ناروے کے سابق وزیر اعظم پر سنگین بدعنوانی کا الزام

نارویجن کریمنل انویسٹی گیشن سروس نے ایپسٹین دستاویزات کے انکشافات کے تناظر میں ناروے کے سابق وزیراعظم تھُربیعورن یاگلاند کے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ نوبل کمیٹی کے سابق رکن اور کونسل آف یورپ کے سابق سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

ایپسٹین دستاویزات کے مطابق اُن کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ اس لیے اُن پر سنگین بدعنوانی کا شبہ ہے۔ کونسل آف یورپ کے سابق سیکرٹری جنرل ہونے کی وجہ سے انہیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ پولیس نے استثنیٰ ختم کروانے کے لیے ناروے کی وزارت خارجہ سے درخواست کی ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپین بارتھ ایدے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ کونسل آف یورپ کو سفارتی استثنیٰ ختم کرنے کا کہیں گے۔ خبروں کے مطابق کونسل آف یورپ کی ایک کمیٹی استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی استثنیٰ ختم ہو گا، وہ اپنا کام فوری طور سے فعال کردیں گے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کی معقول وجہ موجود ہے کیوں کہ ایپسٹین دستاویزات میں اُن کا حوالہ ان دورانیہ میں ملتا ہے جب وہ یا تو نوبل کمیٹی کے سربراہ تھے یا کونسل آف یورپ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ وزیر خارجہ ایسپین بارتھ ایدے کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اس لیے سچ سامنے آنا چاہیے۔ ناروے کے سرکاری ٹی وی چینل پر اُنہوں نے کہا کہ شیطانی ایپسٹین کیس میں سامنے آنے والی گھناؤنی باتوں پر یقین کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس لیے سب کو اپنے کارڈ میز پر رکھنا ہوں گے اور سب کو لوگوں کو سچ بتانا ہوگا۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بھی بتاتے چلیں کہ تھُور بیورن یاگلاند جب 1996 میں وزیراعظم بنے تھے تو تھیریے رودلارشن اُن کی کابینہ میں وزیر منصوبہ بندی تھے۔ یہ وہی لارشن ہیں جن کے بچوں کو جیفری ایپسٹین کی وصیت کے مطابق 10 ملین ڈالر ملیں گے۔ ایپسٹین دستاویزات کے پس منظر میں ناروے میں سیاسی بھونچال جاری ہے اور ناروے کی فارن سروس اور جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔

ناروے کی ولی عہد شہزادی میتے ماریت، جن کا حوالہ ایپسٹین دستاویزات میں متعدد بار ملتا ہے، نے جیفری ایپسٹین سے اپنی دوستی پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے معذرت کی ہے۔ اُنہوں نے اس بات کی بھی معافی مانگی ہے کہ اُن کی وجہ سے شاہی خاندان پر اُنگلیاں اُٹھنے لگی ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)