پتنگیں، کتابیں، بسنت اور لاہور
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 05 / فروری / 2026
اب یہ بحث بھی چل نکلی ہے کہ جب لاہور میں تین روزہ بسنت کی تاریخیں سامنے آ چکی تھیں تو لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر انہی تاریخوں میں کیوں رکھا گیا۔ بک فیئر آٹھ فروری کے بعد بھی رکھا جا سکتا تھا۔
کتب فروشوں کی تو خواہش یہی ہے جس طرح عوام پتنگیں خریدنے کے لئے جوق در جوق اندرون شہر اور دیگر ایسے مقامات کا رُخ کر رہے ہیں، جہاں پتنگیں فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے اسی طرح وہ ایکسپو سنٹر بھی آئیں۔اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا، ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔بسنت کا جو زور شور ہے وہ کتابیں خریدنے والے پیدا نہیں کر سکتے۔ کچھ دوستوں نے ایسی پوسٹیں لگائیں جن پر یہ کہا گیا تھا کہ آپ اگر پتنگیں خریدنے پر ہزاروں روپے خرچ کر سکتے ہیں تو دو چارہزار کتابیں خریدنے پر بھی کریں، ہائے ہائے کیسا مطالبہ ہے اور کیا مطابقت ہے۔
بسنت منانا تو اب اسٹیٹس سنبل بن گیا ہے، کتاب خریدنا یا پڑھنا تو ہمارے ہاں کبھی یہ علامت رہا ہی نہیں۔ بسنت منانے کے لئے ہوٹلوں اور بڑے پلازوں کی چھتیں لاکھوں روپے کرائے پر بِکی ہیں۔ایکسپو سنٹر میں سٹال زیادہ سے زیادہ ایک دو لاکھ میں مل جاتا ہے۔ اس موقع پر یہ مقابلہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔ کتاب پڑھنے والے تو معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں جبکہ 18 برسوں سے بسنت کے لئے ترسے ہوؤں کی تعداد بلاشبہ کروڑوں میں ہے۔ پھر آج کے دِنوں میں کہ جب ہر کوئی صبح سویرے یہ سوچ کر گھر سے نکلتا ہے، پتنگ کہاں سے خریدنی ہے تو اُسے ٹریفک پولیس بھی مجبور نہیں کر سکتی،وہ اپنا رخ ایکسپو سنٹر میں کتاب میلے کی طرف موڑ لے۔
ظالمو! اہل لاہور کا امتحان نہ لو، اب کتابیں کم بکیں گی تو کہا جائے گا دیکھا لاہوریوں کو کتابیں پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ،جبکہ بسنت پر اربوں روپے اُڑا دیئے۔ پہلے کہتے تھے کتاب مہنگی، اب اڑھائی تین سو میں عام سی پتنگ خرید رہے ہیں تو انہیں کاغذ کی مہنگائی کا احساس ہو رہا ہے۔ آٹھ صفحات کا اخبار تیس روپے میں مل جاتا ہے جبکہ اُس کے ایک صفحہ کے برابر پتنگ200روپے میں مل رہی ہے، وہ بھی مشقت اور تگ و دو کے بعد۔لاہوریوں کا تو ویسے بھی پورے ملک میں کوئی جوڑ نہیں، جو کام بھی کرتے ہیں اُس میں انوکھا رنگ ڈال دیتے ہیں۔ بسنت تو ویسے بھی لاہور کا معروف تہوار ہے۔ اب اجازت ملی ہے تو پاگل دیوانے ہو گئے ہیں۔اٹھارہ سال بعد تو بچھڑا محبوب بھی اگر ملے تو دیوانگی عروج پر ہوتی ہے یہ تو بسنت ہے جو ایک بڑی خوبصورت محبوبہ کادرجہ رکھتی ہے۔
مجھے کل عبدالستار عاصم نے لاہور سے فون کیا۔ موصوف کتاب کے سفیر ہیں اور زندگی اُس کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔ اپنا اشاعتی ادارہ بھی چلاتے ہیں اور کتاب کی ترویج کے لئے دامے درمے، سخنے لگے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا پبلشروں اور کتاب فروشوں کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بسنت کا شور شرابہ، ہلا گلا اتنا ہے کہ لاہور میں اور کچھ سجھائی ہی نہیں دے رہا۔ لاہور کی سجاوٹ بھی اپنے عروج پر ہے اور بسنت بسنت ہی ہر طرف نظر آ رہی ہے۔ اس سے پہلے جب لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر ہوتا تھا تو لاہور اُس کے پینا فلیکس سے سج جاتا تھا ،اب اُس کی حالت جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا جیسی ہے۔ اس کی تاریخوں میں ردوبدل ہونا چاہئے تھا مگر خواہ مخواہ کی ضد نے ایسے موسم میں کہ جب صرف ہلے گلے کی فضاہے، کتاب جیسی سنجیدہ چیز کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانا ایک بڑا مشکل کام ہے۔
