ایران پر حملہ ہؤا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی: خامنہ ای

  • اتوار 01 / فروری / 2026

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ پورے علاقے میں پھیل جائے گی۔ انہوں نے کہا  ہے کہ ’امریکیوں کو جان لینا چاہیے کہ اگر انہوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ ہوگی۔‘

ایرانی نشریاتی ادارے (آئی ایس آئی ایس) کے مطابق خامنہ ای امام خمینی کی حسینیہ میں لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے خطاب کر رہے تھے۔ خامنہ ای نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ ماضی میں، امریکیوں نے اپنی تقریروں میں بارہا دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے آپشن سمیت تمام آپشن میز پر ہیں۔‘

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اب یہ شریف آدمی (ٹرمپ) بھی مسلسل دعویٰ کرتا ہے کہ ہم جنگی جہاز لائے ہیں۔ ایرانی قوم کو ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ایرانی عوام ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوئے‘۔

خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ شروع کرنے والا نہیں ہے اور اس کا کسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن ایرانی قوم ہر اس شخص کے خلاف سخت ضرب لگائے گی جو اس پر حملہ کرے گا اور اسے ہراساں کرے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کو ’بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ مظاہرے بغاوت کے مترادف تھے لیکن یقیناً اس بغاوت کو دبا دیا گیا تھا۔ ایرانی رہبر اعلیٰ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ان مراکز پر حملہ کیا جو ملک پر حکومت کرتے ہیں، یہ ایک بغاوت جیسا تھا۔‘

ان کا مقصد ملک کی انتظامیہ کے حساس اور موثر مراکز کو تباہ کرنا تھا، اور اسی وجہ سے، انہوں نے پولیس، حکومتی مراکز، پاسداران انقلاب کے مراکز، بینکوں اور مساجد پر حملے کیے۔