ثریا ملتانیکر کا اعزاز اور حکومتی خوشخبریاں

برصغیر میں کلاسیکی نیم کلاسیکی اور غزل کی گائیکی میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والی ٹریا ملتانیکر ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عہد ثریا ملتانیکر میں موسیقی کے سر تال سے واقفیت رکھنے والے ان کا شمار موسیقی کے اساتذہ میں کرتے ہیں۔

1986 میں پرائیڈ آ ف پرفارمینس ایوارڈ اور 2008 میں صدر پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز حاصل کرنے والی ثریا ملتانیکر شاعر مشرق ایوارڈ، گولڈن ایوارڈ، چٹا گانگ ایوارڈ ،شہباز ایوارڈ، اور خواجہ فرید ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ کلام فرید کی چاشنی کو ثریا ملتانیکر نے سرائیکی زبان کی مٹھاس میں اس طرح سمویا ہے کہ انہیں بلبل سرائیکستان کہا جاتا ہے۔ خواجہ غلام فرید کی مقبول کافی پیلو پکھیاں وے نی آ چنڑوں رل یار، ان کی گائیکی کی پہچان بن چکی ہے۔

حال ہی میں ضلعی حکومت کی طرف سے اہل قلم دانشوروں اور فنون لطیفہ میں نمایاں حیثیت کی حامل شخصیات کی پذیرائی کے لئے ان کے گھروں پر لوح اعزاز نصب کرنے کے سلسلے میں محترمہ ثریا ملتانیکر کے گھر بھی لوح اعزاز نصب کی گئی ہے جو سرائیکی وسیب کے لئے بھی ایک اعزاز ہے۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں کی جانب سے فنون و ادب سے وابستہ شخصیات کے اعتراف میں ایک شاندار اور منفرد اقدام کے تحت معروف گلوکارہ ثریا ملتانیکر کے گھر کے باہر اعزازی تختی " لوح اعزاز " نصب کر دی گئی۔ یہ اقدام “اعترافِ فن، ملتان کی پہچان” کے عنوان سے جاری سلسلے کی کڑی ہے جس کا مقصد فن و ادب اور تہذیب و ثقافت کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ کم و بیش پون صدی پر محیط شاندار تہذیبی و ثقافتی شناخت کی حامل لیجنڈ میڈم ثریا ملتانیکر کے لیے سرکاری سطح پر سجائی گئی یہ تقریب وسیب کی نمائندہ شخصیات کی شرکت سے ناقابل فراموش بن گئی ۔

کمشنر ملتان عامر کریم خاں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادیب ، شاعر اور فنکار کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اور اس کا حسن ہوتے ہیں ۔ ان کی خدمات کو زندہ رکھنا اور خراج تحسین پیش کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلاسیکل ، غزل ، خیال، کافی، گیت اور لوک گائیکی کے میدان میں ثریا ملتانیکر کا نام ایک مستند حوالہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ عامر کریم خان صاحب کے بقول ثریا ملتانیکر موسیقی کی دنیا میں استاد کا درجہ رکھنے کے باوجود اپنے سینئر سے عقیدت کا جذبہ رکھتی ہیں اور اہنے اساتذہ کا بہت احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثریا ملتانیکر کا مشہور زمانہ گیت بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا، ایک ضرب المثل اور حسن والوں سے ایک شکوے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

کمشنر ملتان نے مزید کہا کہ ثریا ملتانیکر بین الاقوامی سطح پر ملتان ، وسیب اور پاکستان کی ثقافتی شناخت ہیں ۔ انہوں نے اپنے ستر سالہ شاندار فنی سفر میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسنِ کارکردگی اور ستارہ امتیاز جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جانا ان کی خدمات کا واضح اعتراف ہے۔ عامر کریم خاں نے کہا کہ یہ شخصیات ہمارے خطے کا فخر ہیں اور فنکاروں، ادیبوں، اساتذہ اور شعرا کی خدمات تاریخ میں ہمیشہ روشن باب کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔
اس موقع پر آصف خان کھیتران ، شفقت ملک، شاکر حسین شاکر، ظہور دھریجہ ، ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا ، رانا محبوب اختر اور ڈاکٹر انوار احمد نے بھی خطاب کرتے ہوئے میڈم ثريا ملتانیکر کہ فنی محاسن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔

احباب کا کہنا تھا کہ میڈم کی تہذیبی و ثقافتی خدمات قابل تحسین و قابل تقلید ہیں ۔ عاجزی و انکساری ان کی شخصیت کا منفرد پہلو ہے ۔ وہ تین نسلوں کی نمائندہ گلوکارہ ہیں اور ان کی حکمرانی دنیا بھر میں چاہنے والوں کے دلوں پر قائم ہے ۔ تقریب میں ڈی جی پی ایچ اے کریم بخش ، ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر فرید شریف اور ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل محمد سلیم قیصر سمیت سرکاری افسران ، نامور اہل قلم ، معروف سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب ڈاکٹر رانا الطاف، پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق بخاری، اظہر سلیم مجوکہ، سابق جی ایم پی ٹی وی تمغہ امتیاز یافتہ راحت بانو ملتانیکر ، شائستہ بانو ، ظہور احمد دھریجہ ، شوکت اشفاق، جعفر بلوچ، مرزا اطہر لطیف، پروفیسر علی سخنور، پروفیسر نسیم شاہد، رانا محبوب اختر، عامر شہزاد صدیقی ، شفقت رضا، اشفاق غوری، فادیہ کاشف، مسز خواجہ محمد یونس، خالد مسعود خان، طلعت جاوید، الطاف شاہد، پروفیسر اعظم محمد نعیم خان، ممتاز کلیانی، رفعت عباس، ناصر محمود شیخ ، ڈاکٹر فرید شریف ، طاہر سلطان،
 محمد احمر، عاصم تنویر، ملک محمد اکمل سینڈ جہانگیر ترین، انجم پتافی، فیاض اعوان، فرید اظہر، سجاد کھوکھر، جمشید رضوانی، افتخار الحسن نے شرکت کی حسب روایت اسسٹنٹ کمشنر فہد اریب اور محترمہ ارم سلیمی کی بھرپور معاونت بھی شامل رہی۔

 تقریب میں بطور میزبان سابق جی ایم پی ٹی وی تمغہ امتیاز یافتہ راحت بانو ملتانیکر نے بھرپور عزت افزائی پر کمشنر ملتان ڈویژن ملتان عامر کریم خان اور تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق والدہ محترمہ کے ثقافتی مشن کو جاری رکھیں گی۔ اس اہم ثقافتی اکٹھ میں عامر کریم خان نے ملتان کے باسیوں کے لئے مزید خوشخبریاں بھی سنائیں اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اس قدیم تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل شہر کو نہ صرف دیگر ترقی یافتہ شہروں کے ہم پلہ بنائیں بلکہ اس کے مشہور قدیم حوالوں کو جدید حسن سے بھی نکھارنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ابھی کالم کی یہ سطور لکھی جار ہی تھیں کہ انہوں نے یہ مژدہ سنایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے 72 ارب کے خطیر فنڈ کی منظوری ہوگئی ہے جو ملتان ڈویژن اور اس کی سات تحصیلوں پر خرچ ہوگا۔ یہ رقم سیوریج اور بیوٹیفیکشن پر خرچ ہوگی جس میں سے 23 ارب سے ملتان کے سیوریج کے دیرینہ مسئلے کو بھی حل کیا جائے گا۔

عامر کریم خان ایک کراماتی اور کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں انہوں نے مزید بتایا ہے کہ 2.8 بلین سے ملتان کے تاریخی قلعہ دمدمہ اور نگار خانے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مزارات سے ملحقہ جگہوں کو سی ایم پنجاب کے ویژن کے مطابق مزید خوبصورت اور جاذب نظر بنایا جائے گا۔ اور یہاں سیاحوں کی دلکشی اور دلچسپی کا سامان پیدا کیا جائے گا۔ ایک جدید طرز کے کیفے میں اس تاریخی اور تہذیبی شہر کے دانشوروں کےلئے مکالمے کی ضرورت کو بھی پورا کیا جائے گا۔ اور ان شااللہ آنے والے دنوں میں یہ خطہ بلاشبہ اپنی قدیم اور جدید روایات کا امیں ثابت ہوگا۔