دہشت گردی اور انسانی حقوق کا سوال
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 04 / فروری / 2026
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دہشت گردی کے بعد کوئٹہ کا دورہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ’ معاشرے میں تشدد یا دہشت گردی کے لیے کوئی بھی عذر دلیل کے طور پرقبول نہیں کیا جاسکتا‘۔ انہوں نے بھارت کی سرپرستی میں جار ی فتنہ الہندوستان کے مکمل خاتمے تک اس کا مقابلہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
ایک طرف ملک میں دہشت گردی کی صورت حال پریشان کن ہے تو دوسری طرف عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور آزادی اظہار پر پابندیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی ادارے حکومت پاکستان کی طرف سے بنیادی حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو دی گئی سزاؤں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں کو گزشتہ ماہ کے آخر میں سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹس لگانے کے جرم میں سترہ سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان سزاؤں کے بعد ان دونوں کو اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو ملاقاتوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اب ایمان مزاری کی والدہ سابق وزیر شیریں مزاری نے جیل میں بیٹی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ کسی شہری کو اگر ملک میں اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے بھی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے تو اس سے منہ زور حکومتی ہتھکنڈوں اور ہٹ دھرمی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کس حد کسی جرم میں ملوث تھے لیکن کوئی شخص خواہ کیسے ہی سنگین الزام میں قید کیا جائے، اس کے اعزہ کو ملاقات کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کوئی بھی اقدام نہ صرف قیدی بلکہ اس کے ایسے لواحقین کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جو بادی النظر میں کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوتے مگر انہیں صرف ایک ممتاز قیدی کا رشتے دار ہونے کی سزا دی جاتی ہے۔ یہ رویہ کسی ذمہ دار حکومت کو زیب نہیں دیتا، خاص طور سے ایک ایسی حکومت جو جمہوریت کی دعویدار ہو اور انتخابی کامیابی کے نتیجے میں خود کو اقتدار کا حقدار سمجھتی ہو۔ اب یہ واضح ہونا بے حد ضروری ہے کہ ووٹوں کی مشکوک گنتی کے بعد اقتدار حاصل کرنا ہی بنیادی حق نہیں ہے بلکہ اپنی رائے کے اظہار اور بنیادی حقوق بھی جمہوری حق و ضرورت ہیں۔ موجودہ حکومت بے حد ڈھٹائی سے اس بنیادی اصول کو پامال کررہی ہے۔
اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ملنے والی سزاؤں کے خلاف جو رپورٹ لکھی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’ یہ طویل سزا ئیں محض اظہار رائے کا قانونی حق استعمال کرنے پر دی گئی ہیں۔ وکلا کو بھی دیگر شہریوں کی طرح آزادی رائے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایسے اظہار پر مجرمانہ دفعات عائد نہیں ہونی چاہئیں‘۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی قانون میں دہشت گردی سے متعلق متعدد دفعات غیر واضح ہیں۔ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو سزاؤں سے وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اس طرز عمل سے ملک کی سول سوسائیٹی میں خوف کی فضا پیدا ہوگی۔
اس سے پہلے بھی ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو دی گئی سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج سامنے آچکا ہے لیکن حکومت نے اس پر کوئی رد عمل دینا مناسب نہیں سمجھا۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جسٹس اور اس کی معاون تنظیموں نے 29 جنوری کو ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو دی گئی سزاؤں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن بھی ان سزاؤں کو مسترد کرچکا ہے۔ یورپین یونین اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں نے بھی ان سزاؤں کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسے بیانات یا رپورٹوں کونظرانداز کرکے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن عالمی احتجاج اور حکومت کی پراسرار خاموشی سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں قانون کا احترام نہیں ہے اور ریاست غیر قانونی ہتھکنڈوں سے خوف کی فضا پیدا کرکے موجودہ نظام مسلط رکھنا چاہتی ہے۔ اس حکومتی رویہ کے لیے جزوی طور سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ، کسی دوسرے ملک یا عالمی ادارے کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں عدالتی نظام کام کررہا ہے اور حکومت کسی عدالتی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
