وزیر اعظم کی خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ بعد میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات بطور وزیرِ اعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی کارکن کبھی وہاں نہیں بیٹھتا۔
وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات کی دعوت وزیرِ اعظم نے دی تھی جس میں این ایف سی ایوارڈ سمیت وفاق پر صوبے کی جانب واجب الادا رقوم کے حوالے سے بات ہوئی۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران دہشتگردی کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی ہے۔ اس حوالے سے مزید ایک دو ملاقاتیں ہوں گی اور جب باقاعدہ فیصلہ ہوں گے تو میڈیا کو بتا دیا جائے گا۔
ایک صحافی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ سے سوال کیا گیا کہ کیا آج کی ملاقات کو صوبے اور وفاق کے درمیان تناؤ میں ایک پیشرفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’آج کی ملاقات بطور وزیرِ اعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی ورکر میں کبھی بھی وہاں نہیں بیٹھتا۔‘ تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ تیراہ، باجوڑ اور کرم سمیت خیبر پختونخوا کی عوام جو قربانی دے رہے ہیں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کیونکہ وہ لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کروانے سمیت کسی بھی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر مذمت کی، وزیراعظم سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون پر گفتگو کی۔صوبے کیلئےاین ایف سی،این ایچ پی اوروفاق پر بقایا جات پر بات ہوئی، انہوں نے احسن اقبال کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سےدہشتگردی پر مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی، خیبرپختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کرچکی ہے۔دہشتگردوں کا کوئی صوبہ ،ملک اورنہ کوئی مذہب ہوتا ۔ دہشتگردی کی ہم سب کو بحیثیت پاکستانی مذمت کرنی چاہئے، ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کرتے رہیں گے۔