ٹرمپ، غزہ امن بورڈ یا سرمایہ دار آمرانہ نظام کا آغاز

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ سے متعلق نام نہاد امن اقدامات اور خود کو کسی امن بورڈ کا چیئرمین بنانے کا تصور محض ایک سفارتی یا انتظامی قدم نہیں، بلکہ یہ عالمی سیاست میں رائج ایک مخصوص آمرانہ اور سرمایہ دارانہ طرزِ حکمرانی کی علامت ہے۔

یہ طرزِ فکر جمہوری شراکت، عوامی نمائندگی اور اجتماعی فیصلہ سازی کے بجائے طاقت کے ارتکاز، شخصی بالادستی اور معاشی مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ سے شخصیت پرستی  (Personality Cult)، کاروباری ذہنیت اور طاقت کے مظاہرے پر مبنی رہی ہے۔ غزہ جیسے حساس، انسانی المیے سے بھرپور مسئلے پر خود کو فیصلہ کن اتھارٹی کے طور پر پیش کرنا دراصل اس سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ عالمی تنازعات کو چند طاقتور افراد بند کمروں میں بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں۔ جبکہ متاثرہ عوام کی آواز غیر ضروری سمجھی جاتی ہے۔

یہ رویہ ہمیں پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں کی اندرونی ساخت کی یاد دلاتا ہے، جہاں جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اور حقیقی اختیار چند ناقابلِ چیلنج قائدین کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پارٹی فیصلے، قومی بیانیہ اور عوامی مستقبل سب ایک فرد یا خاندان کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح چین اور روس میں طاقت کا شدید ارتکاز ریاستی ڈھانچے کو مضبوط تو بناتا ہے۔ مگر سیاسی اختلاف، آزادیِ اظہار اور عوامی شرکت کو محدود کر دیتا ہے۔

عرب دنیا کی کئی بادشاہتوں میں بھی یہی ماڈل دکھائی دیتا ہے، جہاں ریاست کو ایک کارپوریشن کی طرح چلایا جاتا ہے اور عوام کو محض فرمانبردار رعایا سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کا سرمایہ دارانہ پس منظر اور عرب حکمرانوں سے قریبی تعلق اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ غزہ جیسے تنازعے کو بھی انسانی مسئلے کے بجائے ایک سیاسی و معاشی ڈیل کے طور پر دیکھا جائے۔

یہ پورا منظرنامہ دراصل اس عالمی رجحان کا عکس ہے جہاں سرمایہ دار طبقہ، اسلحہ ساز کمپنیاں، اور جیوپولیٹیکل مفادات امن کے نام پر فیصلے کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقی امن جو انصاف، خودمختاری اور عوامی مرضی سے جنم لیتا ہے، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ غزہ کے عوام کے لیے امن کا مطلب بمباری کا خاتمہ، بنیادی حقوق اور آزاد مستقبل ہے۔ نہ کہ ایک طاقتور چیئرمین کی سربراہی میں بننے والا بورڈ۔

ٹرمپ کا یہ اقدام ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا دنیا واقعی امن کی طرف بڑھ رہی ہے یا صرف آمرانہ سرمایہ دارانہ نظام کو نئے نام اور نئے چہروں کے ساتھ مسلط کیے جانے کی ایک کوشش ہے؟ جب تک عالمی فیصلوں میں عوام، مظلوم قوموں اور حقیقی نمائندگی کو مرکزیت نہیں دی جاتی، ایسے “امن بورڈز” محض طاقتوروں کی حکمرانی کا نیا چہرہ ہی ثابت ہوں گے، امن کا نہیں۔