تحریک تحفظ آئین پاکستان کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب نہیں ہوئی

  • اتوار 08 / فروری / 2026

تحریک تحفظ آئین پاکستان  کی طرف سے آج ہڑتال کی کال پر جزوی طور سے عمل دیکھنے میں آیا۔ لاہور، راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بازر کھلے رہے البتہ بلوچستان میں ہڑتال کی گئی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کے خلاف کال دی ہوئی ہے۔ تاہم راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی۔ اس کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد میں چلنے والی میٹرو بس سروس اور راولپنڈی میں چلنے والی الیکٹرک بس سروس مکمل بند کی گئی ہے۔

راولپنڈی شہر میں بڑے کاروباری مراکز کھلے رہے۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق ہے۔ سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کے مطابق شہر بھر میں 82 مقامات پر خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں اور شہر میں پولیس کے تین ہزار سے زیادہ افسران اور جوان سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

کوئٹہ شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ شہر میں سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کارکن ایئرپورٹ روڈ اور کوئٹہ شہر کے دونوں بائی پاسز پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ ٹائر جلاتے رہے تاہم پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

زیارت، پشین اور ژوب سمیت بلوچستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پشاور میں بھی جزوی ہڑتال دیکھنے میں آئی۔  تحریک انصاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلسے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