لوح اعزاز اور اعتراف فن
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 19 / جنوری / 2026
ادیب شاعر دانشور صحافی اور اہل قلم کسی بھی ملک اور قوم کا اثاثہ اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ارباب اختیار واقتدار کی طرف سے بھی ان کی پذیرائی ہو تو ان کی اہمیت اور بھی دوچند ہو جاتی ہے۔ اور وہ معاشرے کی ترقی کے لئے مزید مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
حکومتی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جنوبی پنجاب کے اہل قلم کی پذیرائی کا ایک قابل ستائش سلسلہ ملتان ڈویژن کے انتظامی سربراہ جناب عامر کریم خان کی کاوشوں سے ان کے گھروں پر لوح اعزاز لگانے کا شروع کیا گیا ہے۔ کتاب کلچر اور چائے خانے اور کیفے کا ماحول دلکش بنانے اور مکالمے اور ڈائیلاگ کی فضا بنانے کے لئے بھی ضلع کی سطح پر کاوشیں جاری ہیں۔ ملتان کے قلعہ کہنہ پر موجود پبلک لائبریری کے عقب میں ایک کیفے کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سینئر ادیبوں کی پذیرائی کے لئے ان کے گھروں پر لوح اعزاز نصب کرنا دراصل ان کے فن اور شخصیت کا اعتراف کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں ممتاز محقق دانشور ادیب ماہر تعلیم سابق کنٹرولر اور چیئرمین ملتان بورڈ جناب ڈاکٹر مختار احمد ظفر کے گھر لوح اعزاز لگائی گئی ہے جس میں کمشنر ملتان ڈویژن جناب عامر کریم خان اور ملتان کے نمایاں اہل قلم نے بھرپور شرکت کی۔
ڈاکٹر مختار ظفر کے گھر لوح اعزاز لگانے کے بعد اب یہ تعداد ایک درجن تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے مرزا ابن حنیف، ڈاکٹر اسلم انصاری، ڈاکٹر اسد اریب، پروفیسر حفیظ الرحمن خان، ڈاکٹر حنیف چوھدری، محمد علی واسطی، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر شمیم حیدر ترمذی، خالد مسعود خان اور قمر رضا شہزاد کے گھروں پر بھی یہ لوح اعزاز نصب کی جا چکی ہیں۔ امید ہے آ نے والے دنوں میں ڈاکٹر محمد امین، پروفیسر انور جمال، محترمہ ثریا ملتانیکر اور دیگر سینئر اور میرٹ پر آ نے والے اہل قلم کے گھروں پر لوح اعزاز نصب کرنے کا سلسلہ بھی جاری وساری رہے گا۔
ان تقاریب کی میزبانی اور مہمان داری بھی کمشنر ملتان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسٹنٹ کمشنر جناب فہد رقیب اور پی آ ر او محترمہ ارم سلیمی اور ان کی ٹیم بھی ان تقاریب کے انعقاد میں مستعد اور فعال ہوتی ہے۔ شاکر حسین شاکر اپنے مخصوص انداز میں نقابت کرتے ہیں اور نمایاں اہل قلم کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار ظفر نے اس پزیرائی کے لئے کمشنر ملتان جناب عامر کریم خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محبوب الحق، جناب مختار مسعود اور جناب نسیم صادق کی طرح جناب عامر کریم نے بھی اپنے منفرد اور ملتان ڈویژن کے لئے نمایاں کارناموں کی وجہ سے تاریخ میں اپنا نام بنایا ہے۔ اور ہم سب اہل قلم ان کی صحت اور مزید کامیابیوں کے لئے دعاگو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ملازمت اور ادب میں ہمیشہ میرٹ کو مدنظر رکھا ہے اور اپنے علاقے کے نوجوانوں کے تعاون سے اپنے علاقے کے مسائل حل کئے ہیں۔ تمام طبقات کے درمیان بھائی چارے اور ہم آ ہنگی کی فضا قائم رکھی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے سوسائٹی کے صدر نعیم خان کے تعاون کا خصوصی ذکر کیا۔ اس تقریب میں ڈاکٹر مختار ظفر کی شریک حیات جو معروف ماہر تعلیم مرزا عبدالغنی کی صاحب زادی ہیں، بھی شریک رہیں۔
ڈاکٹر مختار ظفر کے گھر لوح اعزاز نصب کرنے کی تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کمشنر ملتان جناب عامر کریم خان نے برملا کہا کہ جب وہ ملتان میں ڈپٹی کمشنر تھے، تب ان کے ذہن میں یہ خیال آیا اور انہوں نے اسے عملی جامہ پہنایا تاکہ اس عمل کے ذریعے اہل قلم کی شناخت اور ان کے فن کا اعتراف کیا جائے۔ جناب عامر کریم خان کے مطابق اب بحثیت کمشنر انہوں نے اس رکے ہوئے سلسلے کو دوبارہ شروع کر دیا ہے اور اہل قلم اور دیگر فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے مزید سئنیر اور معروف افراد کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مختار ظفر ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے ملتان کی شعری اور ادبی روایات کو پروان چڑھانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنی انتظامی ادبی اور صحافیانہ صلاحیت کے ذریعے ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو ان کی رہنمائی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر مختار احمد ظفر نے ہمیشہ محنت اور میرٹ کی بالا دستی کا درس دیا ہے اور خود بھی ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہے ہیں۔ کمشنر ملتان جناب عامر کریم خان نے اس موقع پر کہا کہ ادیب شاعر اور دانشور اس معاشرے کا حسا س طبقہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کا بر وقت اعتراف حکومتی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لوح اعزاز کے اس عمل سے جتنی خوشی انہیں ہوتی ہے، اتنی ہی اہل قلم کو بھی ہوتی ہے اور اہل علاقہ کو بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کتنی اہم شخصیت رہائش پذیر ہے۔
خیر کے سفر من وسلوی کے قیام، کہچری پر ٹریفک کے مسئلے، ملتان ایونیو کی تعمیر، گول باغ کی تزئین و آ رائش، مختلف چوکوں پر ثقافتی مجسمے اور قمقمے نصب کرنے اور اہم چوکوں اور شاہراہوں پر ڈیجیٹل اشاروں کی تنصیب جیسے اہم کام عامر کریم خان کے کریڈٹ پر ہیں۔ جس کی وجہ سے شہری سکون کا سانس لے رہے ہیں اور شہر بدلتا چمکتا دمکتا اور نکھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ خیر کے سفر کے ذریعے ہزاروں مستحقین تک گرم کپڑے تقسیم کئے گئے ہیں۔ شہر میں قائم من و سلوی کے چار مقامات سے ہزاروں افراد کو تین وقت کا معیاری کھانا مفت مل رہا ہے۔ وکلا کے تعاون سے چوک کہچری کا رش پارکنگ پلازہ فعال ہونے سے کسی حد تک ضرور کم ہوا ہے۔ پارکوں کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور ڈیجیٹل اشاروں کی تنصیب سے ٹریفک کا بہاؤ بھی کنٹرول ہوا ہے۔ گویا قدیم ملتان اب جدیدت کے رنگوں میں رنگتا جا رہا ہے۔
سٹرکوں کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی ایک ماسٹر پلان بنایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد شہر کے سوریج کے مسائل پر قابو پانے کی حکمت عملی بھی مرتب کی جائے گی۔
جناب عامر کریم خان حکومتی فنڈز پر انحصار کرنے کی بجائے صنعت کاروں، تاجر برادری، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں کی ایلومینائی مخیر حضرات اور مالیاتی اداروں کو ان منصوبوں میں شریک کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج بھی نکل رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ تعلیمی اداروں کی صورت حال بہتر ہو اور نوجوان نسل اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو۔ ہر طالب علم ہر شہری شجر کاری میں اپنا حصہ ڈالے تاکہ عوام صرف حکومت پر ہی اکتفا نہ کریں اور شہر سر سبز ہو۔
ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ حکومت ہر شاخ ہر پتے یا ہر شجر پر پہرہ نہیں دے سکتی۔ اس کی حفاظت اور آبیاری کی ذمہ داری عوام کی بھی ہے۔
ہم بیرون ملک جا کر اچھے شہری تو بن جاتے ہیں اور اپنے ملک اور اپنے شہر میں غیر ذمہ دار شہری ثابت ہوتے ہیں۔ اپنے پارکوں کو خراب کرتے ہیں، ڈسٹ بن موجود ہونے کے باوجود کوڑا کرکٹ پارک میں پھینک دیتے ہیں جو ہمارے سیاسی اور معاشرتی شعور کی نفی کرتا ہے۔ اسی طرح جانتے بوجھتے بے ہنگم ٹریفک کا بھی حصہ بنتے ہیں۔ عامر کریم خان چاہتے ہیں کہ ان تمام مسائل پر ڈائیلاگ کی صورت بنے اور سول سوسائٹی صحافی میڈیا اور اہل قلم ان کے اس مشن میں ان کا ساتھ دیں۔ ان کی آ واز کو ہر شخص تک پہنچائیں تاکہ ہم اپنے شہر کو ایک مثالی شہر بنا سکیں۔ اور ملتان بھی اسلام آ باد لاہور اور فیصل آ باد جیسی ترقی حاصل کر سکے۔