ایپسٹین دستاویزات: عالمی اشرافیہ کا بدبُودار گٹر

ایپسٹین دستاویزات کی ریلیز نے جہاں دُنیا بھر کی اشرافیہ کو بے نقاب کیا ہے وہاں یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ کیا جیفری ایپسٹین کسی انٹیلی جنس کے اہلکار تھے؟ یہ کوئی سازشی تھیوری نہیں بلکہ ایک منطقی سوال ہے جسے دستاویزات خود اُٹھا رہی ہیں۔

وکی پیڈیا کے مطابق جیفری ایپسٹین 1953 میں نیویارک میں یہودی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ سکول کے دنوں میں ریاضی کے بہت ماہر تھے اور اپنی پڑھائی کے ساتھ دوسرے طلبہ کو ٹیوشن پڑھاکر پیسے کماتے تھے۔ وہ پڑھائی میں کبھی کوئی ڈگری حاصل نہ کر سکے مگر 1973 میں اُنہیں ایک سکول میں ریاضی کے اُستاد کی نوکری مل گئی۔ یہاں اُن پر طالبات کے ساتھ نامناسب سلوک کرنے کا الزام لگا لہٰذا بطور معلم ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجہ سے دو سال بعد اُنہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ 1976 میں اُنہیں دُنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کاری والے بینکوں میں سے ایک، Bear Stearns میں کام مل گیا اور یوں اُن کا امیر ہونے کا سفر شروع ہوا۔ 1980 کی دہائی میں وہ سرمایہ کاری کرنے والی متعدد کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے اور سرمایہ داروں کے لئے ایک کنسلٹنگ فرم بھی چلاتے رہے۔ بڑھتی ہوئی دولت کے ساتھ اُن کے بااثر لوگوں کے ساتھ تعلقات بنتے گئے اور وہ بہت زیادہ اثرورسوخ والے شخص بن گئے۔ 1991 میں وہ بل کلنٹن کی انتخابی مُہم کی مالی مدد کرکے کلنٹن کے اتنا قریب آگئے کہ کلنٹن کی حکومت کے دور میں وہ اکثر وائٹ ہاؤس جانے لگے۔

امریکی ٹیکس قوانین سے بچنے کے لئے 1996 میں اُنہوں نے اپنے کاروبار کا مرکزی دفتر کیریبین میں ورجن جزائر میں سے ایک، سینٹ تھامس پر منتقل کر دیا۔ یوں وہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچتے رہے اور دن بہ دن امیر ہوتے گئے۔ تعجب ہے کہ ایک ایسا عاجز ٹیچر جو کاروبار کی کسی واضح صلاحیت کے بغیر ارب پتی بن گیا، امریکی حکام کے ریڈار سے اتنی آسانی سے بچا رہا۔ ایپسٹین کے خلاف پہلی باقاعدہ شکایت سنہ 1996 میں ایک بصری آرٹسٹ ماریا کرسٹین فارمر نے کی۔ اُنہوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایپسٹین کے گھر اُن کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ مگر ایپسٹین کے اثر و رسوخ کی بدولت یہ کیس دب گیا اور بغیر کسی تفتیش کے بند کروا دیا گیا۔ ماریاکرسٹین فارمر کے مطابق یہ ”یہودی بالادستی“ کے لئے کام کرنے والا بلیک میلنگ رِنگ صدر ٹرمپ کی انتہا پسند تحریک سے مُنسلک ہے۔

2002 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹن کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک انٹرویو میں یوں بیان کیا: ”میں جیفری کو 15 سال سے جانتا ہوں، وہ ایک زبردست انسان ہے۔ اس کے ساتھ وقت گزارنا بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ وہ میری طرح خوبصورت عورتیں پسند کرتا ہے، جن میں اکثر کم عمر ہوتی ہیں“۔ جیفری ایپسٹین کا برطانوی میڈیا ٹائیکون اور اسرائیل کے زبردست حمایتی رابرٹ میکسویل کی بیٹی گیلین میکسویل کے ساتھ برسوں پرانا تعلق تھا۔ گیلین میکسویل کے ساتھ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی چند تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عمران خان بھی ایپسٹین کے جرائم میں شامل تھے۔

