امریکا و یورپ سے انڈین معاہدے
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 04 / فروری / 2026
ہمارے ملک بالخصوص میڈیا میں انڈیا اور پاکستان کو بالعموم باہم حریف ممالک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ درویش کی ہمیشہ یہ تمنا ہوتی ہے کہ یہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک حریف نہیں، حلیف ہونے چاہئیں اور اسی طرح انہیں پیش کیا جانا چاہیے۔
یہ خواہش محض اس صحافی یا قلمکار کی نہیں ہے۔ اس ملک کے بانی جناح صاحب سے جب وائس آف امریکا کے صحافی نے اس نوع کا سوال کیا کہ مستقبل میں آپ پاک انڈیا تعلقات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے فی البدیہہ جواب دیا کہ یہ ایسے ہی ہوں گے جیسے کینیڈا اور امریکا کے ہیں۔ ان دنوں اگرچہ لاابالی امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے امریکا کینیڈا مثالی تعلقات کے شہد میں بھی سرکہ ملا رکھا ہے مگر یہ ایک نوع کی وقتی شرارت ہے۔ امریکی ڈیمو کریسی کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ اگلی ہی جست میں یہ وقتی خرابی قصہ ماضی بن جائے گی۔ البتہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں سرکہ ملانے والوں نے محض سرکے پر اکتفا نہیں کیا، اس میں اچھا خاصا زہر بھی گھول رکھا ہے۔ لیکن جس طرح ہر درد کا کوئی نہ کوئی دارو ہوتا ہے اسی طرح زہر کا بھی تریاق ہوتا ہے۔
پچھلے برس اپریل میں سانحہ پہلگام ہوا جس کے نتیجے میں آپریشن سندور اور معرکہ بنیان المرصوص جیسی تلخیوں کا دونوں ممالک کو سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ بندی کا سارا کریڈٹ پاکستان نے بجا طور پر امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ کو دیتے ہوئے نوبل پیس پرائز کیلئے ان کی نامزدگی بھی کر دی۔ اس کے بالمقابل پرائم منسٹر انڈیا نے جنگ بندی میں امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ کا سرے سے کوئی رول تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ پرائم منسٹرمودی شاید ٹرمپ کی سیمابی و رنگ بدلتی شخصیت کوسمجھنے سے قاصر رہے۔ پھر کیا تھا ٹرمپ اپنی انا کی تسکین کیلئے ہاتھ دھو کر اس بری طرح سے مودی کے پیچھے پڑ گئے کہ انہیں نیچا دکھانے کا کہیں کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ انڈیا امریکا باہمی مفادات و تعلقات کی بنیادیں کتنی گہرائی تک جا چکی ہیں، ٹرمپ نے اس کی پرواہ کیے بغیر کسی اصول ضابطے یا حساس سفارت کاری کا کوئی لحاظ نہ کرتے ہوئے روس کے ساتھ انڈین اکانومی کو بھی ڈیڈ قرار دے دیا۔ انڈین برآمدات پر خوفناک حد تک بھاری ٹیرف عائد کرنے کے اعلانات شروع کردیئے۔ ہمارے میڈیا کے بڑے حلقوں نے اس وقتی ابال کو پاکستان کیلئے گویا ہنی مون خیال کیا کہ اب پاکستان کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔
ہمارے بلوچستان میں موجود قیمتی معدنیات کے حوالے سے بھی ٹرمپ کو شیشے میں اتارا گیا بلکہ امریکا نے اس حوالے سے سرمایہ کاری کرنے کا نہ صرف عندیہ ظاہر کیا بلکہ سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی ہو گیا۔ امریکی تاریخ میں لاابالی پن یا یوٹرن کے حوالے سے شاید پریذیڈنٹ ٹرمپ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ آج وہی ٹرمپ یہ اعلان کرتے دکھائی دیئے کہ انڈیا اور امریکا کے درمیان شاندار تجارتی معاہدہ ہو گیا ہے۔ جس کے تحت بھارت پر عائد کیا جانے والا ٹیرف سو، دو سو، پچاس یا پچیس سے بھی گر کر محض اٹھارہ فیصد رہ گیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ اب انڈیا امریکی مصنوعات کی خریداری میں پانچ سو ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ کرے گا۔ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کرتے ہوئے امریکا اور ممکنہ طور پر وینزویلا کا تیل خریدے گا۔ یہ معاہدہ دونوں بڑی معیشتوں اور جمہوریتوں کے درمیان تعاون کا مظہر ہے۔
جوابی طور پر پرائم منسٹر مودی نے ایکس پر لکھا کہ آج اپنے عزیز دوست پریذیڈنٹ ٹرمپ سے بات کر کے خوشی ہوئی کہ اب ”میڈ ان انڈیا“ مصنوعات پر ٹیرف کم ہوکر محض اٹھارہ فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے بھارت کیلئے تاریخی کامیابی قرار دیا۔ کہنے والے جو بھی کہیں مگر سچائی یہ ہے کہ بالآخر ٹرمپ نے مودی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں کیونکہ انڈیا کیلئے روسی تیل سے کہیں اہم اس کی طرف سے امریکا جانے والی برآمدات ہیں جن پر ٹیرف پاکستان سے بھی ایک درجہ کم کر دیا گیا۔ جبکہ ان کا حجم پاکستان کے بالمقابل کوئی مماثلث ہی نہیں رکھتا ہے۔ نیز وینزویلا کا خام تیل روسی تیل کا بہتر متبادل ہو گا۔ مزید یہ کہ رشیا یوکرین جنگ بندی کے بعد اس نوع کی کوئی رکاوٹ ویسے ہی ختم ہونے والی ہے۔ دوسری طرف رشین حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انہیں انڈیا کی طرف سے اس نوع کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔
انڈیا کو اس سے بھی بڑی کامیابی چند روز قبل بھارت اور یورپی یونین میں ہونے والے زبردست تاریخی تجارتی معاہدے کی صورت ملی ہے جس کے تحت یورپ بھارت سے درآمد 99.5 اشیا پر محصولات صفر کر دے گا جبکہ انڈیا یورپی گاڑیوں پرٹیرف 110 سے کم کرتے ہوئے 10 فیصد پر لے آئے گا۔ فریقین نے دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دو ارب انسانوں کیلئے ہونے والے اس معاہدے کو عالمی تجارتی نظام میں ہلچل قرار دیا جا رہا ہے جو بھارت اور یورپی یونین میں بیس سالہ مذاکرات کے بعد ایک جامع معاشی معاہدہ ہے جسے خود یورپی قیادت نے تمام تجارتی معاہدوں کی ماں قرار دیا ہے۔ انڈین پرائم منسٹر نریندرا مودی نے اسے بھارت کا اب تک ہونے والا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کی ایک تہائی عالمی تجارت کو متاثر کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی بھارت کو ایک بڑی کامیابی نایاب معدنیات Rare earth minerels سے متعلق عالمی اقتصادی کانفرنس میں باضابطہ شرکت اور اہم کردار کا ملنا ہے جبکہ پاکستان کو اس اہم کانفرنس میں مدعو ہی نہیں کیا گیاہے، جس کیلیے ہماری دونوں شخصیات تیاری کیے بیٹھی تھیں۔ یہ افسوسناک امر ہے۔ واضح رہے کہ یہ عالمی اقتصادی کانفرنس امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کی سربراہی میں دو سے چار فروری تک واشنگٹن میں منعقد ہوئی ہے جس میں عالمی رہنماﺅں اور صنعتی ماہرین کی موجودگی میں نایاب معدنیات، جدید ٹیکنالوجی اور سٹریٹجک شراکت داریوں پر جائزے پیش کئے گئے ہیں۔ امریکا، انگلینڈ، یورپی یونین، آسٹریلیا، جاپان، انڈیا اور دیگر امریکی اتحادی ممالک جن میں جی سیون کے علاوہ قریباً بیس ممالک نے شرکت کی۔ جس میں نایاب زمینی دھاتوں پر بڑھتے ہوئے انحصار، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے عدم استحکام کو جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، قابل تجدید توانائی اور صنعتی پیداوار کیلئے اہمیت واضح کی گئی۔ آسٹریلیا نے واضح کیا کہ وہ چین کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر معدنیات کے سٹریٹجک ذخائر قائم کرنا چاہتے ہیں اور امریکا سے اہم معدنیات کی کم از کم قیمت پر ضمانت چاہتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہمارے بلند پرواز کی یہ ویڈیو قابل ملاحظہ یا چشم کشا ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ” میں اور آرمی چیف کس طرح خاموشی کے ساتھ مختلف دوست ممالک کی قیادتوں کے پاس سرجھکا کر گئے اور درخواستیں دیں، قرضے لینے کے لئے۔ آپ جانتے ہیں جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سرجھکا ہوا ہوتا ہے۔ عزت نفس پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ جواب میں ان کی طرف سے جو Obligations آتی ہیں وہ چاہے کتنی ہی نامناسب بلاجواز یا ناگوار ہوں، وہ ماننی پڑتی ہے”۔ اس تلخ نوائی میں ہماری معاشی بدحالی کی پوری کہانی پوشیدہ ہے۔ ہم عالمی سپرپاور کو بلوچستان کی جو نایاب زمینی دھاتیں دکھا کر رام کر رہے تھے، اسی بلوچستان کی آج کیا صورتحال بنی پڑی ہے؟ “ہزار سال جنگیں” لڑنے کے بیانات سے دل دکھتا ہے۔ اسی طرح کرکٹ میں بڑھکیں ہانکنے سے کیا ہماری معاشی مشکلات دور ہو جائیں گی؟ کتنے دکھ کی بات ہے، کیا ہم اپنی معاشی تنگناﺅں پر سوچ بچار کرنے کی بجائے چائلڈ میرج کے لایعنی ایشوز کو دین ایمان اور زندگی موت کا مسئلہ بنائے بحثیں نہیں کر رہے ہیں؟
اخبارات میں سرخیاں یہ چھپ رہی ہیں کہ نصف صدی میں پاکستان کی آبادی بھارت اوربنگلہ دیش کے مقابلے میں ماشاللہ دگنی بڑھ گئی ہے، یہ ہے ترقی؟ کیا آبادی اور دستیاب وسائل میں کوئی مطابقت نہیں ہونی چاہیے؟
درویش کی اپنے مہربانوں کی خدمت میں التماس ہے کہ بڑی بڑی چھوڑنے یا دشمنی و منافرت کے نعروں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، کوئی نعرہ، کوئی نظریہ، کوئی حکومت ، کوئی محکمہ،کوئی ادارہ اور کوئی شخصیت ان ناتواں پچیس کروڑ انسانوں سے قیمتی نہیں۔ اب ہمیں ان کے معاشی دکھوں کو دور کرنا اپنا ٹارگٹ بنانا ہو گا۔ انڈیا یا کوئی اور ہمارا دشمن نہیں ہم خود ہمارے دشمن ہیں:
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن