دہشت گردی کے خلاف ٹھوس حکمت عملی کی کمی

اسلام آباد کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خود کش حملہ میں 31 افراد جاں بحق اور پونے دو سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں ۔  ہلاکتوں میں اضافے  کا اندیشہ ہے۔ چند روز پہلے بلوچستان  کے متعدد شہروں میں دہشت گرد حملوں  کے بعد اب ملک کے   دارالحکومت میں ایسا سنگین اور جان لیوا حملہ سنسنی خیز اور تشویشناک ہے۔

ویز  دفاع خواجہ آصف نے کسی تاخیر کے بغیر اس کا الزام بھارت اور افغانستان پر عائد کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اب ان دونوں ملکوں کے اس حملہ میں ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے۔ یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ بھارت اور افغانستان مل کر یہ کام کرتے ہیں۔ بھارت مئی میں شرمناک ناکامی کے بعد اب دہشت گردی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے کے درپے ہے‘۔  اسی طرح  وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وضاحت کی ہے  کہ حملہ آور افغان تو نہیں تھا لیکن فورنزک ٹیسٹ سے پتہ چلا ہے کہ وہ کئی مرتبہ افغانستان جاچکا تھا۔  اس سے حکومتی نمائیندے یہی تاثر راسخ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ حملہ بھارت اور افغانستان نے کرایا ہے۔  تاہم ماضی کی طرح  یہ بیانات اس وقت سیاسی  ہتھکنڈے سے زیادہ اہم نہیں ہیں۔ یہ حقیقت بدستور نامعلوم رہے گی کہ اسلام آباد  میں تمام تر سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے باوجود ایسا خوفناک حملہ  کن عناصر کی وجہ سے ممکن ہؤا اور اس کے کیا مقاصد ہیں۔

جہاں اسلام آباد میں ہونے والا حملہ افسوسناک اور قابل تشویش ہے ، اسی طرح  وزیروں کے بیانات بھی ناقابل قبول اور شرمناک ہیں۔ ابھی مرنے والوں کو دفن بھی نہیں کیا گیا تھا اور ملبے سے  لاشوں کی تلاش کا کام ہو رہا تھا کہ بھارت  اور افغانستان پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کردیے گئے۔ ان  الزامات کو  سچائی  سے گریز کی علامت  سمجھنا بہتر ہوگا کیوں کہ اس سے پہلے حکومتی نمائیندوں کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے ذمہ داری کا تعین کرنا چاہئے۔ حکومت کو سازش  فاش کرنے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ کس محکمہ یا افراد کی نالائقی ، کوتاہی یا غفلت کی وجہ سے ایسا سانحہ رونما ہؤا ہے۔ البتہ دہشت گردی کی پھیلتی ہوئی لہر کے باوجود حکومتی حلقوں میں ایسی ذمہ داری قبول کرنے کا رویہ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سانحہ کے بعد قوم کو یہ اطمینان  نہیں ہوتا کہ اب آئیندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا بلکہ یہ اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے کہ اب نئے سانحہ کی خبر کہاں سے آئے گی۔ ملک کے عوام میں پائے جانے والے احساس عدم تحفظ کو بلند بانگ اور بے بنیاد الزامات سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