گیلین میکسویل غریب علاقوں اور سکولوں سے بچیوں کو ڈھونڈ کر انہیں ”مساج“ یا”ماڈلنگ“ کا جھانسہ دے کر اُن کا اعتماد جیتنے کے بعد انہیں ایبسٹین کے پاس لاتی تھیں۔ بعض متاثرہ لڑکیوں نے بیانات دیے ہیں کہ جب ایبسٹین اُن کا ریپ کرتا گیلین ان مظالم کے وقت وہاں موجود ہوتی تھیں۔ 2005 میں پولیس کو ایک ماں کی جانب سے شکایت موصول ہوئی کہ اُن کی 14 سالہ بیٹی کو ایپسٹین نے پیسوں کے عوض جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور میڈیا کوریج سے کیس کو عوامی توجہ ملنے لگی۔ تحقیقات کے دوران مزید متاثرہ افراد سامنے آنے لگے اور پولیس کو یقین ہونے لگا کہ یہ کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا ایک ایسا منظم رِنگ ہے جس میں بہت بااثر افراد ملوث ہیں۔

آخرکار 2008میں ایپسٹین نے کم عمرلڑکیوں کی دلالی کرنے کا اعتراف کیا اور اُنہیں اس جُرم کی سزا صرف 13 ماہ قید سُنائی گئی کیونکہ ایپسٹین اپنے اثرورسوخ سے ایک ایسی ڈیل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے تحت ان کے خلاف صرف ریاستی سطح پر مقدمہ چلایا جاسکا اور وفاقی سطح پر اُنہیں استثنیٰ مل گیا۔ قید کے دوران اُنہیں یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ وہ دن میں 12 گھنٹے جیل سے باہر اپنے کاروبار کی مصروفیات نمٹا سکتے تھے۔ ڈیل کے مطابق 35 متاثرین کو معاوضہ دے کر صلح کر لی گئی۔ یہ ڈیل اس وقت کے اٹارنی جنرل الیگزینڈر اکوسٹا کے ساتھ کی گئی تھی۔ یہ وہی الیگزینڈر اکوسٹا ہیں جنہیں صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں وزیرِ محنت مقرر کیا تھا۔

2018 میں روزنامہ”میامی ہیرالڈ“ نے ایک تحقیقی اور بہت تفصیلی مضمون شائع کیا جس میں 80 سے زائد متاثرین کے انٹرویوز بھی شامل تھے۔ یوں یہ کیس ایک بار پھر عوامی رائے کا مرکز بن گیا اور حکام کو مجبوراً کیس دوبارہ کھولنا پڑا۔ 6 جولائی 2019 کو ایپسٹین کو نیو جرسی کے ایئر پورٹ سے اُس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ پیرس سے آرہے تھے۔ میڈیا نے پھر خبر کو عوام تک پہنچایا جس کے نتیجے میں پرانی ڈیل پر احتجاج ہوا تو صدر ٹرمپ کے وزیرِ محنت کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اُسی سال 10 اگست کو ایپسٹین جیل میں مُردہ پائے گئے۔ حکام نے اس موت کو خودکشی قرار دیا مگر اس معاملے میں شدید شکوک و شبہات موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جیل میں نگرانی کرنے والے کیمروں نے ٹھیک موت کے وقت کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ مرتے وقت جیفری ایپسٹین 578 ملین ڈالر کی جائیداد کے مالک تھے۔

ایپسٹین کے مرنے سے بھی مقدمہ ختم نہ ہوا بلکہ پولیس کو مزید کڑیاں ملنے لگیں۔ 2020 میں ایپسٹین کی پارٹنر اور جرائم میں اُن کی اہم ساتھی اور معاون گیلین میکسویل کو ایف بی آئی نے نیو ہیمپشائر سے گرفتار کیا۔ فرد جرم میں اُن پر ایپسٹین کے ساتھ متعدد جرائم میں تعاون کرنے کا الزام لگا، جن میں بنیادی طور پر جنسی زیادتی والے جرائم تھے۔ 28 جون 2022 کو عدالت نے اُنہیں 20 سال کی سزا سُنائی۔ وہ اس وقت 64 برس کی ہیں اور فلوریڈا کی ایک وفاقی یعنی فیڈرل جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی۔

