ورلڈ آرڈر سے ورلڈ ڈس آرڈر کی جانب
- تحریر خالد محمود رسول
- منگل 20 / جنوری / 2026
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا میں لبرل ورلڈ آرڈر ، انسانی حقوق اور جمہوریت کا اس تواتر سے پرچار رہا کہ دنیا بھر میں بالعموم اور ہم ایسے تیسری دنیا کے لوگوں میں بالخصوص یہ گمان یقین میں بدل گیا کہ دنیا اب " سدھر" گئی ہے۔
جنگیں، ماراماری، کالونائزیشن اور غلامی قصہ پارینہ ہیں لیکن ہر گزرتے سال جو ثابت ہورہا ہے وہ بقول خواجہ میر درد :
وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
ورلڈ آرڈر جس پر ہمارا تکیہ تھا، وہ ڈس آرڈر کی جانب مراجعت پر گامزن ہے۔ کیوں؟ کیسے؟ یہ سمجھنے کے لئے ٹی وی اسکرینوں کے " ماہرین" کی بجائے پولیٹیکل سائنس کے مستند ماہرین کی ضرورت ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جان میئر شائمر کا ہے۔ میئر شائمر کو موجودہ عہد کا ایک بڑا "حقیقت پسند’‘ مفکر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب The Tragedy of Great Power Politics بین الاقوامی سیاست سمجھنے کی کلید ہے۔ جہاں لبرل مفکرین دنیا کو "گلوبل ولیج" اور "مستقل امن" کے سہانے خواب دکھا رہے تھے، وہاں میئر شائمر دہائیوں سے یہ تلخ حقیقت واضح کرتے چلے آئے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی ہوس اور ایک دوسرے کو کچلنے کا مادہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک عالمی سیاست اخلاقیات پر مبنی نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت پر مبنی ہے جہاں ریاستیں اپنی بقا کے لیے مستقل خوف اور تصادم کی حالت میں رہنے پر مجبور ہیں۔
یوکرین کی جنگ، غزہ کا ملبہ، وینزویلا صدر کی گرفتاری، اس کے تیل پر قبضے پر اصرار، ایران کے ساتھ ٹکراؤ اور چین کے عروج کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بالکل اسی بھیانک ڈگر پر چل نکلی ہے جس کی نشان دہی میئر شائمر نے کی تھی۔ نام نہاد "ورلڈ آرڈر" کا لبادہ تار تار ہو رہا ہے اور ایک ہولناک عالمی "ڈس آرڈر" (انتشار) جنم لے رہا ہے۔
میئر شائمر کی ایک مشہور تھیوری "آفینسیو ریئلزم‘‘ ہے جس کی بنیاد پانچ "بیڈ راک" یعنی بنیادی مفروضے ہیں۔ آج کے عالمی حالات کو سمجھنے میں یہ تھیوری مددگار ہو سکتی ہے۔
اول: عالمی انارکی: بین الاقوامی نظام "انارکک" ہے یعنی ایک مستقل انتشار کو ہی ثبات ہے۔ ریاستوں کے اوپر کوئی ایسی "مرکزی حکومت" یا عالمی پولیس والا موجود نہیں جو انہیں انصاف دلا سکے یا تحفظ کی ضمانت دے سکے۔
دوم: عسکری صلاحیت: ہر بڑی طاقت کے پاس کچھ نہ کچھ ایسی جارحانہ عسکری صلاحیت ہوتی ہے جس سے وہ دوسرے کو نقصان پہنچا سکے۔
سوم: نیتوں پر عدم بھروسہ: ریاستیں کبھی بھی ایک دوسرے کی مستقبل کی نیتوں کے بارے میں سو فیصد یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ آج کا دوست کل کا دشمن ہو سکتا ہے۔
چہارم: بقا کی ترجیح: بڑی طاقتوں کا سب سے پہلا اور آخری مقصد اپنی "بقا‘‘
) کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
پنجم: عقلی طرزِ عمل: ریاستیں "سمجھ دار‘‘ ہوتی ہیں جو اپنے مفاد کے لیے بہترین چال چلتی ہیں۔
ان پانچ مفروضوں کے ملاپ سے تین بنیادی رویے جنم لیتے ہیں: خوف، اپنے زور بازو پر بھروسہ یعنی سیلف ہیلپ اور طاقت کی حد سے زیادہ ہوس۔ میئر شائمر کا استدلال ہے کہ اس نظام میں کوئی بھی ریاست کبھی مطمئن نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ اس تگ و دو میں رہتی ہے کہ وہ اتنی طاقتور ہو جائے کہ اپنے خطے کی "بالادست قوت‘‘ بن سکے تاکہ کوئی دوسرا حریف اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے۔
میئر شائمر کی تھیوری کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک "ہیجمن" یعنی بالا دست طاقت خطے میں کسی دوسری طاقت کی مداخلت تو دور، اس کا سایہ بھی برداشت نہیں کرتی۔ امریکہ نے "منرو ڈاکٹرائن" کے تحت پورے مغربی نصف کرہ
کو اپنا دائرہ اٹر قرار دے رکھا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ کا وینزویلا کے خلاف جارحانہ رویہ، وہاں کی حکومت کی تبدیلی کی کوششیں اور تیل کے ذخائر پر قبضے کا کھلا اعلان، اسی "پاور میکسی مائزیشن" کا عملی نمونہ ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ گرین لینڈ جیسے اسٹریٹجک جزیرے کو بزور خریدنے کی خواہش اور میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو سیدھا رکھنے کی دھمکیاں، اسی ڈاکٹرین کا تسلسل ہیں کہ امریکہ اپنے خطے میں مکمل ملٹری دسترس چاہتا ہے۔ میئر شائمر کے بقول، امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ چین یا روس اس کے "بیک یارڈ" میں کسی قسم کا اثر و رسوخ پیدا کریں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تمام عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے دعوے ختم ہو جاتے ہیں اور صرف "طاقت کے توازن" کی منطق باقی رہتی ہے۔
یوکرین کی جنگ آفینسیو ریئلزم کی سچائی پر مہرِ تصدیق ہے۔ میئر شائمر نے 2014 میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ مغرب کی طرف سے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششیں روس کو جنگ پر مجبور کر دیں گی۔ روس کے لیے یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اپنی بقا کا مسئلہ تھا۔ جب ایک بڑی طاقت (روس) کو محسوس ہوتا ہے کہ دوسری بڑی طاقت (امریکہ/نیٹو) اس کے دروازے پر قلعہ بندی کر رہی ہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔
ایک اور معروف ماہرِ اسٹریٹجک امور رابرٹ کپلن اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف
(جغرافیہ کا انتقام) میں لکھتے ہیں کہ نظریات بدل سکتے ہیں، حکومتیں ختم ہو سکتی ہیں، لیکن جغرافیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ کپلن کے نزدیک یوکرین اور مشرقی یورپ کا جغرافیہ روس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے بفر زون برقرار رکھے۔ آج یوکرین میں جو ہو رہا ہے، وہ دراصل جغرافیہ کا انتقام ہے جسے مغرب نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ اس جنگ نے نیٹو کے اندرونی تضادات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ یورپ کے بڑے ممالک (جرمنی اور فرانس) اب اس امریکی بوجھ سے تھک رہے ہیں، جس نے پورے براعظم کو توانائی کے بحران اور معاشی بدحالی میں دھکیل دیا ہے۔ نیٹو اتحاد میں واضح دراڑ ورلڈ ڈس آرڈر کی جانب ایک اور قدم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت میئر شائمر کے بیان کردہ "سیکیورٹی ڈائلیما‘‘ کی ایک اور زندہ مثال ہے۔ جب ایک ریاست (ایران) اپنی حفاظت کے لیے دفاعی صلاحیت بڑھاتی ہے یا علاقائی اثر و رسوخ (حماس، حزب اللہ) کا سہارا لیتی ہے، تو اس کا حریف (اسرائیل/امریکہ) اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور جواباً اپنی عسکری قوت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا لامتناہی چکر ہے جو بالآخر کسی بڑے دھماکے پر منتج ہوتا ہے۔
