اڈیالہ میں عمران خان روبصحت ہیں
اڈیالہ جیل سے موؤصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان کا ہسپتال میں علاج ہؤا تھا لیکن وہ اب رو بصحت ہیں۔ یہ اطلاع بشریٰ بی بی کے لواحقین کے ذریعے فراہم کی گئی ہے۔
آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ داروں کی ملاقات ہوئی ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ان کی بھابھی اور بیٹی کے ساتھ ہوئی جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔
ملاقات میں صحت، زیرِ سماعت مقدمات اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات کے بعد بشریٰ بی بی کی بیٹی اور بھابھی نے بیرسٹر گوہر علی خان کو پیغام بھی پہنچایا۔
بشریٰ بی بی نے اپنے اہلِ خانہ کو بتایا کہ عمران خان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے اور تصدیق کی کہ انہیں جیل سے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ان کے مطابق علاج ڈاکٹروں کی ہدایت پر اور عمران خان کی مرضی سے کروایا گیا۔
پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان سے بھی ملاقات ہونی چاہیے تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشری بی بی سے ہونے والی ملاقات سے ’اب یہ تسلی ہو گئی ہے کہ خان صاحب کی طبعیت اچھی ہے۔‘
اس دوران قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم شہباز شریف کے نام ایک خط میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی صحت کا معاملہ اٹھا یا ہے۔خط میں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹروں سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کی عدم موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا گیاہے۔قائدِ حزبِ اختلاف نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔
خط کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا ہسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، محمود خان اچکزئی نے ذاتی ڈاکٹروں کے نام بھی تجویز کر دیئے۔تجویز کردہ ناموں میں ڈاکٹر محمد عاصم یوسف، ڈاکٹر پروفیسر مظہر اسحاق اور ڈاکٹر پروفیسر عامر اعوان کے نام شامل ہیں۔