بلوچستان حملوں میں 31 شہریوں اور 17 سکیورٹی اہلکار جاں بحق، 145 دہشت گرد مارے گئے

  • اتوار 01 / فروری / 2026

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت متعدد شہروں میں ہفتہ کے روز ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بعد صوبے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بُگٹی اتوار کی روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں گزشتہ 40 گھنٹوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 145 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق  ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے گزشتہ شب کہا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 92 شدت پسند اور 15 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس سے قبل جمعہ کے روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔ خیال رہے ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

پریس کانفرنس میں بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس پہلے سے ہی انٹیلیجنس رپورٹس موجود تھیں کہ شدت پسند تنظیم کی جانب سے اس قسم کے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے سبب سکیورٹی اداروں نے ایک روز قبل ہی آپریشن شروع کر دیا تھا۔

شدت پسندوں کے ’تعاقب کے لیے ابھی بھی آپریشن جاری ہے اور ہم انہیں بھاگنے نہیں دیں گے۔‘

میر سرفراز بُگٹی نے بی ایل اے سمیت متعدد کالعدم تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’یہ آپ کا سب سے بڑا آپریشن تھا، آپ نے تو ایک یونین کونسل بھی آزاد نہیں کی۔ جب ایک یونین کونسل تک آزاد نہیں کر سکے ہو تو بلوچوں کو اپنا ایندھن کیوں بنا رہے ہو؟‘

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر میں ہونے والے حملے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے خاندان کے 11 افراد کو ہلاک کیا گیا، ان میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں دہشتگردوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پسنی، گوادر، خاران، نوشکی اور مچھ میں دہشت گردوں نے حملے کیے ہیں، جن کی سرکاری سطح پر تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں ہفتہ کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں حملے کیے۔ کوئٹہ میں حملوں کا آغاز سریاب کے علاقے سے ہوا اور صبح آٹھ بجے تک ان حملوں کا دائرہ کار ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک تک پھیل گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق سریاب میں ہزارگنجی، شیخ زید ہسپتال، یونیورسٹی، ہیلپر ہسپتال کے قرب و جوار کے علاقوں کے علاوہ امداد چوک کے قریب بھی مسلح افراد موجود تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یونیورسٹی کے قریب مسلح افراد سڑکوں پر تلاشی بھی لیتے رہے۔

ایک سینیئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ سریاب میں تین پولیس سٹیشنوں پر حملے کیے گئے جن میں شہید خالق پولیس سٹیشن، نیوسریاب پولیس سٹیشن اور شالکوٹ پولیس سٹیشن شامل ہیں۔ شہید خالق آباد پولیس سٹیشن کو حملے کے بعد نذرآتش بھی کیا گیا جبکہ نیوسریاب پولیس سٹیشن کو بھی حملوں میں نقصان پہنچا۔ تاہم شالکوٹ پولیس سٹیشن پر مزاحمت کے باعث حملہ آور تھانے یں داخل نہیں ہوسکے۔

ان پولیس سٹیشنوں کے قریب متعدد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ مسلح افراد نے ہیلپر ہسپتال کے قریب ایک پولیس موبائل کو بھی نشانہ بنایا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق، ساڑھے نو بجے کے قریب ایدھی چوک پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز شہر میں دور تک سنی گئی۔ سرکاری حکام کے مطابق اس علاقے میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو اڑا دیا گیا جس سے سول سیکریٹریٹ، قرب و جوار کے گھروں، دفاتر، امداد چوک سے سلیم کمپلیکس کے علاقے تک دکانوں اور گھروں اور دفاتر کے شیشے ٹوٹ گئے۔

خیال رہے کہ ایدھی چوک کے ساتھ ہی سول سیکریٹریٹ اور افغان قونصلیٹ واقع ہیں۔ اس دھماکے کی وجہ سے اس چوک پر نصب عبدالستار ایدھی کے مجسمے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے سے اندازاً آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر دیبہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا انہیں ایسا لگا جیسے گھر کی چھت ان پر آکر گرے گی۔

ریڈزون کے قرب و جوار کے علاقوں سے دوپہر ایک بجے تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ اس دوران مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ کوئٹہ شہر میں بیک وقت ایک بڑے علاقے میں حملوں اور مسلح افراد کی موجودگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ حملوں کی وجہ سے 9 بجے کے قریب موبائل فون پر انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی جبکہ کوئٹہ اور دیگر شہروں کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل رہی۔

