ناراض بلوچوں کو مناؤ نواز شریف،قدم بڑھاؤ!

پاکستان اصلاً حالت جنگ میں ہے آپریشن سندور جاری ہے۔ مودی پاکستان کے ہاتھوں مئی 2025کی عبرتناک شکست کا بدلہ لینے کی تیاری کر  رہا ہے۔ بھرپور اور جنگی بنیادوں پر تیاری کر  رہا ہے۔

 اس نے حربی و ضربی سازو سامان کی خریداری کے لئے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، ہنگامی بنیادوں پر سازو سامان خریدنے کے لئے تمام ضوابط معطل کر دیئے ہیں۔پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے سندور ٹو شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ 12 شہروں میں منظم طریقے سے کئے جانے والے حملے اسی کی کارستانی ہے ۔بھارت اور اسرائیل مل جل کر پاکستان کو سبق سکھانے کے در پے ہیں۔ایک مسلم ملک کی بھی ایسی ہی خواہش ہے اور وہ بھی اس تخریب کاری کا حصہ ہے۔دشمن کے پی اور بلوچستان کو دہشت گردوں کے ذریعے غیر مستحکم کر رہا ہے ۔پاکستان کو لہولہان کیا جا رہا ہے۔  بظاہر دشمنی کی کاوشیں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

لیکن سلیوٹ ٹو پاک فوج نے کس طرح 72گھنٹوں کے اندر اندر12شہروں سے دہشت گردوں کا نہ صرف صفایا کر دیا بلکہ ان کے نیٹ ورک اور سپلائی لائن کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔  اتنا بڑا آپریشن، دہشت گردی کا آپریشن،ایک منظم فوج کی طرح جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کا منظم طریقے سے کیا جانے والا کامیاب حملہ اتنی سرعت کے ساتھ اتنی مہارت کے ساتھ ناکام بنا دیا گیا۔ سوا دو سو سے زائد دہشت گرد واصل جہنم کر دیئے۔ ہم ہی اپنی فوج پر نازاں نہیں ہیں بلکہ عالمی ماہرین بھی اس کامیابی کو قابلِ تحسین قرار دے رہے ہیں۔دہشت گردوں کے پشتیبان حیران و پریشان ہیں کہ اس کی پلانٹڈ دہشت گردی آرمی کس طرح  نیست و نابود ہو گئی ہے۔ پاک فوج زندہ باد

ہماری فوج ایک پیشہ ور منظم فوج کے طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قربانیاں دے رہی ہے اسے کامیابیاں بھی مل رہی ہیں لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ حتمی ہر گز نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے صرف فوجی آپریشن حل نہیں ہے ،اس کے لئے سیاسی سطح پر بھی کاوشیں کی جانا چاہئیں۔ قوم کو اس پورے عمل میں  ساتھ شامل کرنا بھی ضروری ہے فوج کی کامیابیوں پر تحسین و تعریف کافی نہیں ہے بلکہ فکری و نظری طور پر بھی مہم جوئی کی جانی چاہئے۔ دہشت گردوں کے خلاف گلی گلی، گاؤں گاؤں، شہر شہر آواز بلند ہونی چاہئے۔ قوم صرف فوج کی کامیابی کا نظارہ ہی نہ کرے،بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے بھی تیار ہو۔رائے عامہ منظور ہو،بیانیہ تشکیل پائے اور پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو سر چھپانا مشکل ہو جائے۔

