سیاسی برف پگھلنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 02 / فروری / 2026
آج وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں خیبر پختون خوا میں دہشت گردی اور متاثرین کی امداد کے معاملات زیر غور آئے۔ اس حد تک تو یہ ایک خوش آئیند اقدام ہے کہ ملکی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلنے کے آثار دکھائی دیے ہیں۔ تاہم عمومی ماحول میں اس گرمی گفتار کی عملی شکل دکھائی نہیں دیتی۔
یوں بھی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ملاقات کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے سیاسی تناؤ میں کسی کمی کی تمام امیدوں کو یہ کہہ کر ختم کردیا کہ وہ اپنے عہدے کی مجبوری کی وجہ سے اس ملاقات کے لیے آئے تھے بصورت دیگر ایک سیاسی کارکن کے طور پر وہ کبھی وزیر اعظم سے نہ ملتے۔ گویا وہ بدستور سیاسی مکالمہ و مواصلت سے انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں بے یقینی اور پریشان خیالی کی صورت حال روز بروز گہری ہوتی جارہی ہے۔
ملاقات کے بارے میں سہیل آفریدی نے اگرچہ واضح طور سے کہا ہے کہ انہوں نے وفاق سے صوبے کے حصے کے وسائل ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کو کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس بیان کے مطابق این ایف سی کے تحت صوبوں پر امن و امان کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور خیبر پختون خوا حکومت کو اس کا ادراک کرنا چاہئے۔
طرفین نے اس بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا لیکن سہیل آفریدی کی میڈیا ٹاک اور وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے بین السطور سمجھا جاسکتا ہے کہ خیبر پختون خوا کی حکومت کسی شرط کے بغیر وفاق سے صوبے کے حصے کے فنڈز فراہم کرنے پر زور دے رہی ہے لیکن وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے کسی حد تک امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے صوبائی حکومت کی کارکردگی سے منسلک کیا ہے۔ اس بارے میں قانونی پوزیشن تو قانونی و آئینی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ وفاق موجودہ آئینی تقاضوں کے تحت کس حد تک صوبوں میں وسائل صرف کرنے کے معاملات پر کنٹرول کا حق رکھتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اگر کسی صوبے کی حکومت اور وفاق میں سیاسی ہم آہنگی موجود نہ ہو تو دونوں طرف سے اہم اصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
خیبر پختون خوا کے معاملہ میں یہ صورت حال کافی دیر سے پریشان کن ہے۔ تحریک انصاف اور کے پی کی حکومت تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کو غلط سمجھتی ہے اور وفاق و فوج پر زور دیتی ہے کہ عسکری کارروائی کی بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے اور صوبائی قیادت کواپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ البتہ عسکری قیادت کے ترجمان اور وفاقی حکومت کے نمائیندے اس مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہارڈ اسٹیٹ یعنی نو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ ریاست کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر اور شہریوں کو ہلاک کرنے والے لوگوں سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں وفاقی وزرا نے اس بارے میں سرکاری پالیسی واضح کی ہے اور کہا کہ کہ دہشت گردوں سے نہ تو کوئی بات چیت کی جائے گی اور نہ ہی انہیں کوئی رعایت دی جائے گی۔
اس ماحول میں خیبر پختون خوا حکومت یا تحریک انصاف کی طرف سے دہشت گردی میں ملوث عناصر یا افغانستان کے ساتھ نرمی کی پالیسی کے اشارے قومی یکجہتی کے لیے نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔ وزیر اعظم اور خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کی ملاقات کے بعد البتہ سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ تحریک انصاف یا خیبر پختون خوا حکومت یہ طریقہ اپنے صوبے میں اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے جو اس وقت وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تنازعہ کی اہم وجہ بنا ہؤا ہے۔ کسی حد تک تحریک انصاف خیبر پختون خان میں اقتدار کو اپنے دیگر سیاسی مطالبے منوانے کے لیے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا اظہار آج سینیٹ میں تحریک انصاف کے نمائیندوں کی باتوں سے بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی ضرور ختم ہونی چاہئے لیکن صرف عسکری کارروائی اس کا حل نہیں ہے سیاسی مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رہنا چاہئے۔ تحریک انصاف کے نمائیندوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ موجود پارلیمنٹ کو عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں مانتے ، بلکہ تحریک انصاف ہی عوام کی حقیقی سیاسی نمائندگی کرتی ہے۔ اسے ساتھ ملائے بغیر حکومت کی کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ان باتوں کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی بات چیت یا تعاون پر تو آمادہ ہے لیکن اس تعاون کے بدلے وہ کچھ ایسے مطالبے سامنے لاتی ہے جو موجودہ حکومت کے لیے ماننا مشکل ہے۔
