رومانوی تصور انقلاب
- تحریر زاہد بشیر
- منگل 20 / جنوری / 2026
لفظ انقلاب کے معنی تبدیلی، تغیر یا کسی چیز کی موجودہ حالت یا ماہیت کا نئی شکل احتیار کر لینا ہے۔ ہم جن انقلابوں کا ذکر بکثرت سنتے ہیں، ان میں سیاسی، معاشی، دینی اور سائینسی انقلاب قابل ذکر ہیں۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد لفظ انقلاب کا بےتحاشہ اور بے محل استعمال تو ہم نے سنا ہے لیکن کسی بھی قسم کے انقلاب کو برپا ہوتے دیکھنے کی حسرت نے دل میں ملال اور آنکھوں میں تکان کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ معاشی ترقی، بے روزگاری کے خاتمے، تعلیم عام کرنے، عدل و انصاف کی فراہمی، قانون کی بالا دستی، اسلام کے نفاذ، وغیرہ وغیرہ جیسے بلند وبالا نعروں اور وعدوں کی بدولت سیاستدان اور ہر طرح کا حکمران طبقہ عوام کے جذبات بھڑکا کر اقتدار حاصل کرنے میں تو کامیاب ہوتا رہا ہے لیکن عوام سے کئے گئے وعدے کبھی وفا نہ ہوسکے۔ اس کے برعکس حکمران اور بااثر طبقے نے طبعاً جذباتی قوم کی سیاسی اور اخلاقی تربیت کرنے اور اور معاشرے کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مہذہب اور متوازن سوچ پر استور کرنے کی ذمہ داری نبھانے کی بجائے اس قوم کے جذباتی پن کو مضبوط تر کیا ہے۔ شاید ان کے نزدیک اپنے درپردہ مذموم مقاصد حاصل کرنے کا یہی سب سے آسان اور آزمودہ طریقہ واردات ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے دینی اکابرین، جماعتوں اور مدارس نے عوام کو اسلامی تعلیمات پر عمل کی طرف گامزن کرنے کے اپنے فرض کو پورا کرنے کے لئے پورے وسائل اور بھرپور قوت صرف کی ہے۔ اس جہد مسلسل کا مقصد یقیناً افراد کو تربیت کے عمل سے گزار کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہی ہو سکتا ہے جس کے اخلاقی، تہذیبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی رویوں سے اسلامی اساس اور اصولوں کی جھلک نظر آئے۔ بلا شبہ یہی ہمارے دین کا مقصد اولین بھی ہے اور اسی مثبت تبدیلی کو انقلابی تبدیلی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ غرض یہ کہ ہمارے ہاں دعوت و تبلیغ، اصلاح احوال اور احیائے دین کی سرگرمیاں معاشرے میں انقلابی نوعیت کی مثبت تبدیلی لانے کی جدوجہد میں عرصہ دراز سے بڑی تندہی سے جاری ہیں۔
مندرجہ بالا کاوشوں کا مثبت نتیجہ لاکھوں افراد کا صوم و صلواۃ جیسی عبادت کی طرف راغب ہونے کی صورت میں ضرور سامنے آیا ہے۔ ہم دین سے والہانہ محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دین کے نام پر جان قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار بھی رہتے ہیں۔ ہمارے اندر دین پر مر مٹنے کا جذبہ تو پیدا کر دیا گیا ہے لیکن دین کے نام پر تمیز و تہذیب سے جینے کا سلیقہ ہمارے اندر موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر درست سمت کی جانب شعوری تربیت موجود نہیں۔ ہمارے اندر یہ فہم موجود نہیں کہ اپنے دینی نظریات کو عملی یا فکری سطح پر منتقل کر کے تہذیب یا نظام کی صورت میں نافذ کر سکیں۔ اس کی ہم نے فکر ہی نہیں کی اور شاید نہ ہی ہم میں وہ لیاقت موجود ہے۔ خود فریبی سی خود فریبی ہے کہ ہم پھر بھی معاشرے میں کوئی انقلاب برپا کرنے کے زعم اور گمان میں مبتلا ہیں۔ اسے کہتے ہیں "رومانوی تصور انقلاب"۔ اگر معاشرے میں لوگوں کے اندر علم نہیں آئے گا اور درست سمت شعوری تربیت نہیں ہو گی تو کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ جذباتی اپیل یا قوت کے ذریعے تبدیلی لے بھی آئے تو یہ ایک کھوکھلی عمارت ہو گی جو کسی بھی وقت ذمیں بوس ہو سکتی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مذہبی فکر مذہبی فہم پیدا کرتی ہے، درست فہم سے مقصدیت کا تعین کیا جاتا ہے، مقصدیت کے بیج سے ارادے کی جڑ پیدا ہوتی ہے اور مضبوطی پکڑتی ہے۔ مصمم ارادہ عمل کی طرف راغب کرتا ہے اور عمل غیر متزلزل جذبے کا مرہون منت ہوتا ہے۔ باالفاظ دیگر کسی بھی مقصد کا حصول شعور اور جذبے کے امتزاج سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ۔ وہ کسی ایک پر زور دینے سے ممکن نہیں ہوتا۔ ہماری بنیادی غلطی یہ ہے کہ ہم نے اوپر بیان کی گئی منطقی ترتیب الٹ دی ہے اور ہمارے ہاں سب سے پہلے جذبہ بلکہ جذباتیت پیدا کی جاتی ہے۔ اور ستم ظریفی یہ کہ اس جذبے کو نہ تو کوئی سمت دی جاتی ہے اور نہ ہی مقصدیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وقوع پزیر ہوا ہے جس کی مثال ایک منہ زور اڑیل گھوڑے کی مانند ہے جو کسی بھی وقت کسی کو بھی اپنے پاؤں تلے روند سکتا ہے یا اپنے جہل کی بدولت خود کو ہی غرق کر سکتا ہے۔
ہمارے رہنما حصوصاً ہمارے علما اپنی فصیح البیانی اور جوش خطابت کی طاقت سے عوام کو جذبات کی رو میں اس قدر دور بہا کر لے جاتے ہیں کہ سامعین پر سُکر کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ مدہوشی اور خود وارفتگی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتں سلف کر دیتی ہے۔ اس طرح عقل سے عاری عوام یا ہجوم کی باگیں ان رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں اور وہ ایک راکب کی حیثیت سے ان پر جیسے چاہیے سواری کریں۔
جب قوم کے سیاسی، عسکری اور مذہبی رہنماؤں کے ذاتی مفادات عوام کے فہم کی سمت کا تعین کریں تو پھر ایسے معاشرے وجود پزیر ہوتے ہیں جن کی نمایاں خصوصیات سوائے ناصبوری، بےہنگم پن، بےترتیبی، عدم برداشت، مذہبی و مسلکی فرقہ واریت، بدنظمی، بدعنوانی اور اخلاقی گراوٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتیں ۔ مسجد میں ہم صراط مستقیم پر چلنے کی دعا کر تے ہیں لیکن مسجد کے باہر ہمارے اعمال اور روئیے ایسے ہوتے ہیں جس کے باعث ایسا معاشرہ متشکل ہوتا ہے جس کے لئے مہذب معاشرے کے الفاظ استعمال نہیں کئے جاسکتے۔ ہم یہ سمجھنے یا سمجھانے کی لیاقت سے محروم ہیں کہ دینی آدمی کا تو پتا ہی مسجد کے باہر چلتا ہے اور دین کا نفاذ تو سماج میں اپنے روزمرہ کے معاملات اور کاروبار زندگی سے متعلق رویوں پر کرنا ہوتا ہے۔ سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی ہی کسی انقلاب کا پیش ہیما ہو سکتی ہے۔
اس کج روی کو دور کرنے کی ذمہ داری، صلاحیت اور طاقت ریاست کے پاس ہے۔ ریاست چاہے تو دینی مدارس، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو ایسے قواعد و ضوابط کا پابند کر سکتی ہے جو معاشرے میں عدم برداشت، فرقہ واریت اور انتہا پسندی دور کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ لیکن زمینی حقائق سے یہ بات عیاں ہے کہ ایسا کرنا ریاستی اہلکاروں کے مفاد میں نہیں۔ ایسی صورت میں معاشرے کے ہر صاحب دانش فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے تئیں اپنے عمل اور قلم کے ذریعے عوامی شعور کر بیدار کرنے کی کوشش اپنے اوپر واجب کر لیں۔ اپنے دائرہ اثر میں اس حقیقت کا ادراک پیدا کریں کہ معاشرتی اخلاقیات جو کہ انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتی ہیں، پر عمل کئے بغیر صرف دین سے محبت کے بلند بالا نعرے لگانے سے کسی قسم کی انقلابی تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی۔