرہ پہ ہر طرح کی دسترس حاصل ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جس کا رقبہ بیس لاکھ چھیاسٹھ ہزار مربع کلو میٹر پر محیط ہے۔ یہ رقبہ 80 فی صد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ جزیرہ جغرافیائی طور پر براعظم شمالی امریکہ کا حصہ ہے جبکہ یہ ملکیت ڈنمارک کی ہے۔ اس کی کل آبادی پچپن ہزار ہے۔
یہ جزیرہ ڈنمارک نے ناروے سے قبضہ میں لیا تھا۔ اس کے ڈنمارک کے قبضہ میں جانے کی تاریخ بھی بڑی دلچسپ ہے۔ گرین لینڈ باضابطہ طور پر تیرھویں صدی میں نارویجن سلطنت کا حصہ بنا اور آج سے کوئی پانچ صدیاں قبل تک آئس لینڈ اور فیئروآئی لینڈ کے ساتھ ناروے کی ملکیت رہا۔ لیکن 1536 میں جب ڈنمارک نے ناروے کی خودمختار حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے ڈنمارک میں شامل کر لیا تو ناروے، ڈنمارک کا حصہ بن گیا۔ گو ناروے کی قومی حثیت برقرار رہی۔ 1814 میں نپولین کی افواج کو ایک طویل جنگ میں حتمی شکست ہوئی تو ڈنمارک نپولین کا اتحادی ہونے کے ناطے شکست خوردہ اتحاد کا حصہ تھا۔ اس وقت نپولین کے مخالف فاتح اتحاد میں شامل سویڈن نے مطالبہ کیا کہ جنگ میں فتح کے طور پر بطور خراج ناروے کو سویڈن کے حوالے کیا جائے۔ لہذا 1814 کو جرمنی کے شہر کیل میں طے پانے والے معاہدہ کے تحت ناروے کو ڈنمارک سے لے کر سویڈن کے زیر تسلط دے دیا گیا۔
لیکن اس وقت ناروے کے پرانے علاقے آئس لینڈ، فیھرو لینڈ اور گرین لینڈ کو بدستور ڈنمارک کے زیرتسلط ہی رہنے دیا گیا۔ ناروے نے کیل معاہدہ کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور اُسی کے احتجاج میں سترہ مئی 1814 میں اپنا آئین بنا کر خودمختاری کا اعلان کر دیا تھا، جسے اس وقت کی بڑی طاقتوں نے رد کرتے ہوئے ناروے کو نیم خودمختاری دے کر سویڈن کے زیر انتظام دے دیا تھا۔ لیکن ناروے والوں نے 1819-1821 میں اپنے پرانے ذیلی علاقے گرین لینڈ وغیرہ کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا تھا جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ ناروے نے 1905 میں مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل کرنے کے بعد گرین لینڈ پر اپنا حق جتلاتے ہوئے اس کو واپس حاصل کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی عرصہ کے دوران ناروے نے اپنے ان پرانے علاقوں کو حاصل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا۔ جبکہ اسی عرصہ کے دوران ناروے نے ایک دوسرے بڑے جزیرے سوالبارد جو کہ بیرنٹ سمندر میں تھا، کو حاصل کرنے کے لیے بھی تگ و دو شروع کر دی۔
ناروے کے لیے قطب شمالی کے قریب یہ جزیرے تاریخ اعتبار سے اس لیے اہمیت کے حامل تھے کہ نارویجن ایک مچھیرا قوم ہے جس کے لیے ان سمندروں میں مچھلی اور دوسری قدرتی حیات کے وسائل بقائے حیات کی حثیت رکھتے ہیں۔ جو اس کی قدیم ثقافت کا حصہ ہیں ۔ ناروے نے جب سوالبارد پر اپنے مطالبہ کے لیے کام شروع کیا تو ڈنمارک نے ناروے کو پیشکش کی کہ اگر وہ گرین لینڈ پر ڈینش حاکمیت کو تسلیم کر لے تو ڈنمارک سوالبارد کے معاملہ میں ناروے کے مطالبہ کی کھل کر حمایت کرے گا۔ اس وقت کے نارویجن وزیرخارجہ نے کسی حد تک اس پیشکش کو قبول کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ لیکن ناروے نے بعد میں اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے گرین لینڈ پر اپنا حق ملکیت جتانے سے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
1922 میں ناروے نے جب گرین لینڈ کے مشرق میں خلیج مچھر myggbukta پر ایک ٹیلی گراف اسٹیشن قائم کیا تو ڈنمارک نے اس پہ احتجاج کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں مشرقی گرین لینڈ پر کسی بھی ملک کی حتمی حکمرانی کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ اس طرح ناروے کو 1944 تک وہاں ماہی گیری اور دوسری سمندری حیات کے شکار کرنے کے حقوق مل گئے۔ اسی عرصہ کے دوران چند نارویجن باشندوں نے جن کی سربراہی سمندری حیات کے شکاری ہالودان کھوت کر رہا تھا، نے اپنے طور پر ایک بڑے علاقے پر قبضہ جما لیا۔ گو یہ قبضہ نجی حثیت میں کیا گیا تھا لیکن ناروے نے اس کی حمایت کرتے ہوئے ہالودان کھوت کو وہاں پر مجسٹریٹی اختیارات تفویض کر دیے، جو اسے 1932 تک حاصل رہے۔ جب باضابطہ طور پر ایک سرکاری نارویجن نمائندہ پہنچا۔