صوبہ بلوچستان اور کے پی میں ریاست پاکستان کے ہمدردوں کو فکری و عملی طور پر منظم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ آئین پاکستان کے پاسداران،بلوچوں و پشتونوں کو ایک میز پر بٹھانے، انہیں فکری طور پر منظم کر کے دہشت گردی کے خلاف میدانِ عمل میں اتارنے کی اشد ضرورت ہے۔فوج پر دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے فوج کی کامیابیاں دیر پا نتائج نہیں لا سکتی ہیں۔ دہشت گردی کا دیرپا حل سیاسی عمل میں ہے ۔محب وطن قوتوں کو منظم کر کے دہشت گردی کے خلاف فکری میدان میں لانچ کرنے میں ہے۔ ہماری موجودہ اتحادی حکومت یہ سب کچھ کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے تئیں یہ ذمہ داری پوری کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں میں جا کر خطاب بھی کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنسوں کے ذریعے صحافیوں کا سامنا بھی کرتے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔سیاستدانوں کو اپنا کام کرنا پڑے گا،دانشوروں کو اپنے محاذ پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ وقت آن پہنچا ہے کہ قلم کو بندوق بنا لیا جائے دشمن کے بیانیے کے مقابل طاقتور بیانیہ پھیلایا جائے۔ نہ صرف ریاست کے خلاف بیانیے کی نفی کی جائے، بلکہ قوم کو قومی بیانیے پر اکٹھا کیا جائے۔ منظم کیا جائے۔ فکری محاذ پر جنگ کے لئے تیار کیا جائے۔

بلوچستان کے بلوچوں و پشتونوں کے ساتھ مذاکرات کرنے، ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لئے جس طاقتور اور قابل قبول سیاستدان کی ضرورت ہے، وہ محمد نواز شریف ہو سکتے ہیں۔ عمران خان کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر محمد خان اچکزئی اِس حوالے سے نواز شریف کا نام لے چکے ہیں۔ مینگل، بگٹی، مزاری وغیرہ پہلے بھی نواز شریف کی سیادت پر یقین رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں ن لیگی محمد مالک کی حکومت کے دور میں دہشت اور وحشت گردی کو نکیل ڈالی جا چکی تھی ۔اگر یہ دور چلتا رہتا تو شاید بلوچستان میں ایسا کچھ نہ ہوتا جو آج کل ہو رہا ہے۔ محمد مالک کی حکومت کو ”باپ“ کے ذریعے ناکام بنایا گیا تھا۔ اب حالا ت جہاں تک جا پہنچے ہیں اور بگاڑ جس سطح تک آن پہنچا ہے، ان سے نمٹنے کے لئے کثیر جہتی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ فوج اپنا کام انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اس کے مثبت نتائج بھی نکل رہے ہیں۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے، سیاسی ڈائیلاگ، قومی بیانیے کی تشکیل، محب وطن بلوچوں کی ناراضگی ختم کرنے اور انہیں دہشت گردوں کے خلاف آمادہ پیکار کرنے کے لئے جس ذہن اور صلاحیت کی ضرورت ہے وہ سیاست دانوں کے پاس ہے۔ لیکن وہ اسے بروئے کار نہیں لا رہے ہیں۔

حکمران اتحاد سب کچھ کر رہا ہے لیکن بلوچستان کے معاملات کو سدھارنے کی ساری ذمہ داری فوج کے کندھوں پر ڈالی جا چکی ہے یہ درست نہیں ہے۔ محمد نواز شریف کو ملک و قوم کی خاطر، وطن ِ عزیز کی سالمیت کی خاطر ایک بار پھر میدانِ سیاست میں اترنا پڑے گا۔ اپنی سیاست قربان کرنے کے لئے نہیں بلکہ اسے مزید نکھارنے کے لئے انہیں ناراض بلوچوں کو منانے کے لئے ان کے ساتھ مل بیٹھنا ہو گا۔پاکستان کے نقشے پر بلوچستان سب سے واضح اور گہرا نظر آتا ہے جو بلوچ آئین پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان کا ہاتھ تھامنا ہو گا،ان کی ناراضی دور کرنا ہو گی،ان کے گلے شکوے دور کرنا ہوں گے، انہیں مرکزی دھارے میں لانا ہوگا، انہیں منانا ہے۔

 ایسا کرنا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھی ضروری ہے اور پاکستان کی سلامتی کے لئے بھی اہم ہے اور یہ کام محمد نواز شریف کر سکتے ہیں۔ قدم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)