گیلین میکسویل کے والد رابرٹ میکسویل ایک برطانوی تاجر، سیاستدان اور میڈیا ٹائیکون تھے۔ وہ ساری عمر اسرائیل کے بہت حمایتی رہے۔ وہ برطانیہ کا وزیراعظم بننے کے عزائم کے ساتھ سیاست میں داخل ہوئے تھے مگر 1960 کی دہائی میں جب اُنہوں نے پرگیمون پریس کو فروخت کرنا چاہا تو بے ضابطگیوں کا پردہ فاش ہوا اور اُن کا وزیراعظم بننے کا خواب ٹوٹ گیا۔ 1991 میں وہ پُراسرار حالت میں سپین میں مُردہ پائے گئے۔ اُن کی آخری رسومات اعلیٰ سطح کے سرکاری اعزازات کے ساتھ یروشلم میں ادا کی گئیں۔ اس وقت کے اسرائیلی صدر چیم ہرزوگ اور وزیراعظم یتزاک شامیر نے بھی شرکت کی۔ وکی پیڈیا کے مطابق وہ ڈبل یا ٹرپل ایجنٹ تھے اور ممکنہ طور پر برطانوی اور سوویت اینٹلی جنس کے علاوہ اسرائیلی موساد کے لئے کام کرتے تھے۔

پولیس نے جیفری ایپسٹین کے گھناؤنے جرائم کی تفتیش کے دوران تقریباً 60 لاکھ دستاویزات قبضے میں لیں، جن میں ای میلز، تصاویر، ویڈیوز اور مقدمے سے متعلق ہر قسم کا مواد شامل تھا مگر حکام نے یہ مواد عوام کے سامنے لانے سے گریز کیا۔ ٹرمپ جب دوسری بار صدر بننے کے لئے انتخابی مُہم چلا رہے تھے تو اُنہوں نے وعدہ کیا کہ وہ صدر بننے کے بعد اس مواد کو عوام کے سامنے رکھ دیں گے۔ صدر بننے کے بعد اُنہوں نے یُوٹرن لیا اور کہا کہ یہ دستاویزات بورنگ اور غیر ضروری ہیں۔ شاید اس لئے کہ اُنہیں معلوم تھا کہ ان دستاویزات میں اُن کا ہزاروں بار حوالہ مل سکتا ہے۔ اُن پر سیاسی دباؤ بڑھتا گیا اور کانگرس نے ایک قرارداد کے ذریعے دستاویزات ریلیز کرنے کا حکم دیا۔

ایپسٹین دستاویزات نے دُنیا بھر کو جَھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان دستاویزات میں ناروے کی اشرافیہ کا بھی ذکر ہے جس وجہ سے سیاسی حلقوں میں زبردست آگ بڑھک رہی ہے اور وزارت خارجہ میں کرپشن کے کلچر کے متعلق تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ تا جا رہا ہے۔ ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں 1993 اور 1995 میں اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان ”اوسلو معاہدہ“ ہوا تھا۔ اس معاہدہ کے مطابق پی ایل او نے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ اس معاہدے کو کئی حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا اور بعض ناقدین کے مطابق یہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جدوجہد میں رکاوٹ ہے۔ اسرائیلی تاریخ دان اور سفارت کار شلوموبین امی نے اس معاہدے کو نو آبادیاتی بنیاد پر مبنی معاہدہ قرار دیا۔ بہرحال اس معاہدے کے پیچھے ناروے کا سفارتی جوڑا مُونا یُول اور تھیریے رعود لارشن کا کلیدی کردار تھا۔ ایپسٹین دستاویزات میں متعدد جگہوں پر ان دونوں کا تذکرہ ہے۔

