کم عمر بچیوں کی شادی: مولانا فضل الرحمان سے چند گزارشات

اسمبلی کے فلور پر عائلی قوانین میں مثبت اور صحت مند ترامیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی گفتگو نہایت مایوس کن ہے۔ جہاں تک میرا مطالعہ ہے۔ قرآنِ پاک اور سیرتِ رسول ﷺ میں کہیں اس بات پر زور نہیں دیا گیا کہ 12، 13 یا 16 سال کی عمر میں بچوں کی شادی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو۔

1) قرآنِ پاک میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں کہ کم سنی میں بچیوں کی شادی واجب یا فرض ہے۔ بلکہ شادی بذاتِ خود کوئی فرضِ عین نہیں۔ شادی نہ نماز ہے نہ زکوۃ اور نہ روزہ اور حج۔

2) رسولِ اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی میں (حضرت عائشہؓ کے معاملے میں، جن کے نکاح کی عمر سے متعلق روایات موجود ہیں مگر اس کی تعیین پر اہلِ علم میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور حضرت صفیہؓ جن کی عمر تقریباً 17 سال بیان کی جاتی ہے ) باقی 9 ازواجِ مطہراتؓ کی عمریں بالغ اور پختہ تھیں۔ متعدد تاریخی روایات کے مطابق ان کی عمریں تقریباً 19 سے 50 سال کے درمیان تھیں۔ لہٰذا 18 سال یا اس سے زائد عمر میں شادی کو سنتِ رسول ﷺ کے عمومی طرزِ عمل کے مطابق قرار دینا زیادہ قرینِ قیاس ہے، اور ایسے قوانین کو غیر اسلامی کہنا مناسب نہیں۔

3) مولانا صاحب ایک دانش مند اور معتدل مزاج مذہبی رہنما اور سیاست دان سمجھے جاتے ہیں، لیکن پاکستان کی نصف آبادی سے متعلق ان کا یہ نقطۂ نظر اسلامی کم اور پدر سری و قبائلی ذہنیت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ انہیں ٹھنڈے دماغ، دردِ دل اور خلوصِ نیت سے ان بیٹیوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جن کی زندگیاں 12 سے 17 سال کی عمر میں شادی کے باعث برباد ہو جاتی ہیں۔

کم سنی میں شادی بچیوں کی صحت کے لیے مضر اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح کم عمری میں لڑکوں پر ازدواجی ذمہ داریاں ڈال دینا بھی غیر دانش مندانہ ہے۔ ماہرینِ طب اس بات پر متفق ہیں کہ کم عمری کی شادی سے پیدا ہونے والے بچے بھی اکثر صحت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

4) کم عمری کی شادی غربت کے شکار خاندانوں میں مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتی ہے۔ بجائے اس کے کہ لڑکا اور لڑکی جسمانی، ذہنی اور معاشی طور پر شادی کے لیے تیار ہوں، انہیں کم عمری میں بیاہ کر ملک کی افلاس زدہ آبادی میں اضافہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

5) مولانا صاحب کی عمومی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ منطق کے ماہر ہیں، لیکن یہ کیسی منطق ہے کہ ایک بچی، جو خود ابھی بچی ہے، اس پر ماں بننے اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داری ڈال دی جائے؟

6) مولانا صاحب کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک وقت تھا جب وہ عورت کی حکمرانی کے سخت مخالف تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کی رائے میں مثبت تبدیلی آئی جو قابلِ تحسین ہے۔ مگر اس تبدیلی کا فائدہ زیادہ تر اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہا۔ اس کے برعکس، کم عمری کی شادی سے متعلق سخت گیر موقف کا نقصان پورے پاکستان کو اور بالخصوص ان کروڑوں بچیوں کو ہو گا جو تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کی نعمتوں سے محروم ہو جائیں گی۔

7) یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ چند اقلیتی ارکان کے علاوہ اسمبلی میں بیٹھے تمام ممبران بھی آپ ہی کی طرح مسلمان ہیں۔ اگر انہوں نے کثرتِ رائے سے کروڑوں پاکستانی بچیوں کے حق میں قانون منظور کیا ہے تو ایک قومی رہنما، معزز رکنِ اسمبلی اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے اسے تسلیم کرنا آپ کی قومی، جمہوری اور اسلامی ذمہ داری ہے۔ اس کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کرنا قانون شکنی کے مترادف ہے۔

آخر میں، بصد احترام، مولانا صاحب صرف ایک لمحے کے لیے اس دس سالہ بچی کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیے جو پانچویں جماعت میں پڑھتی ہو، اور آپ اسے دلہن بنا کر بیاہ دیں۔ پھر ہمارے معاشرتی نظام کے مطابق اس پر مباشرت سے لے کر ساس سسر کی خدمت، دیور دیورانیوں کی ذمہ داریاں، اور باورچی خانے کا بوجھ ڈال دیا جائے۔ خدا کا خوف کیجیے۔ میں یہ سوچ کر ہی شدید کراہت، کرب اور خوف محسوس کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ عمل اس بچی کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔

عظیم رہنما وہ ہوتے ہیں جو اپنی نئی نسل کی صحت، تعلیم اور خوشحالی کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہیں۔ اگر آپ یہ بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کرتے، تو پھر ہم کیسے یقین کریں کہ آپ میں اور صوفی محمد یا افغانستان کے ملا ہیبت اللہ جیسے شدت پسند رہنماؤں میں کوئی اصولی یا فکری فرق موجود ہے؟

(بشکریہ: ہم سب لاہور)