ایسے میں پوری قوم کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیا کوئی درمیانی راستہ تلاش نہیں کیا جاسکتا تاکہ ملک موجودہ سیاسی بحران سے باہر نکل سکے اور خطے کے علاوہ دنیا بھر میں تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی، اسٹریٹیجک اور معاشی حالات میں خود کو بہتر انداز میں پوزیشن کرے۔ یہ سمجھنا یا کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ کہ ملک کے ایک بڑے سیاسی گروہ کو تنہا کرکے ملک کی سیاسی ، سفارتی یا معاشی سمت متعین کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران مشاہدہ کیا جاچکا ہے کہ تمام تر سخت گیر ہتھکنڈوں کے باوجود ملک میں سیاسی عدم اطمینان موجود ہے۔ جلسے جلوس پر پابندیاں اور تحریر و تقریر کو محدود کرنے کے باوجود ناپسندیدگی اور موجودہ سیٹ کے ساتھ ناراضی کا اظہار سامنے آتا رہتا ہے۔ فی الوقت کوئی ایسا امکان بھی نہیں ہے کہ یہ طرز عمل حکومتی زور ذبردستی سے تبدیل ہوجائے گا۔ بلکہ ایسے عناصر بھی حکومت کے خلاف کھڑے ہوں گے جو بظاہر تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس ماحول میں تبدیلی کے لیے صرف تحریک انصاف سے نرمی کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں ہے کیوں کہ اصل اختیار ریاست اور حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں کچھ ڈھیل دینا ہوگی تب ہی سیاسی گانٹھیں کھلنے کا امکان پیدا ہوگا۔
وزیر اعظم کی سہیل آفریدی کے ساتھ ملاقات ایک ایسا موقع ثابت ہوسکتا تھا جو مفاہمت اور تعاون کی راہ کھول سکتا۔ تاہم سہیل آفریدی کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ عدم ااعتماد بدستور موجود ہے اور وفاق اور خیبر پختون حکومت یا تحریک انصاف اپنے مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں۔ اس کی قابل فہم وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ وفاقی حکومت نے اس ملاقات سے پہلے نہ تو کوئی ہوم ورک کیا اور نہ ہی ملاقات کے لیے کوئی ایسا ایجنڈا تیار کیا گیا جس پر وفاقی و صوبائی حکومتیں اتفاق رائے کا راستہ تلاش کرسکتیں۔ جیسا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے بظاہر عمومی اور غیر واضح باتیں کی گئیں جن پر اتفاق یا اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مثلاً سہیل آفریدی کیوں کہیں گے کہ وہ وفاق سے تعاون نہیں کریں گے جبکہ وہ وزیر اعظم کی دعوت پر ان سے ملنے آگئے اور اپنی آئینی سیاسی ذمہ داری پوری کی۔ اس کے برعکس اگر وزیر اعظم نے صوبے کے مالی معاملات کے حوالے سے کوئی ورک پیپر تیار کیا ہوتا اور وسائل کی فراہمی کا ٹھوس منصوبہ ان کے سامنے رکھا جاتا تو صوبائی حکومت کے سربراہ کو بھی علم ہوتا کہ اگر انہوں نے اسے مسترد کیا تو کتنا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے سیاسی معاملات پر رعایت دی جاسکتی تھی جن پر اختلاف کی وجہ سے سہیل آفریدی ہر ہفتے اڈیالہ یا اسلام آباد میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ اس وقت اسٹبلشمنٹ میں تحریک انصاف کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے لیکن یہ تاثر گمراہ کن ہوگا کہ اسٹبلشمنٹ ملکی سیاسی عمل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری ملک کے سیاسی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں تو سیاسی تعطل ختم کرنے کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ البتہ موجودہ حکومت کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ملک میں فعال سیاسی نظام سے زیادہ اسٹبلشمنٹ کی چھتر چھایہ میں رہنا قبول ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے تحریک انصاف کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا احتجاجی طرز عمل حکومت کو زیادہ سخت گیر رویہ اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے۔ تاہم یہ سیاسی ہتھکنڈے وسیع تر قومی مفاد اور موجودہ عالمی و علاقائی حالات میں ملکی سلامتی کے نقطہ نظر سے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