مُونا یُول کو نارویجن فارن سروس میں بطور سفارت کار وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں ناروے کی سفیر کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا جیفری ایپسٹین سے تعارف محض سفارتی تناظر میں ہوا تھا۔ مگر یہ معاملہ اتنا سادہ لگتا نہیں ہے۔ اقتصادی اور کاروباری خبروں کا احاطہ کرنے والے معتبر نارویجن روزنامہ ”داگینس نیرینگس لیو“ نے اس سال 31 جنوری کو انکشاف کیا کہ ایپسٹین کی وصیت کے مطابق مُونا یُول اور تھیریے رعودلارشن کے بچوں کو 10 ملین ڈالر ملیں گے۔ اس وصیت پر ایپسٹین نے اپنی موت سے دو دن پہلے دستخط کئے تھے۔ ناروے کی وزارت خارجہ نے 2 فروری کو مُونا یُول کو اردن میں ناروے کی سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا تھا۔ ناروے کے موجودہ وزیر خارجہ ایسپین بارتھ ایدے کے مطابق، سفارتکار مُونا یُول اب جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ظاہر کرنے کے لیے وزارت خارجہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ تھیریے رعودلارشن جیفری ایپسٹین کو اپنا ”بہترین دوست“ اور”مکمل طور پر اچھا انسان“ مانتے تھے۔ ناروے کے روزنامہ ”آفتن پھوستن“ کے تبصرہ نگار ہارالد ستانگ ہیلے نے اپنے تبصرے میں تھیریے رعودلارشن کو ایپسٹین کے جالے میں نارویجن مکڑی قرار دیتے ہوئے لکھا: ”ایپسٹین کائنات کی تمام ناقابل یقین کہانیوں میں سب سے زیادہ ناقابل یقین یہ ہے کہ کس طرح ایک نارویجن سوشل ڈیموکریٹ امریکی انتہا پسند ماگا تحریک کو ناروے میں اقتدار میں لانے کے لیے کام کر رہا ہے“۔

ناروے کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ”وے گے“ نے امریکی حکام کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ای میلز کا حوالہ دیتے ہوئے 4 فروری کو لکھا کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود بارک سزا یافتہ ایپسٹین کے ساتھ اسرائیلی خفیہ کمپنی ”ٹوکا“ کے بارے رابطے میں تھے۔ روزنامہ کے مطابق سابق وزیراعظم نے 8 مئی 2018 کو ایپسٹین کو ایک ای میل بھیجی جس میں اُنہوں نے ناروے میں ”ٹوکا“ کو متعارف کروانے کے لیے صحیح رابطوں کی ضرورت کو ظاہر کیا اور ایپسٹین کو لکھا کہ وہ اس معاملے میں ناروے کی سفارتکار مُونا یُول سے رابطہ کریں۔ خیال رہے کہ ایہود باراک 1999 سے 2001 تک اسرائیل کے وزیر اعظم تھے اور”ٹوکا“ ایک اسرائیلی کمپنی ہے جو حکام کو انٹیلی جنس اور دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے۔

ایپسٹین دستاویزات میں اس نارویجن جوڑے کے علاوہ ناروے کی جس اشرافیہ کا ذکر ہے اُن میں ولی عہد شہزادی میتے ماریت، سابق وزیراعظم، نوبل کمیٹی کے سابق رُکن اور کونسل آف یورپ کے سابق سیکرٹری جنرل تھُوربیورن یاگلاند اور ورلڈ اکنامک فورم کے موجودہ صدر برگے بریندے ہیں۔

ایپسٹین دستاویزات نے یقیناً انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال اور انٹیلی جنس کے بارے انکشافات تو کئے ہیں لیکن یہ ہولناک سکینڈل عالمی اشرافیہ کے درمیان ایک خطرناک ملی بھگت کے بارے میں بھی ہے، جہاں مالی طاقت کو سیاسی طاقت سے ملا کر جمہوری طاقت کے ڈھانچے کو کمزور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ملی بھگت ظاہری طور پر قانونی لگ سکتی ہے لیکن یہ اعلیٰ درجے میں مجرمانہ ہے۔ یہ عالمی اشرافیہ کا ایک ایسا بدبُودار گٹر ہے جس کی صفائی کرتے وقت شدید بدبُو سے دم گھُٹنے سے مرنے کا خطرہ موجود ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)