خیر دیکھتے ہیں بسنت کے تین دِنوں میں، کتاب میلے کے پانچ دِنوں پر کیا گزرتی ہے۔ میں نے کہا علامہ صاحب دِل چھوٹا نہ کریں۔اہل لاہور میں کتابوں سے عشق کا جو ازلی جنون موجود ہے۔ اس کی وجہ سے وہ کتاب میلے کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ میں نے کہا اِن دنوں میں کتاب میلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ پورے ملک بلکہ دنیا بھر سے لوگ لاہور آئے ہوں گے۔ سارا دن تو پتنگیں نہیں اڑائیں گے، وہ فراغت کے وقت اس کتاب میلے میں بھی ضرور آئیں گے۔ میری اس منطق پر وہ لاجواب ہو گئے۔ ایک صاحب پوچھ رہے تھے کیا ایف بی آر نے پتنگیں بیچنے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی کوئی ٹیکس لگانے کا نظام وضع کیا ہے۔ سرمائے کی اتنی بڑی گردش تو کبھی ہوئی نہیں جتنی بسنت پر ڈور اور پتنگ خریدنے کے عمل میں ہو رہی ہے۔ایک ایک بندہ کم از کم پانچ سے دس ہزار کی پتنگیں خرید کر لے جا رہا ہے۔ ڈور اس کے علاوہ، اندازً پانچ ارب روپے کی سرکولیشن ہو گی جو اس دور میں غیر معمولی بات ہے۔میں نے کہا بات تو سچ ہے لیکن یہ معاملہ اتنا بکھرا ہوا اور پیچیدہ ہے کہ اس موقع پر سمیٹنا ممکن نہیں۔بس اچھی بات یہ ہے سرمائے کی گردش ہوتی ہے جس کے معیشت پر یقینا ًاچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
سنا ہے آج کل لاہور کے انتظامی و پولیس افسروں کو خواب میں بھی بسنت نظر آ رہی ہے۔اُن کا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ ایک آزاد پتنگ کو انہوں نے مختلف شرائط اور ضابطوں میں جکڑ کر رکھا ہے۔ ارے بھائی یہ کیسے ممکن ہے؟اس سوال کا اُن کے پاس جواب تو کوئی نہیں۔ البتہ پُرعزم ضرور ہیں کہ کوئی تصویر والی پتنگ نہیں اڑنے دیں گے،کوئی دھاتی ڈور استعمال نہیں ہوگی، کوئی ایسا گانا نہیں چلے گا جس پر پابندی لگائی گئی ہے۔ کوئی ایسی موٹر سائیکل سڑک پر نہیں آئے گی جس کے ہینڈل پر آئرن راڈ نہ لگا ہو۔اِس سے پہلے یہ بھی ضروری بنایا گیا ہے کہ کوئی منظور شدہ یا غیر رجسٹرڈ ڈیلر پتنگیں اور ڈور نہ بیچ سکے۔لاہور کی انتظامیہ اور پولیس تو ان بکھیڑوں میں پڑی ہے مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ باقی پنجاب کی انتظامیہ اور پولیس سُکھ چین سے بیٹھی ہے۔ اسے یہ بخار چڑھا ہوا ہے کہ لاہور میں جہاں آسمان پر پتنگیں ہی پتنگیں نظر آئیں وہاں باقی پنجاب کے کسی شہر میں پتنگ نہ اڑے۔
اب میں سوچ رہا ہوں ٹاسک، لاہور کے افسروں کا مشکل ہے یا باقی پنجاب کے افسروں کا۔دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔پھر ایک اور چیلنج بھی درپیش ہے۔ آٹھ فروری کو پی ٹی آئی نے ہڑتال کی کال بھی دے رکھی ہے، پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ایک طرف غیر منظور شدہ پتنگ اڑانے والوں کو پکڑنا ہے اور دوسری طرف جلوس نکالنے والوں کو۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں پولیس نے آسمان پر پتنگوں اور زمین پر جلوسوں کو ناممکن بنانا ہے۔
واہ واہ کیا مقابلہ ہے کیا سرگرمی ہے۔اس بار بسنت کے رنگ تو واقعی بہت وکھڑے ٹائپ کے لگ رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)