اعتبار ساجد، ہم شرمندہ ہیں
- تحریر نسیم شاہد
- بدھ 28 / جنوری / 2026
کل صبح سویرے لاہور میں اعتبار ساجد کے انتقال کی خبر ملی تو افسردگی اور غم کی گویا ایک چادر سی تن گئی۔ ایک بہت بڑا شاعر اور اتنا ہی بڑا انسان یوں خاموشی سے رخصت ہو گیا۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے سکول کے زمانے میں اعتبار ساجد کو دیکھا اور اُن کی شاعرانہ وضع قطع اور پھر شاعری سے متاثر ہو کر شعر کہنا شروع کئے۔آج سے نصف صدی، بلکہ اُس سے بھی پہلے اعتبار ساجد صدر بازار ملتان کینٹ میں قائم ولی محمد واچ ہاؤس پر اپنے دوست افتخار احمد سے ملنے آتے۔میرا گھر اُس کے بالکل سامنے تھا،میں اُنہیں دیکھتا اور آداب عرض میں اُن کی غزلیں نظمیں پڑھتا تو عجیب قسم کی خوشی ملتی کہ میں اتنے بڑے شاعر کو دیکھ رہا ہوں۔اُن کی جسامت اُس وقت بھی سمارٹ اور بال کسی ہیرو جیسے تھے، بلکہ کئی بار تو گمان گزرتا تھا اُن کے بال اداکار محمد علی جیسے ہیں،پھر میں نے ولی محمد واچ ہاؤس پر اُن کے پاس بیٹھنا شروع کیا۔ وہ ایک خاص انداز میں شعر سناتے اور اُن کا لہجہ بہت نستعلیقی ہوتا تھا۔
وہ کینٹ کے مقامی سکول سے فارغ التحصیل تھے، اِسی سکول میں ہمارے دوست اور ادبِ لطیف کے مدیر اعلیٰ مظہر سلیم مجوکہ بھی اُن کے ساتھ تھے۔اُن کی دیکھا دیکھی میں نے بھی غزلیں آداب عرض لاہور کو بھیجنا شروع کر دیں۔خالد بن حامد مدیر تھے،وہ نئے لکھنے والوں کو سینئر کے ساتھ برابر موقع دیتے۔ جب پہلی غزل چھپی تو اعتبار ساجد وہیں بیٹھے تھے، میں نے جب آداب عرض کا شمارہ انہیں دکھایا تو بہت خوش ہوئے اور اپنے دوست افتخار سے کہا لو بھئی اب تمہارے ہمسائے میں بھی ایک شاعر پیدا ہو گیا ہے،میری شاید اب ضرورت باقی نہ رہے۔
اُن کی حس ِ مزاح بھی بہت تیز تھی۔ موقع محل کے لحاظ سے کوئی بہت چلبلی بات کر جاتے۔جب میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں طالب علم تھا تو اعتبار ساجد کوئٹہ میں پڑھا رہے تھے، لیکن ملتان سے اُن کا رابطہ بدستور قائم تھا۔ وہ کہتے تھے ملتان جس کے اندر بس جائے، قبر تک اُسے نہیں چھوڑتا۔ ممتاز محقق اور نقاد ڈاکٹر نجیب جمال نے اپنی انہی دِنوں کی یادوں کا ایک پوسٹ میں تذکرہ کیا ہے انہوں نے اُن کا ایک شعر بھی درج کیا ہے:
میں بابِ شہر سے نکلا تھا ساجد موسمِ گل میں
نجانے ان بہاروں سے مرا ملتان کیسا ہے
کوئٹہ سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے لاہور تک وہ حصولِ رزق کی خاطر پھرتے رہے، لیکن اُن کے اندر سے ملتان نہیں نکلا۔ جب بھی بات ہوتی وہ پرانی یادوں کو لے کے بیٹھ جاتے۔ملتان کی مٹی کا اثر یہ ہوا کہ اُن کی شخصیت میں عاجزی، انکساری، ملائمت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری گئی،وہ درویشی کی حد تک راضی برضا رہنے والے شخص تھے۔ اتنے بڑے شاعر تھے کہ جس محفل یا مشاعرے میں ہوتے اُسے فتح کر لیتے، مگر عاجزی اِس قدر تھی کہ اس کی بنیاد پر کبھی غرور و نخوت میں مبتلا نہ ہوئے۔انہوں نے زندگی بھر گروپ بندی کا سہارا نہیں لیا۔ وہ چاہتے تو خود ایک گروپ بنا سکتے تھے، مگر وہ اکثر کہتے کہ بعض شاعر کیسے دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا ایک سچا شاعر ایسا گھٹیا کام بھی کر سکتا ہے۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کچھ لوگ اِس گھٹیا راستے کو اپنا چکے ہیں اور اس کے ذریعے حقیقی اور بڑے شاعروں کا راستہ روک رہے ہیں۔
جو شاعر آج لابی ازم اور گروپ بندی کی وجہ سے ادبی اُفق پر چھائے ہوئے ہیں،اُن کا اُس وقت نام و نشان بھی نہیں تھا جب اعتبار ساجد شاعری کا استعارہ بنے ہوئے تھے۔چند روز پہلے جب میں نے اُن کا یہ شعر پڑھا تو مجھے یوں لگا اعتبار ساجد جیسا درویش صفت شاعر بھی اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہا ہے:
شہرت دریدہ چند غباروں کی پھونک نے
بدنام کر دیا ہے بلندی کے نام کو
وطن عزیز میں جینوئن تخلیق کاروں سے کتنی بڑی زیادتی ہمیشہ سے روا رکھی گئی ہے۔اس کی ایک بہترین مثال اعتبار ساجد بھی ہے۔کئی شہرہ آفاق کتابوں کے شاعر، بہترین افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار ہونے کے باوجود وہ کسی لابی کی سفارش نہ ہونے کے باعث قومی اعزاز سے محروم رکھے گئے۔اُن کے مقابلے میں ان لوگوں کو ایک نہیں بار بار مختلف تمغوں سے نوازا گیا، جو اُس وقت ادب میں تھے ہی نہیں،جب اعتبار ساجد کا طوطی بولتا تھا۔طوطی تو اُن کا آخری عمر تک بولتا رہا کہ اُن جیسی شاعری، لب و لہجہ کسی اور شاعر کا ہے ہی نہیں۔ لیکن افسوس کہ اُن کی پذیرائی قومی سطح پر نہیں کی گئی۔
چند ہفتے پہلے جب کراچی میں اٹھارویں عالمی اور کانفرنس ہوئی،جس میں مشاعرہ بھی تھا تو میں نے اعتبار ساجد کی ایک دِل چیردینے والی پوسٹ پڑھی۔ مجھے دُکھ ہوا کہ ایک بڑا شاعر کس طرح اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کوئی احمد شاہ کو بتائے اعتبار ساجد بھی ایک شاعر ہےکیونکہ انہوں نے تو میرا نام تک نہیں سنا ہے۔ میں سوچنے لگا احمدشاہ جیسے لوگ اداروں اور وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں اور انہیں علم تک نہیں ہوتا کون بڑا تخلیق کار ہے اور اُس کی تخلیقی عمر چھ دہائیوں سے بھی زائد ہے۔وہ تو بس چاپلوسوں اور ادب پر قبضہ جمانے والوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن کر فیصلے کرتے ہیں۔میں نے اعتبار ساجد کو فون کیا اور کہا یہ پوسٹ آپ کے شایانِ شان نہیں،اسے ہٹا دیں۔ انہوں نے کہا بس نسیم بھائی میں اس عمر میں کمزور ہو گیا ہوں۔خیر انہوں نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی مگر اُن کی یہ پوسٹ احمد شا ہ جیسے کرداروں کے لئے ندامت کا دائمی نشان چھوڑ گئی ہے۔
اعتبار ساجد کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر آئی تو ہر طرف غم کی لہر دوڑ گئی۔لوگوں نے دُکھ اور محبت کا بے پایاں اظہار کیا۔اُس کا راستہ روکنے والے اب شاید اُس حسد اور خوف کا شکار نہ ہوں جس میں وہ زندگی بھر اعتبار ساجد کے حوالے سے مبتلا رہے۔ اعتبار ساجد تو لوگوں کی محبتوں کا خزانہ لے کر دنیا سے گئے، کسی نے یہ نہیں لکھا انہوں نے دوسروں کا حق مارا،راستہ روکا اور ادب پر قبضہ جمانے کی سازشیں کیں۔البتہ میں آج یہ پیش گوئی کر رہا ہوں جو لوگ آج ادب پر مسلط ہیں اور اعتبار ساجد جیسے بڑے شاعروں کو دنیا میں اُن کا حق دیئے بغیر جاتا دیکھ رہے ہیں،انہیں یاد رکھنا چاہئے۔جب وہ دنیا سے رخصت ہوں گے تو اُن کے نام کے ساتھ یہ ضرور لکھا جائے گا کہ وہ دوسروں کا حق مار کر ادب پر مسلط رہے۔
اعتبار ساجد کا نام اردو شاعری میں ایک بڑے شاعر کے طور پر زندہ رہے گا کہ اُن کی غزل میں زندہ رہنے والی شاعری کے تمام اوصاف موجود ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)