ایک طرف دہشت گردی   اب بلوچستان اور خیبر پختون خوا  کے علاوہ ملک کے دارالحکومت تک پھیل چکی ہے تو دوسری طرف موجودہ حکومت اس حوالے سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے  اور انتظامی چابکدستی کا مظاہرہ  کرنے میں ناکام ہے۔ اس تساہل کی ایک وجہ دہشت گردی کے معاملات کو پوری طرح سے عسکری اداروں اور فوج کی ذمہ داری سمجھ کر خود غافل ہونے کا طرز عمل ہے۔ حالانکہ چیف آف آرمڈفورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی متعدد بار گورننس  کی خرابی کو دہشت گردی کے فروغ  کی وجہ بتا چکے ہیں اور حکومت  سے تقاضا کیا جاتا رہا ہے کہ انتظامی معاملات میں سرعت، شفافیت اور فعالیت پیدا ہونی چاہئے تاکہ  سکیورٹی فورسز کے جوان غیر ضروری دہشت گرد کارروائیوں میں شہید نہ ہوں۔  شہباز شریف کی حکومت اس انتباہ کا نوٹس لینے میں بھی مسلسل ناکام ہے۔ حالانکہ یہ وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ انٹیلی جنس  جمع کرنے والے سب اداروں میں رابطہ کا مؤثر نظام وضع کرے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی پراسرار سرگرمی کے رونما ہونے سے پہلے ہی  سماج دشمن عناصر کی گرفت  کی جاسکے۔

دسمبر 2014  میں منظور کیے گئے نیشنل ایکشن پلان  میں دہشت گردی اور اس کا سبب بننے والے عوامل کا قلع قمع کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز پر مشتمل ایک منصوبہ منظور کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2021 میں اس پلان پر نظر ثانی کی گئی اور اہداف کے حصول کے لیے اسے مؤثر بنانے کا  فیصلہ ہؤا۔ تاہم گزشرتہ چند برس سے  ملک میں سر اٹھانے والی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اگرچہ عسکری ادارے دلیری سے دہشت گرد  گروہوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی انہیں ختم کیا جاتا ہے  تو دوسری طرف حکومت ایسے ٹھوس سیاسی فیصلے اور اقدامات کرنے میں  تساہل سے کام لے رہی ہے جو دہشت گردی کے لیے متوازن اور ایک دوسرے کو قبول کرنے والا معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ دہشت گردی کے فروغ اور ان عناصر کی کامیابی کی بنیادی وجہ ملک میں پھیلی ہوئی انتہا پسندی اور فساد برپا کرنے والے عناصر کو  زمینی سطح پر ملنے والا تعاون ہے۔  نیشنل ایکشن پلان میں واضح کیا گیا تھا کہ اس مقصد کے لیے مدارس کے نصاب و انتظام کی اصلاح کی جائے گی، منی لانڈرنگ کے راستے بند کیے جائیں گے تاکہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کو ملنے والے وسائل کو کنٹرول کیا جاسکے اور انٹیلی جنس کی فراہمی کو مربوط کیا جائے گا تاکہ  صوبائی اور قومی سطح پر اس مقصد کے لیے کام کرنے والے متعدد اداروں کے درمیان رابطہ کاری  بہتر ہو ۔اور جیسے ہی دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت نوٹ کی جائے فوری طور سے پورا نظام ان  کا قلع قمع کرنے کے لیے متحرک ہوجائے۔ دریں حالات دیکھا جاسکتا ہے کہ ان تینوں میں  سے کوئی ایک مقصد بھی پوری طرح حاصل نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی سانحہ کے بعد وزرا یکے بعد دیگرے  بے سر و پا بیانات کا سلسلہ شروع کرکے  خود کو اور اپنی حکومت کو بری الذمہ قرار دینے کی افسوسناک کوششیں شروع کردیتے ہیں۔

