بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار پیدا کرنے کی ضرورت!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 05 / فروری / 2026
ورلڈ بنک کے سربراہ اجے بنگا نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے حالیہ دورہ کے دوران انہوں نے نیوز ایجنسی روئیٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو آئیندہ دس سال تک ہر سال پچیس سے تیس لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ بصورت دیگر نامعلوم بحران کا سامنا ہوگا۔
اجے بنگا کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر آبادی میں اضافے اور روزگار کے مواقع میں توازن پیدا نہیں کرتا تو عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس عدم استحکام کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں لیکن ہنر مند افراد کی نقل مکانی کو ایک اہم وجہ کے طور پر بیان کیا ہے۔ یوں بھی کسی ملک سے آبادی کا بڑے پیمانے پر انخلا کئی طرح کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اور معاشرہ خود کو درکار صلاحیتوں سے محروم ہوتا ہے۔ یہ عدم استحکام سیاسی بے چینی اور نظام حکومت میں کمزوری کا سبب بھی بنتا ہے۔ شہباز شریف کی موجودہ حکومت معیشت بحال کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اقتدار میں آئی تھی ۔ وزیر اعظم متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی نے سیاست قربان کرکے ملکی معیشت بچانے کا فیصلہ کیا۔ اس بیان سے بنیادی طور پر وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی حکومت غیر مقبول فیصلے کرنے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے اس کی سیاسی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔
شہباز شریف کا یہ بیان جزوی طور سے ہی درست کہا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ کزشتہ سال فروری میں منعقد ہونے والے انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مقبولیت اس سطح پر نہیں تھی جس کے پیش نظر اسے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوسکتی اور وہ حکومت بنا سکتی۔ تحریک انصاف کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ ان انتخابات میں ووٹروں کا اندراج کرنے میں گڑ بڑ کی گئی تھی۔ اسے عام طور سے فارم 47 کی بنیاد پر جاری ہونے والے نتائج بھی کہا جاتا ہے جو غیر مصدقہ اور ووٹوں کے حقیقی اندراج سے میل نہیں کھاتے۔ مسلم لیگ (ن) اگر کسی ایسے سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر انتخابات میں جاتی اور ہار جاتی جس میں ٹیکس میں اضافے اور معاشی نظام میں تبدیلی کے اہم مگر تکلیف دہ فیصلے شامل ہوتے تو اسے ضرور پارٹی کی طرف سے سیاست قربان کرنا کہا جاسکتا تھا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہی نہیں باقی سب سیاسی پارٹیاں بھی کسی خاص سیاسی یا معاشی اصلاحاتی ایجنڈے پر انتخابات میں نہیں جاتیں۔ انتخابی مہم میں عام طور سے لوگوں سے جھوٹ بولے جاتے ہیں اور ناقابل عمل وعدے کیے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان سیاسی چالوں کو سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ ضرور اس جھانسے میں آجاتے ہیں۔ ان معنوں میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا انتخابی منشور حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا بلکہ اسے اقتدار کے حصول کی کوشش کہا جاسکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) نے بھی یہی کیا اور انتخابات میں لوگوں کی معاشی ضرورتیں پوری کرنے کے جھوٹے سچے وعدے کیے گئے۔ یہ وعدے اعداد و شمار، معروضی حالات یا ملک کو درپیش چیلنجز کی روشنی میں نہیں کیے جاتے بلکہ ان کا واحد مقصد مخالف سیاسی پارٹیوں کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ اسی لیے انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے اپنے معاشی پروگرام پر بات کرنے کی بجائے اس بات پر زور دینا زیادہ ضروری سمجھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ خراب کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا گیا تھا۔ شہباز شریف کی حکومت اب تک اسی نعرے کی آڑ میں اپنی بد انتظامی اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتی۔ ملکی معیشت کے حوالے سے موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی درحقیقت آئی ایم ایف سے قرض لے کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا۔ شاید کوئی بھی دوسری حکومت یہی راستہ اختیار کرتی۔ اسے کسی ایک پارٹی کا کمال کہنا مشکل ہے۔ البتہ حکومت کی کامیابی ناپنےکا وہ پیمانہ ضرور درست ہے جس کی طرف اب ولڈ بنک کے سربراہ نے اشارہ کیا ہے۔ اس کے مطابق حکومت آبادی پر کنٹرول کرنے اور نوجوانوں کی نئی کھیپ کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ اس ناکامی کی جزوی وجہ ملک میں جاری سیاسی تصادم کی صورت حال ہے۔ تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پی ٹی آئی کسی بھی قیمت پر سیاسی سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس لیے ملک عدم استحکام کا شکار ہے، بیرونی سرمایہ کاری رکی ہوئی اور ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں ہورہا۔