یہ طرز عمل یا مؤقف بنیادی حقائق سے انحراف کے مترداف ہے۔ دنیا اب گلوبل ولیج کی صورت اختیار کرچکی ہے اور ایک علاقے میں رونما ہونے والے معاملات دوسرے ممالک پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کو کسی بھی ملک کا اندرونی معاملہ نہیں سمجھا جاتا۔ اگرچہ اس حوالے سے عالمی رد عمل کا طریقہ سفارتی تقاضوں اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کا محتاج رہتا ہے۔ اسی لیے چین یا روس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر محض بیانات کافی سمجھے جاتے ہیں جبکہ اگر ایران میں مظاہرین پر گولی چلائی جائے تو امریکہ براہ راست مداخلت کا راستہ اختیار کرنے پر بھی آمادہ ہوجاتا ہے۔ تاہم اس وقت علاقائی ا اور عالمی سطح پر حاصل ہونے والے سفارتی اثر و رسوخ اور اہمیت کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ بڑی طاقتیں نسبتاً فراخدلانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن پاکستان معاشی و سیاسی لحاظ سے ایک کمزور ملک ہے۔ اس کی اخلاقی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو اور عام لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر اظہار خیال سے کوئی بھی شخص بڑی تبدیلی لانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اگر فوج کے سیاست میں مداخلت یا دیگر بدنظمی کے خلاف چند باتیں کی ہیں تو اس سے ریاست یا حکومت کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ البتہ اگر کچھ عناصر سوشل میڈیا کو ملک و قوم کے مفادات کے خلاف استعمال کرتے ہوں تو ان کا ضرور احتساب ہونا چاہئے۔ اسی لیے دہشت گردی کے علاوہ سوشل میڈیا پر اظہار رائے سے متعلق ریاستی طرز عمل تبدیل کرنے اور اس میں توازن پیدا کرنا بے حد ضروری ہے۔ حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ چند مخالفانہ پوسٹوں کے خلاف طویل سزاؤں کا رد عمل دیتے ہوئے درحقیقت کوئی بھی حکومت اپنی بدحواسی کا اظہار کرتی ہے۔ یہ بدحواسی چند بے ضرر لوگوں کو طویل المدت سزائیں دے کر دور نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے لئے اعتماد اور عوام کے ساتھ مواصلت کا تعلق استوا ر ہونا چاہئے۔
حال ہی میں بلوچستان میں دہشت گردی کے جو سنگین واقعات رونما ہوئے ہیں، ہر محب وطن ان کی مذمت کرتا ہے اور اسے ناقابل قبول کہتا ہے۔ اس لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ تشدد اور دہشت گردی کے لیے کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر کچھ عناصر اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کے دشمن ممالک کے آلہ کار بنتے ہیں تو ان کی مذمت بھی ضروری ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ جب تشدد اور دہشت گردی کو ناقابل قبول کہا جائے گا تو معاشرے میں اختلاف رائے کے دیگر راستے کھولنے ضروری ہوجاتے ہیں۔ بلوچستان کی صورت حال پیچیدہ اور وہاں تشدد کی درجنوں وجوہ ہیں لیکن ان میں ایک نمایاں وجہ گھٹن کا ماحول ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو اپنے دل کی بات کرنے کاموقع حاصل نہیں ہوتا۔ یہ جبر جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو بعض لوگ انتہاپسندانہ ہتھکنڈے اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے عام طور سے یہ مانا جاتا ہے کہ ملک کے دو صوبوں میں شورش کی موجودہ صورت حال سے نمٹتے ہوئے صرف عسکری طاقت پر انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مواصلت و سہولت کے راستے کھلے رہنے چاہئیں۔
تاہم جب ایمان مزاری و ہادی چٹھہ کے علاوہ ملک میں عام طور سے اور بلوچستان میں بطور خاص اظہار رائے کے دروازے بند کیے جائیں گے اور ملک دشمن قرار دینے کا سخت گیر رویہ اختیار کیا جائے گا تو اس سے انتہا پسندی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے دلیل دینے والوں کی بات میں وزن پیدا ہوتا ہے۔ بلوچستا ن کے حوالے سے ریاست پاکستان نے لاپتہ افراد کے معاملے پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرکے بنیادی حقوق کے سوال کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور اظہار رائے کے حق میں بنیادی تعلق ہے۔ سول سوسائیٹی کو مضبوط بنا کر، بنیادی حقوق کی گارنٹی دے کر اور اختلاف رائے قبو ل کرنے کی پالیسی اختیار کرکے شدت پسندی کے رجحان کا منہ موڑا جاسکتا ہے۔