ایران کسی بھی جارحیت کا جواب زیادہ طاقت سے دے گا: ترجمان
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا۔‘
اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران خطے میں امریکی بحری بیڑے کے حوالے سے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو ’نئے خطرے‘ کا سامنا ہے اور خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ علاقے میں کسی بھی قسم کی بدامنی کا ہدف صرف ایران نہیں ہوتا۔ خطے کے ممالک میں ایک مشترکہ تشویش پائی جاتی ہے۔
ان کے مطابق خطے میں ’جنگی بحری جہاز بھیجنے سے ایران کے اپنے ملک کے دفاع کے حوالے سے عزم یا سنجیدگی میں رتی بھر بھی خلل نہیں آئے گا۔‘ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے درمیان کوئی پیغام رسانی ہوئی ہے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری پر بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ’ایران میں پیش آنے والے واقعات کی الٹ تعبیر‘ ہے اور اُن کے بقول ’اس قرارداد نے خود عالمی برادری میں تقسیم پیدا کر دی ہے۔‘
یورپی پارلیمان کی طرف سے پاسدارانِ انقلاب کو ’دہشت گرد قرار دینے‘ کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام قابلِ مذمت ہے اور یورپی ممالک کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کے جال میں نہ پھنسیں۔
دوسری طرف ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ روز کے دوران قریب تین ہزار زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