پاکستان میں ہرسال تیس لاکھ تک نوکریاں پیدا کرنا ضروری ہے: ورلڈ بنک
پاکستان کو آئندہ دس برسوں میں تقریباً 3 کروڑ تک نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی تاکہ نوجوان آبادی کے اضافے کو معاشی فائدے میں بدلا جا سکے۔ یہ بات عالمی بنک کے سربراہ اجے بنگا نے پاکستان کے دورہ کے دوران ڑائیٹرز کو انٹرویو میں کہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک کو عدم استحکام اور بیرونِ ملک ہجرت کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان گزشتہ سال ورلڈ بینک کے ساتھ طے پانے والے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک معاہدے کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔ تاہم اسلام آباد پر مسلسل معاشی نمو اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
کراچی میں اس ہفتے پاکستان کے دورے کے دوران رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بنگا نے کہ ہم پورے بینک گروپ کو منصوبوں کے تصور سے نکال کر نتائج کے تصور کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روزگار کی تخلیق ہی ہماری رہنما سمت ہے۔
بنگا کے مطابق پاکستان کو ہر سال 25 سے 30 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی آئندہ دہائی میں تقریباً 25 سے 30 ملین نوکریاں۔ کیونکہ لاکھوں نوجوان عملی عمر میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایسا کرنے میں ناکامی غیر قانونی ہجرت یا اندرونی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کے رجحانات کے باعث روزگار کی فراہمی طویل مدت میں معاشی ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بنی رہے گی۔ اسے محض ایک ثانوی پالیسی ہدف کے طور پر اختیار کرنا غلط ہے۔
سی پی ایف کے تحت ورلڈ بینک گروپ کی جانب سے سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں سے لگ بھگ نصف نجی شعبے کے منصوبوں کے ذریعے آئے گی۔ ان کی قیادت انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کرے گی۔
بنگا نے کہا کہ نجی سرمایہ پر انحصار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی اخراجاتی صلاحیت محدود ہے۔ 90 فیصد نوکریاں نجی شعبہ پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی روزگار حکمتِ عملی تین ستونوں پر استوار ہے: انسانی اور جسمانی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، کاروبار دوست ضابطہ جاتی اصلاحات، اور فنانسنگ و انشورنس تک رسائی میں توسیع۔ خاص طور پر چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے سہولتیں مہیا ہونی چاہئیں جو عموماً بینک قرض سے محروم رہتے ہیں۔
ان کے مطابق انفراسٹرکچر، بنیادی صحت، سیاحت اور چھوٹے پیمانے کی زراعت ایسے محنت طلب شعبے ہیں جن میں روزگار کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف زراعت ہی 2050 تک پاکستان کو درکار نوکریوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کر سکتی ہے۔ فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی پاکستان میں کاروباری صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم ان افراد کو سرمایہ، انفراسٹرکچر اور معاونت تک بہتر رسائی درکار ہے تاکہ وہ نوکریاں پیدا کرنے والے کاروباروں میں تبدیل ہو سکیں۔
ورلڈ بنک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ماہر افرادی قوت کی بڑے پیمانے پر ہجرت اس دباؤ کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ گیلپ پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، جو بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں، 2025 میں تقریباً 4000 ڈاکٹر پاکستان سے بیرونِ ملک منتقل ہوئے جو اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمزور روزگار کے مواقع اور ناقص کام کے حالات تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
بنگا نے کہا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی اصلاح فوری قلیل مدتی ترجیح ہے۔ کیونکہ بجلی کی ترسیل میں نقصانات اور عدم موثر ہونے کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں بہتری کے باوجود معاشی نمو محدود رہی ہے۔ پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے ترسیلی نقصانات، بلوں کی ناقص وصولی اور حکومتی سبسڈیز میں تاخیر کے باعث بڑھتے ہوئے قرضوں کا شکار رہا ہے۔ جس سے سرکاری مالیات پر دباؤ پڑا اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ یہ قرضہ آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے اصلاحاتی پروگراموں میں بارہا زیرِ بحث رہا ہے۔ تاہم مسلسل آنے والی حکومتیں توانائی کو سستا رکھتے ہوئے نقصانات پر قابو پانے کی جدوجہد کرتی رہی ہیں۔
بنگا نے کہا کہ بجلی کی تقسیم میں نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت میں پیش رفت کارکردگی بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے اور شعبے کی مالی بحالی کے لیے نہایت اہم ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تقسیم کے شعبے میں اصلاحات تیز نہ کی گئیں تو تیزی سے بڑھتا ہوا چھتوں پر شمسی توانائی کا استعمال، اگرچہ گھروں اور کاروباروں کے لیے توانائی کے اخراجات کم کرتا ہے، لیکن بجلی کے نظام میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی ہر چیز کی بنیاد ہے یعنی صحت، تعلیم، کاروبار اور روزگار۔
بنگا نے تجویز دی کہ موسمیاتی مزاحمت کو الگ ایجنڈا بنانے کے بجائے ترقیاتی اخراجات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ جہاں بار بار سیلاب، شدید گرمی اور غیر متوقع مون سون دیکھنے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر، رہائش، پانی کے انتظام اور زراعت میں موسمیاتی مزاحمت کو شامل کرنے سے نہ صرف روزگار میں مدد ملے گی بلکہ طویل مدتی خطرات بھی کم ہوں گے۔
جیسے ہی آپ موسمیاتی تبدیلی کو رہائش، خوراک یا آبپاشی سے الگ سمجھنے لگتے ہیں، ایک مصنوعی بحث جنم لیتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ جو کام آپ پہلے ہی کر رہے ہیں، اس پر سختی سے کاربند ہوں ۔
ورلڈ بینک کے عالمی پورٹ فولیو میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر بنگا نے کہا کہ وہ پاکستان کو کمزوری یا بحران جیسے لیبلز کے ذریعے نہیں دیکھتے بلکہ اسے طویل مدتی روزگار کے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