ٹرمپ کے بیان پر برطانیہ میں شدید ردِعمل، معافی کے مطالبات

  • ہفتہ 24 / جنوری / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں نیٹو افواج سے متعلق متنازع بیان کے معاملے پر برطانیہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ’توہین آمیز اور خوفناک‘ قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس پر خود معافی مانگ لیں گے۔

افغانستان میں برطانوی فوج میں شامل رہنے والے شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر سچائی اور عزت کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔

شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ ’میں نے وہاں خدمات سرانجام دی ہیں، میں نے وہاں زندگی بھر کے دوست بنائے ہیں۔ اور کچھ کو میں نے وہاں کھو دیا۔‘

واضح رہے کہ نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے تحت ’ایک پر حملہ سب پر حملہ‘ تصور کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دِیے گئے انٹرویو میں افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ کہیں گے کہ اُنہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے۔ اُنہوں نے ایسا کیا۔ لیکن وہ کچھ پیچھے رہے۔ وہ فرنٹ لائنز سے کچھ پیچھے رہے‘۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کبھی اُن کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی ہم نے کبھی اُن سے کسی چیز کے لیے پوچھا۔

برطانوی وزیر اعظم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ’اگر خود احساس ہوا کہ اُنہوں نے غلط بات کی ہے تو وہ یقینی طور پر اس پر معافی مانگیں گے۔‘ میں اپنی افواج کی ہمت اور بہادری اور اپنے ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ بہت سے ایسے فوجی بھی تھے، جو زخمی ہوئے اور کچھ زخموں نے اُن کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

برطانیہ کے علاوہ دیگر حکومتوں نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ جو افغانستان میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے 33 ہزار پولینڈ کے فوجیوں میں شامل تھے، نے کہا کہ کسی کو بھی ہمارے فوجیوں کی خدمات کا مذاق اُڑانے کا حق نہیں ہے۔

کینیڈا کے وزیر برائے قومی دفاع ڈیوڈ جے میک گینٹی نے کہا کہ کینیڈین فوجی پہلے دن سے ہی محاذ جنگ پر تھے اور قندھار میں اتحادی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ان کے 158 فوجیوں نے جانیں گنوائیں۔

افغان جنگ کے دوران نیٹو کے سیکریٹری جنرل رہنے والے جاپ ڈی ہوپ شیفر نے بی بی سی ورلڈ سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی امریکی صدر کو یہ آزادی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی توہین کرے جو افغانستان سے زندہ واپس نہیں آ سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر امریکی صدر سے ’مخلصانہ معافی‘ کی توقع کرتے ہیں۔

امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج نے اکتوبر میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ نیٹو ممالک نے امریکہ کی قیادت میں ہونے والی اس جنگ میں اپنے فوجی اور دیگر سازو سامان بھی بھیجا۔

2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے قبل افغانستان میں 3500 اتحادی فوجی ہلاک ہو چکے تھے، جن میں 2461 امریکی جبکہ 457 برطانوی فوجی تھے۔ ان 457 برطانوی فوجیوں میں سے زیادہ تر افغان صوبے ہلمند میں جارے گئے، جہاں اتحادی افواج اور طالبان فورسز کے مابین متعدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