اسلام آباد دھماکے کے چار سہولت کار گرفتار، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

  • ہفتہ 07 / فروری / 2026

داعش نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز میں مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس حملہ میں اب تک مرنے والوں کی تعداد اب 36 ہوگئی ہے۔

اس دوران انٹیلی جینس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مار کر خود کُش حملہ آور کے چار سہولت کار گرفتار کرلیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے اور گرفتاریاں کیں۔ یہ آپریشن ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جینس کے نتیجے میں کیے گئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خود کُش حملہ آور کے 4 سہولت کار گرفتار کیے گئے۔ خود کُش حملے کا داعش افغانی ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہیں۔ آپریشن کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور تین زخمی ہوگئے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق داعش کی طرف سے ذمہ داری گروپ کے ٹیلیگرام چینلز پر سامنے آئی ہے۔ جس کے مطابق اس حملے کے پیچھے داعش کا پاکستان میں متحرک گروہ ہے اور یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔ داعش کے خبر رساں ادارے ’عماق‘ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مبینہ نقاب پوش حملہ آور کی تصویر بھی شئیر کی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ یہ واضح ہو گیا کہ خودکش حملہ آور افغانستان جاتا رہا ہے اور اس نے وہیں سے تربیت حاصل کی ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گردوں کا نظریہ دہشت پھیلانا ہے۔ مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لئے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ اسلام آباد واقعے کے حوالے سے کافی پیشرفت ہوئی ہے۔

دریں اثنا انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں بم دھماکہ قابل مذمت ہے اور انڈیا اس سے ہونے والی ہلاکتوں پر رنج اور دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

بی بی سی ہندی کے مطابق بیان میں الزام کہا گیا کہ ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اپنے سماجی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اپنی اندرونی خرابیوں کا ذمہ دار دوسروں پر ڈال کر خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔ انڈیا ایسے تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حملے کے پیچھے انڈیا اور افغانستان کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ ثابت ہو گیا ہے کہ حملہ آور نے افغانستان کا دورہ کیا تھا، اور انڈیا اور افغانستان کی ملی بھگت سامنے آ رہی ہے۔‘

دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی پاکستان میں ہونے والے دھماکے کا مذمتی پیغام جاری کیا ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغانستان میں طالبان حکومت اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نمازی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