اس علاقائی سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی وجہ  سے حکومتیں ایک دوسرے کے علاقے میں غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کرتی ہیں۔ یہ  بات بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند قوم پرست گروہ ہوں یا خیبر پختون خوا  میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان جو مذہبی ایجنڈے پر دہشت گرد کارروائیاں کرتی ہے، ان ہر قسم کے گروہوں کو بھارتی ایجنسیوں سے امداد و تعاون حاصل ہوتا  ہے۔  تاہم اس کے ساتھ ہی  یہ سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے کہ پاکستان ابھی تک کسی ایک وقوعہ میں بھی بھارت  کے ملوث ہونے کے شواہد کے بارے میں کسی عالمی ادارے یا کسی بڑی طاقت کو قائل نہیں کرسکا۔ اس لیے یہ ا ہم ہے کہ  کسی ہمسایہ ملک پر الزام تراشی سے پہلے ہوم ورک کرلیا جائے تاکہ بعد میں سفارتی ذرائع سے ان معلومات کو ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ یا پھر پاکستان بھی بھارت کی طرح یہ واضح پالیسی اعلان کرے  کہ اس کے ملک میں اگر  دہشت گردی  کا کوئی واقعہ ہؤا  اور اس کا سرا کسی بھی طرح نئی دہلی یا کابل سے ملا تو پاکستان ان دونوں ممالک کو اس کا ذمہ دار سمجھے گااور  وہاں موجود  عسکری گروہوں کے خلاف براہ راست کارروائی کی جائے گی۔  بھارت نے اسی طے شدہ  پالیسی کے تحت ہی  گرشتہ سال  اپریل میں پہلگام  دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد کرکے مئی میں  پاکستان پر حملہ کیا تھا۔

پاکستان اگر ایسی واضح حکمت عملی اختیار کرنے سے کتراتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ ملک کی  کم تر عسکری صلاحیت نہیں بلکہ یہ کمزوری ہے کہ اس کے پاس ہمسایہ ملکوں کے خلاف ٹھوس اور قابل قبول شواہد موجود نہیں ہیں۔ ایسے شواہد دستیاب ہوں تو وزیروں کو بیان بازی میں  زور آزمائی کرنے کی  ضرورت نہ ہو بلکہ  حکومت سفارتی طور سے بھارت یا افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کرے۔   اس تصویر کا یہ پہلو بھی  قابل غور ہونا چاہئے کہ سانحہ ہونے کے فوری بعد ہی وزیروں کی طرف سے بھارت اور افغانستان کے ملوث ہونے کی نشاندہی  ہونے لگتی ہے  ۔ لیکن سانحہ سے پہلے دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور ارادوں یا اہداف کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوتیں  جس کی وجہ سے سانحہ کے بعد ہی دعوے سننے میں آتے ہیں۔ یہ تضاد حکومتی طاقت کی بجائے اس کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔  وزیر مملکت  برائے داخلہ امور نے اسلام آباد خود کش حملہ کے بعد دہشت گرد کی لاش کے فورنزک سے اس کی ٹریول ہسٹری میڈیا کو بتا دی لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ اس بارے میں وزارت داخلہ یا دیگر ادارے اس وقت کیوں بے خبر رہے جب یہ شخص  افغانستان کے چکر لگا رہا تھا۔

ملک پر صرف دشمن ہمسایہ ملکوں  ہی کی نظر نہیں ہے بلکہ اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ عقیدے اور مسلک کی بنیاد پر ملک میں ایسی گروہ بندیاں موجود ہیں جو باہمی اختلافات کے لیے  کسی بھی حد تک جانے کو غلط نہیں سمجھتیں۔ حکومت ایسے گروہوں اور مائنڈ سیٹ کا پوری طرح احاطہ کرکے انہیں نیوٹرل کرنے میں ناکام ہے۔ اسی لیے بار بار قومی ایکشن پلان کے اہداف پورے نہ ہونے کا شکوہ سننے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ دعوؤں اور دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے علاوہ حکومت کی طرف سے کوئی مبسوط اور ٹھوس حکمت عملی بھی سامنے نہیں آئی۔ خیبر پختون خوا  کی حکومت اور تحریک انصاف سے کئی معاملات پر اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی یہ بات درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت سیاسی لیڈر شپ اور حکومتوں کے پاس ہونی چاہئے۔

اسلام آباد کا سانحہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ملک کو ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کا مقابلہ کر نے کے لیے  عذر تراشی کی بجائے قومی سطح پر ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی عناصر کو  ساتھ لے کر مکمل قومی اتفاق رائے سے لائحہ عمل تیار ہو سکے۔ تاکہ  ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن ہو۔