ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے: سابق سیکرٹری جنرل نیٹو
نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل اینڈرز فوگ راسموسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب یورپ کی جانب سے ’زیادہ سخت ردعمل‘ کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اینڈرز فوگ راسموسن ڈنمارک کے سابق وزیرِاعظم بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ٹرمپ آٹھ یورپی ممالک پر اضافی محصولات عائد کرتے ہیں تو یورپ کو جوابی محصولات لگانے چاہییں کیونکہ ’ٹرمپ صرف طاقت اور قوت کا احترام کرتے ہیں‘۔
انہوں نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اگر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی پر عمل کیا تو نیٹو قائم نہیں رہ سکے گا۔ فوگ راسموسن نے کہا کہ ’ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے۔‘
دریں اثنا نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران کہا ہے کہ ’اب اصل مسئلہ گرین لینڈ نہیں بلکہ یوکرین ہے‘۔ ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ وہ پریشان ہیں کہ کہیں ہم دیگر مسائل پر زیادہ توجہ دے کر یوکرین کے معاملے کو نظر انداز نہ کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر میں ہزاروں جانی نقصان کے باوجود روس، یوکرین پر حملے بڑھا رہا ہے۔
مارک روٹے نے مزید کہا کہ امن مذاکرات میں پیش رفت اور یورپی کمیشن کی جانب سے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے نئے قرضے سے نیٹو کے یورپی رکن ممالک کو یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ وہ یوکرین کے دفاع کو بھول سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ گرین لینڈ کے سوال پر درپردہ کام کرریہے ہیں مگر ان سرگرمیوں کی تفصیل نہیں بتا سکتے۔ گرین لینڈ کے تحفظ کے بارے میں مزید اقدامات ضروری ہوں گے۔