اس عرصہ کے دوران غیر آباد گرین لینڈ کے مشرقی حصہ پر نارویجن باشندوں نے ڈیرے ڈالے رکھے اور کچھ عرصہ تک گرین لینڈ کا مشرقی حصہ ناروے کے قبضہ میں رہا۔ لیکن پھر یہ معاملہ دونوں ممالک ہاگ کی بین الااقوامی عدالت میں لے گئے جس نے 1933 میں فیصلہ ڈنمارک کے حق میں دیتے ہوئے ناروے کے مطالبہ کو رد کر دیا۔ اور اس طرح پورا گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ گرین لینڈ شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ہے اور بڑی حد تک غیرآباد یہ جزیرہ اس وقت عالمی سطع پر بڑی طاقتوں کے لیے تزویراتی اعتبار سے اہمیت حاصل کر چکا ہے۔ خاص کر مستقبل کی دفاعی صنعت میں نایاب معدنیات کی اہمیت کے پیش نظر کلیدی حثیت حاصل کر چکا ہے۔ کیونکہ یہاں پر ان معدنیات کے بڑے ذخائر پائے جانے کی شواہد موجود ہیں۔
امریکہ کی طرف سے گرین لینڈ کو اپنے قبضہ میں لانے کی خواہش کوئی نئی نہیں ہے۔ بلکہ 1867 میں بھی امریکہ نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ولیم سیورڈ نے ڈنمارک سے گرین لینڈ اور آئس لینڈ لینے کی باضابطہ کوشش کی تھی جو بارآور نہ ہو سکی۔ پھر 1946 میں امریکی صدر ہیری ٹرومین نے ایک سو ملین ڈالر کے عوض گرین لینڈ کو ڈنمارک سے خریدنے کی پیشکش کی جسے ڈنمارک کی طرف سے رد کر دیا گیا تھا۔ لیکن اُسی تناظر میں 1951 میں امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان دفاعی معاہدہ طے ہوا جس کے تحت وہاں پر امریکی فوجی اڈے، موسمایاتی سٹیشن اور انتباہی اطلاعاتی نظام کو تعمیر کیا گیا۔ یہ اس وقت سویت یونین کے ساتھ جاری تناؤ کے پیش نظر سے دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ لیکن پھر سویت یونین کے اختتام پر وہاں امریکی دلچسپی کم ہونے لگی۔
امریکہ کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کے اب چین اپنی مضبوط ہوتی معیشت کے نتیجے میں روس کے تعاون سے گرین لینڈ کی معدنیات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ لہذا اس کا تداراک یہ ہے کہ گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کر لیا جائے۔ لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کو دفاعی تقاضوں اور نایاب معدنیات کی ضرورت کے پیش نظر امریکہ کا حصہ بنانے کی تجویز اس کے یورپی اور نیٹو اتحادیوں کو بہت ناگوار گزر رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یورپ کی لاچاری اور بے بسی سب پہ عیاں ہے۔
امریکہ کے یورپی اتحادی اور نیٹو اتحاد کے رکن ممالک جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اگر اپنی خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو وہ کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔ اور بادل نخواستہ اسے قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ حقیقت میں سب یورپی سربراہان مملکت جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اس معاملہ میں سنجیدہ ہیں اور یہ کسی حربہ بازی کا حصہ نہیں۔ صدر ٹرمپ یورپی اتحادیوں کے شکوہ کے جواب میں مزید تلخ رویہ اپنا رہے ہیں۔ حال ہی میں چند ممالک کی طرف سے اظہار یکجہتی کے طور پر گرین لینڈ فوجی افسران کی آمد نے صدر ٹرمپ کو مزید سیخ پا کر دیا ہے اور انہوں نے ان ممالک پر مزید ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یورپ کی طرف سے امریکی صدر کو اس خواہش سے اجتناب کی کوئی حکمت عملی کار گر نہیں ہو پا رہی۔ خوشامد سے لے کر دوستی کا حوالہ اور پھر نیٹو کے مستقبل پر سوالیہ نشان تک کوئی اثر نہیں دکھا رہے، جس سے بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ گرین لینڈ امریکی قبضہ میں چلا جائے گا۔
دیکھنا صرف یہ باقی ہے کہ اس پر عمل کس انداز میں کیا جاتا ہے۔ یورپ کا تو اپنے دفاع کا مکمل انحصار امریکہ پر ہے چہ جائیکہ امریکی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے۔ لہذا اگر امریکہ خود اس سے پیچھے نہیں ہٹتا تو پھر صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ دھونس بروئے کار لائی جاتی ہے یا پھر یورپ کی ساکھ کا کوئی خیال رکھتے ہوئے ایسا عمل کیا جاتا ہے جس سے یورپ کی رسوائی کا تاثر نہ اُبھرے۔ توقع یہی ہے کہ یورپی توقیر کا خیال رکھا جائے گا۔ لیکن اس کا دارومدار صدر ٹرمپ اور امریکہ کی مرضی پر ہے۔
موجودہ حالات میں یورپ اپنی دفاعی مجبوریوں کے پیش نظر امریکہ کی محتاجی کے باعث کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ لہذا اس سارے بحران سے یورپ کے لیے باعزت نکلنے کی چابی امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