ضرورتوں کا سودا

یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ آخرکار طے پا گیا۔ اٹھارہ برس تک کھنچنے والے طویل مذاکرات اور بار بار کے وقفوں کے بعد یہ پیش رفت بظاہر ایک بڑی معاشی کامیابی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ارسلا نے اسے تجارتی معاہدوں کی ماں یعنی  Mother of all deals قرار دیا۔ اس تجارتی معاہدے کی اقتصادی اہمیت اپنی جگہ لیکن 18 سال سے زیر بحث اس معاہدے کی ٹائمنگ قابل غور ہے۔ یہ اہم سوال ہے کہ یہ اب کیوں ممکن ہوا، پہلے کیوں نہیں؟ سال 2007 میں جب یورپی ہونین اور بھارت نے پہلی بار ایف ٹی اے  پر بات چیت شروع کی تھی، تب عالمی معاشی فضا نسبتاً سازگار تھی۔ امریکا آزاد تجارت کا سب سے بڑا علمبردار تھا، فعال تھا، عمومی تاثر یہ تھا کہ عالمی منڈیاں مزید کھلیں گی۔

یہ معاہدہ اس وقت بھی ممکن تھا مگر بھارت کے اندر طاقتور تحفظ پسند لابیوں خصوصاً زراعت، ڈیری، آٹو موبائل، فارماسیوٹیکل وغیرہ اس معاہدے میں رکاوٹ بنے رہے۔ بھارت نے عالمی سطح پر آزاد تجارت کے بھرپور تجارتی فوائد بھی سمیٹے مگر گلوبل ٹریڈ کے حوالے سے اپنی منڈیوں تک رسائی میں عملی پالیسی سیلیکٹیو رکھی یعنی جہاں فائدہ ہو، وہاں مارکیٹ رسائی کے لیے تیار لیکن جہاں فائدہ نہیں یا مفادات کا ٹکراؤ ہو ، وہاں دیوار کھڑی رکھو۔ یہ معاہدہ 12/15 برس پہلے بھی ہو سکتا تھا، مگر نہیں ہوا۔ آج جب بھارت نسبتاً کم مزاحمت کے ساتھ یورپی منڈی کے لیے زیادہ رسائی پر آمادہ ہوا ہے تو اس کی وجہ اندرونی معاشی معاملات سے کہیں زیادہ بیرونی دباؤ ہے۔

نئی معاشی طاقتوں کے ظہور کے پس منظر میں گزشتہ چند برسوں سے عالمی تجارتی نظام بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ امریکا کی موجودہ حکومت نے گلوبل ٹریڈ کو اپنے سیاسی اور سیکیورٹی مفادات کے حصول کے لیے اسٹریٹجک ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ امریکا میں بھارت کو 50 فی صد ٹیرف ، ٹیک ویزوں میں کمی اور تجارتی ماحول میں بدمزگی کا سامنا ہے۔ امریکا کی جانب سے اپنے عالمی سیاسی عزائم سے منسلک ٹیرف اور ٹیکنالوجی پابندیاں کے یک طرفہ اقدامات نے پوری دنیا سمیت چین بلکہ یورپی یونین اور بھارت کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ پرانا rule-based order اب معمول نہیں رہا۔

ڈبلیو ٹی او عملی طور پر عضو معطل ہو رہا ہے۔ گلوبل ٹریڈ تیزی سے دو طرفہ سودے بازی اور بلاک سیاست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس پس منظر میں یورپی یونین  اور بھارت تحفظات کے باوجود ایک دوسرے کے قریب آئے۔ دونوں کے درمیان تجارتی تعلق پہلے ہی خاصا مضبوط ہے۔ اس وقت دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباً 135 سے 140 ارب ڈالر سالانہ ہے، جس میں یورپی یونین، بھارت کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے اور بھارت کی کل تجارت کا لگ بھگ بارہ فیصد حصہ رکھتی ہے۔ خدمات کے شعبے میں تجارت پچاس ارب یورو کے لگ بھگ ہے۔ سرمایہ کاری کے میدان میں یورپی یونین بھارت کا سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے، جہاں یورپی کمپنیوں کی مجموعی سرمایہ کاری 140 ارب یورو سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت کی یورپی یونین  میں سرمایہ کاری محدود ہے۔ یہ معاہدہ اسی عدم توازن کو کسی حد تک درست کرنے یعنی سب کے لیے سود مند بنانے  کی کوشش ہے۔ یورپی یونین اپنی ماحولیاتی، لیبر اور ڈیجیٹل شرائط پر سخت مؤقف رکھتی تھی۔ مگر بھارت ان میں نمایاں لچک حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس لیے یہ ایف ٹی اے