اجے بنگا نے روزگار کے مواقع میں اضافہ کے لیے جس عدم استحکام کی طرف اشارہ کیا ہے، اسے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اگر سرمایہ کاری لانے، قومی پیداوار میں اضافہ کرنے اور نوجوانوں کو تعلیم یا روزگار میں مصروف رکھنے میں کامیاب ہوجاتی تو سیاسی اختلافات کے باوجود ملک میں معاشی سہولت حکمران جماعتوں کے لیے آسانی کا سبب ہوسکتی تھی لیکن یہ انتظام نہیں کیا جاسکا۔ اسی لیے ہر طرف پریشانی دکھائی دیتی ہے جو سیاسی احتجاج اور شدت پسندانہ رویوں کی شکل بھی اختیار کرتی ہے۔ اب بھی اگر عالمی ماہرین کی تجاویز کے مطابق ان حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی تو ورلڈ بنک کے سربراہ کا خیال ہے کہ ملک کو عدم استحکام کا سامنا ہوگا۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس کے نتیجے میں حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔ سیاسی اختلافات زیادہ شدید ہوجائیں گے اور حکومت کے لیے کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ وسیع بیروزگاری اور بدحالی کی صورت حال سماجی توڑ پھوڑ ، غربت اور احتیاج کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔
اجے بنگا نے پاکستان کو درپیش مسائل کو سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہوئے ، ان کے حل بھی تجویز کیے ہیں۔ البتہ کوئی عالمی مالیاتی ادارہ صرف اسی فریم ورک کے تحت ہی کسی حکومت کی کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتا ہے جو اس ملک کی حکومت کے ساتھ طے پاچکا ہو۔ وسیع اور عمومی اصلاحات کا اختیار اور موقع صرف حکمرانوں کے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے۔ ورلڈ بنک کے سربراہ نے آبادی میں اضافے کے علاوہ، ملکی انتظامی ڈھانچے کے نقائص اور بجلی کی تقسیم و بلوں کی وصولی کے مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اجے بنگا کا کہنا ہے کہ توانائی کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ابھی تک اس کی تقسیم کا انفرا اسٹرکچر ناقص ہونے کی وجہ سے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اسے عام طور سے لائن لاسز کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے بلوں کی وصولی بھی ایک مشکل مرحلہ ہے جس میں حکومت مسلسل ناکام ہورہی ہے۔ بنگا کے خیال میں حکومت سبسڈی کے ذریعے بجلی کی قیمت کم کرکے اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس طرح اصل مسائل دور نہیں ہوپاتے۔
یہ ایک سادہ سا اصول ہے کہ اگر بجلی یا کسی بھی پراڈکٹ کی لاگت سے کم قیمت وصول کی جائے گی، اور اسے سرکاری معاونت کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی تو معاشی لحاظ سے یہ پائیدار حل نہیں ہوگا۔ اسی لیے بجلی کے گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو تمام سرکاری معاشی پالیسیوں اور عالمی مالیااتی اداروں کے ساتھ اس کے تعلق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ بھاری بھر کم عمل بالآخر ملک کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتاہے۔ اجے بنگا کا خیال ہے کہ اس کا ایک حل بجلی کی ترسیل اور بلوں کی وصولی کا کام نجی شعبہ کو دینا ہے۔ نجی شعبہ صارفین سے بجلی پیدا کرنے پر آنے والی لاگت کے حساب سے ہی قیمت وصول کرے گا ۔ اس کے ساتھ ہی جب ترسیل کا انتظام نجی شعبہ کے پاس ہوگا تو وہ خود اس بات کو یقینی بنائے گا کہ نہ تو بجلی چوری ہوسکے اور نہ ہی اس کی ترسیل میں نقائص کی وجہ سے بجلی ضائع ہو۔ اس طرح اسے ملک کا پرانا اور بیکار ترسیلی انفرا اسٹرکچر تبدیل کرنا پڑے گا جس پر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ ایسی سرمایہ کاری ملکی معیشت میں سرگرمی کو فروغ دے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ البتہ ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے لیے حکومت کو فیصلے کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا جس کی سیاسی قیمت عدم مقبولیت کی شکل میں برداشت کرنا پڑے گی۔ پاکستان میں کوئی حکومت یہ قیمت دینے پر آمادہ نہیں ہے کیوں کہ سیاسی سرگرمیوں کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ورلڈ بنک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چھوٹے کسان اور تاجروں کو سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرکے اور نگرانی کا سرکاری گورکھ دھندا آسان بنا کر ملک میں تیزی سے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اجے بنگا کا کہنا ہے کہ صرف زراعت کاشعبہ چند بنیادی اقدامات کے نتیجے میں ملکی لیبر مارکیٹ کی ایک تہائی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ ورلڈ بنک پاکستان کے ساتھ دس سالہ مالی تعاون کے ایک منصوبہ پر کام کررہا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت نصف بیرونی سرمایہ نجی شعبہ کے ذریعے ملک میں آئے گا۔ البتہ حکومتی سطح پر بنیادی اصلاحات کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