مستونگ بلوچستان میں ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع ہے اور یہ دارالحکومت سے کوئٹہ سے جنوب مغرب میں تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مستونگ کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مستونگ شہر میں صبح چھ بجے مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے مختلف مقامات پر حملہ کیا جو سہہ پہر تک جاری رہے۔ حملہ آوروں نے مستونگ جیل پر بھی حملہ کیا اور اس حملے کے نتیجے میں جیل سے 27 قیدی فرار ہوگئے۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے دو نجی بینکوں کو بھی نذرآتش کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ حملہ آور ان بینکوں سے رقوم لوٹ کر لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق ان حملوں میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جوابی کاروائی میں پانچ حملہ آور بھی مارے گئے۔

ضلع مستونگ سے متصل کوئٹہ کراچی ہائی وے کے ساتھ واقع قلات شہر میں بھی ہفتے کی صبح نامعلوم مسلح حملہ آور داخل ہوئے۔ ایک پولیس اہلکار نے فون پر بی بی سی کے نامہ نگار محم کاظم کو بتایا کہ قلات شہر میں مسلح حملہ آوروں نے سٹی اور صدر پولیس سٹیشنوں پر حملہ کیا جس میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ قلات شہر میں حملوں کا سلسلہ صبح پانچ بجے قریب شروع ہوا۔  اندازاً دو گھنٹے تک دھماکوں کے علاوہ شدید فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

کوئٹہ شہر سے مغرب میں اندازاً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نوشکی شہر کے مختلف مقامات پر بھی مسلح افراد کی بڑی تعداد نے حملہ کیا۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں نے جیل، سی ٹی ڈی کے دفتر اور پولیس لائن پر حملے کرنے کے علاوہ ڈپٹی کمشنر کے گھر میں بھی داخل ہوئے۔

حملہ آور نوشکی شہر کے مغرب میں سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر قریب واقع ڈپٹی کمشنر کے گھر میں بھی داخل ہوئے۔ کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ڈپٹی کمشنر نوشکی کو یرغمال بنایا اور بعد میں انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

خاران ضلع نوشکی سے متصل ضلع ہے اور یہ کوئٹہ سے اندازاً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ ہفتہ کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے خاران شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کیے۔ حملہ آوروں کی جانب سے بینکوں کے علاوہ مختلف مقامات پر سرکاری املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جنگل روڈ پر سرکار کے حامی ایک قبائلی شخصیت اور ملازئی قومی اتحاد کے سربراہ میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں شاہد گل ملازئی سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔

سرحدی ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کی سرحدیں نوشکی اور خاران سے لگتی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب دالبندین میں حملہ کیا گیا اور سکیورٹی فورسز کے کیمپ کی جانب سے شدید فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں جو دوپہر تک جاری رہیں۔

نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے وہاں سرکاری حکام سے رابطہ نہ ہونے کے باعث نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بھی مسلح افراد نے مختلف مقامات پر حملہ کیے۔ گوادر کے مقامی صحافیوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گوادر میں تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں نگوری وارڈ ، لیبر کیمپ اور پرانے کیسکو کے دفتر میں سورگ دل کے علاقے شامل تھے۔

ضلع گوادر سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں بھی دو مقامات پر حملے ہوئے۔ تربت میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملے کے علاوہ آبسر کے علاقے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ان حملوں میں کسی سویلین کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے ۔ ضلع کیچ میں تمپ کے علاقے میں دو گھروں پر راکٹ گرنے سے چھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ضلع کیچ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بعض دیگر شہروں میں بھی مسلح افراد نے بازاروں میں گشت کیا۔

سبی شہر سے بھی دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ منظم حملے پہلا موقع نہیں جب صوبے کے مختلف شہروں میں بیک وقت مسلح افراد داخل ہوئے، پولیس کو نشانہ بنایا گیا، سرکاری اور سکیورٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہو اور خود کش حملے بھی کیے گئے ہوں۔

تاہم حالیہ حملوں میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے اندر بھی ہوئی ہیں۔ کوئٹہ کے اندر ایک علاقے میں علی الصبح ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا جس کے بعد شہر کے ریڈ زون کو سیل اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

کوئٹہ کو نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے اردگرد سکیورٹی چیک پوسٹس وغیرہ کی مدد سے حصار قائم کیا گیا ہے۔ شہر کے اندر بھی مختلف مقامات پر چیک پوسٹس موجود ہیں۔

ے کس قسم کے لوگ تحریک میں جا رہے ہیں۔

’مقامی مسائل کے حل بھی مقامی ہونے چاہیے۔ مرکز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دور سے بیٹھ کر بلوچستان کے مسائل کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے جو بہت مشکل ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو معلوم ہوتا رہتا ہے کہ لوگوں کو کیا شکایات ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو بلوچستان میں اس اظہار کے لیے مزید پلیٹ فارمز دینے کی بھی ضرورت ہے جو بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے ہوں۔