آزاد تجارت سے زیادہ ٹائمنگ کے حوالے سے ایک محتاط اور سیاسی ضرورتوں سے جڑا ہوا بندوبست ہے۔ بدلتے عالمی اقتصادی منظر میں یورپی یونین کی اپنی کمزوریاں بھی نمایاں ہو رہی ہیں۔ یورپ اس وقت سست معاشی نمو، سرمایہ کاری کی کمی ، سکڑتی آبادی اور بڑھتے ہوئے امیگرنٹس کا سامنا کر رہا ہے۔

تضاد اور مجبوری کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف چین پر انحصار کم کرنے کی بات کرتا ہے مگر دوسری طرف سرمایہ کاری کے لیے چین ہی کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے۔ جمہوری اقدار، ماحولیات اور انسانی حقوق کی زبان بدستور موجود ہے۔ مگر عملی فیصلے زیادہ تر معاشی مجبوریوں کے تابع ہیں۔ یہ کہنا شاید قابل از وقت ہو کہ یورپی یونین اپنی حیثیت کھو چکی ہے، مگر یہ واضح ہے کہ وہ اب پہلے جیسی مضبوط اور خود انحصاری پر استوار نہیں رہی۔

ماضی کے بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں کا تجربہ بھی قابل غور ہے۔ ایف ٹی اے خود بخود معاشی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے کہ ان پر عمل درآمد یا سرد خانے کی نذر کرنے کی مثالیں بھی بے شمار ہیں۔ آسیان کے درمیان تجارت 130 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، مگر اس میں بھارت کا تجارتی خسارہ چالیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی یہی صورتِ حال رہی۔ یہی تجربہ تھا جس نے بھارت کو کئی برس تک نئے تجارتی معاہدوں سے محتاط رکھا اور RCEP جیسے بڑے علاقائی معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی تجارت کی ناکامی اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔

سافٹا اور سارک کے باوجود خطے کے اندر باہمی تجارت آج بھی محض چند فیصد تک محدود ہے۔ سیاسی عدم اعتماد، کمزور انفراسٹرکچر اور مشترکہ معاشی وژن کی کمی نے اس خطے کو دنیا کے کم ترین integrated regions میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس تناظر میں بھارت کا یورپی یونین کی طرف جھکاؤ دراصل اپنے خطے میں جاری معاشی ناکامیوں کا اعتراف بھی ہے۔ اس معاہدے کے اثرات پاکستان کے لیے انتہائی دور رس ہوسکتے ہیں۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں سالانہ تجارت بارہ ارب یورو کے قریب ہے۔

اس تجارتی حجم میں جی ایس پی پلس کی سہولت کا کلیدی کردار ہے۔ EU–India FTA کے بعد بھارت کی ٹیکسٹائل کو ڈیوٹی فری رسائی اور پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کے تسلسل کی بے یقینی انتہائی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ جی ایس پی پلس کو یورپی یونین نے ماحولیاتی، لیبر اور گورننس معیارات سے مشروط کر رکھا ہے جو ایک مسلسل لٹکتی تلوار ہے۔ وزیراعظم کا اس ہفتے یورپی یونین کے وفد سے ملاقات میں اس کے جاری رکھنے پر خاصا زور رہا۔ تاہم بااعتماد یعنی اگلا راستہ اور پائیدار معاشی پالیسی کا تقاضا یہی ہے: برآمدات کو کم ویلیو مصنوعات سے نکال کر ویلیو ایڈڈ شعبوں کی طرف لے جانا، یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے ساتھ سرمایہ کاری کو ترجیح دینا، اور علاقائی تجارت کو سیاسی یرغمال بنانے کے بجائے معاشی ضرورت کے طور پر دیکھنا۔

پاکستان کی صنعت، زراعت اور سروسز سیکٹر مگر قدیمی روایتی مسائل میں جکڑے ہونے کے سبب بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جب کہ دنیا مسابقت، گروتھ اور ٹیکنالوجی کی وسعتوں میں قلانچیں بھر رہی ہے۔ خود احتسابی کی ذرا سی رمق ہو تو جاننا مشکل نہیں کہ زمانے میں پنپنے کی کیا یہی باتیں ہیں۔