امریکہ اور ایران کی موجودہ محاذ آرائی نے پورے خطے کی سیاسی و سیکورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ یہاں کسی بھی صورت ایران کو ریجنل بالادست بنتے نہیں دیکھنا چاہتا، جبکہ ایران میئر شائمر کے چوتھے اصول یعنی "بقا" کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کشمکش میں فلسطین کا مسئلہ ہو، شام ہو یا یمن کی جنگ، سب بڑی طاقتوں کی اس بساط پر مہرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ورلڈ آرڈر کی جگہ لینے والا یہ "ڈس آرڈر" ثابت کر رہا ہے کہ اب سفارت کاری کے بجائے طاقت کی زبان میں بات پر اصرار ہے۔
پاکستان کے لیے مشرق وسطی کی صورت حال خطرناک نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ رابرٹ کپلن کے مطابق، پاکستان کا جغرافیہ ایسا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے تصادم سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔ عالمی انتشار کے منڈلاتے خطرات پاکستان کی معیشت کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور آئی ایم ایف کے ماتھے پر بل ہماری معیشت کی سانسیں درہم برہم کر سکتا ہے ۔
مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ کے اثرات پاکستان کی سرحدوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایک طرف امریکہ ہے جس سے ہماری معیشت اور دفاع جڑے ہیں، دوسری طرف چین ہے جو ہمارا مستقل اسٹریجک پارٹنر ہے۔ میئر شائمر کی "سیلف ہیلپ" کی منطق کہتی ہے کہ پاکستان کو اب کسی سپر پاور کے وعدوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی طاقت خود پیدا کرنی ہوگی۔ "دوسروں پر دارومدار" کا وقت گزر چکا، اب ہمیں اپنی بقا کا فیصلہ خود کرنا ہے۔
میئر شائمر کی سب سے بڑی پیش گوئی چین کے بارے میں ہے۔ وہ اسے "The Great Delusion" قرار دیتے ہیں کہ چین کا عروج پرامن ہوگا۔ ان کے مطابق، جیسے جیسے چین معاشی اور ملٹری دیو بنے گا، وہ ایشیا سے امریکہ کو نکال باہر کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ کا جواب اس پر (گھیرنے) کی پالیسی ہوگی۔ یہی وہ بڑا محاذ ہے جہاں "ورلڈ آرڈر" ڈس آرڈر کی جانب بڑھ رہا رہا ہے۔ تائیوان ہو یا بحیرہ جنوبی چین، بڑی طاقتیں اب کسی قاعدے قانون کی پابند نہیں رہیں۔
جان میئر شائمر اور رابرٹ کپلن کے نظریات کو یکجا کر کے دیکھیں تو نقشہ واضح ہو جاتا ہے۔ دنیا ایک ایسے "ملٹی پولر" نظام بلکہ ڈس آرڈر میں داخل ہو رہی ہے جہاں کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں طاقت ہی حق ہے۔اس دور میں صرف وہی ریاستیں زندہ رہیں گی جو "حقیقت پسندی" کا دامن تھامے رکھیں گی۔ پاکستان کے لیے سبق واضح ہے کہ عالمی اداروں یا کسی سپر پاور کے "اخلاقی اصولوں" پر تکیہ کرنا خام خیالی ہے۔ ہمیں اپنی معاشی خود مختاری اور عسکری قوت کو مضبوط کرنا ہوگا کیونکہ اس نئے "ڈس آرڈر" میں مدد کے لیے کوئی فرشتہ نہیں آئے گا۔ بقول میئر شائمر، "عالمی سیاست میں کسی ایمرجنسی ریسکیو نمبر یعنی" 1122" کا کوئی وجود نہیں۔ ہمیں خود اپنا سہارا بننا ہو گا۔