8 فروری کے بعد سیاسی مفاہمت کے آپشنز پر غور کیا جائے!

تحریک تحفظ آئین پاکستان  اور تحریک انصاف  کی اپیل پر آج   ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور  احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا۔  کئی  ہفتوں کی تیاری کے باوجود اس موقع پر  سیاسی طاقت کا کوئی قابل ذکر مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔  بلوچستان کے علاوہ کہیں  کاروبار زندگی بند نہیں ہؤا۔ بلوچستان کی سیاسی صورت حال کے تناطر میں کہا جاسکتا ہے کہ وہاں  ہڑتال تحریک انصاف سے  ہمدردی سے زیادہ  اپنے مسائل کے خلاف ناراضی کا اظہار  تھا۔

تاہم تحریک تحفظ آئین پاکستان اور تحریک انصاف کے لیڈر  یہ دعوے کررہے ہیں کہ حکومت کی سخت پابندیوں کے باوجود  عوام نے   مخالف  سیاسی قوت کے ساتھ بھرپور اظہار یک جہتی کیا ہے۔ دوسری طرف حکومتی نمائیندے اپنی طرف سے احتجاج کو ناکام قرار دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ تحریک انصاف بار بار احتجاج کی کوشش کرنے کے باوجود عوام کو سڑکوں پر نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ حکومت کے نزدیک یہ اس امر کا اظہار ہے کہ عوام نے تحریک انصاف کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو  حقیقت ان دونوں انتہائی دعوؤں کے بین بین  تلاش کی جاسکتی ہے۔

ملک کے معاشی حالات،  مہنگائی، بیروزگاری اور عمومی سیاسی عدم استحکام کے سبب عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف ناراضی اور ناپسندیدگی کی شرح اس کی قبولیت سے زیادہ ہے۔  ملک میں رائے عامہ  کا جائزہ لینے کا کوئی ٹھوس انتظام موجود نہیں ہے لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ  انتخابات کی صورت  میں اقتدار میں شامل سیاسی پارٹیاں شاید کامیاب نہیں  ہوسکیں گی۔ اس بارے  میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کہ   انتخابات میں عوام  کس لیڈر یا پارٹی  پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔ البتہ اگر تحریک انصاف کی رائے سنی جائے تو دو سال پہلے ہونے والے انتخابات میں اگر دو تہائی لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دیے تھے تو اب یہ تعداد 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔  بلکہ تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کے طرز عمل کو ملاحظہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ اس پارٹی کے نزدیک کسی دوسری سیاسی پارٹی کا کوئی وجود نہیں ہے اور  صرف پی ٹی آئی    اور عمران خان ہی ملک پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں۔

غیر جانبدارانہ یا منصفانہ انتخابات میں بھی البتہ  شاید کوئی ایک  سیاسی پارٹی واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو۔ البتہ بدقسمتی سے تحریک انصاف کے علاوہ موجودہ سیاسی انتظام کی حمایت کرنے والی سیاسی پارٹیاں بھی اس سچائی کو ماننے اور اس کا کوئی سیاسی حل تلاش کرنے میں دلچسپی نہیں  لیتیں۔ تحریک انصاف نے فروری  2024 میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے مسلسل احتجاجی طرز عمل اختیار کیا  ہے۔ اس دوران اس کے حقیقی لیڈر اور بانی عمران خان چونکہ جیل میں بند رہے  ہیں، اس لیے پارٹی میں متبادل قیادت کی کمی کا شدید احساس بھی پایا جاتا ہے۔ مختلف دھڑے پارٹی کو اپنے اپنے طور پر چلانے اور اسی کو سچ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف عمران خان کی بہنیں ہیں  جو تحریک انصاف سے متعلق نہ ہونے کے باوجود ایک خاص سیاسی ایجنڈے کے لیے کام کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ بیرسٹر گوہر علی  ہیں جنہیں عمران خان کے حکم پر پارٹی کا چئیر مین بنایا گیا ہے۔ وہ  کچھ لیڈروں  کے ساتھ مل کر پارٹی کا متوازن اور معتدل چہرہ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان ہی کے حکم پر خیبر پختون خوا میں مقرر کیے گئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ہیں جو خود کو احتجاج کا سب سے بڑا سمبل بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ان  سب سے اوپر تحریک انصاف کا میڈیا گروہ ہے جو یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا پوسٹوں کے ذریعے تحریک انصاف کی پالیسی طے کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے  تحریک انصاف کا ہر لیڈر اس سوشل میڈیا گروہ کے ’عتاب‘ سے بچنے   میں کوشاں رہتا ہے۔

دوسری طرف حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اور خاص طور پر  سانحہ 9 مئی کے بعد  سے  عسکری قیادت کی خوشنودی اور اپنی سیاسی بقا کے لیے  تحریک انصاف کا راستہ روکنے، اس کے لیڈروں کو ہراساں کرنے، پارٹی کی سرگرمیوں پر پابندیاں لگانے اور جیل میں عمران خان کو تنہا کرنے میں اپنی تمام تر قوت اور  صلاحیت  استعمال کی ہے۔ یہ بات کسی حد تک مستحسن ہے کہ تحریک انصاف کی طرح  حکومت نے بھی کبھی مکمل طور سے مذاکرات کا دروازہ بند کرنے  یامصالحت  سے انکار نہیں کیا۔ البتہ یہ بھی  دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بات چیت کی بار بار دعوت دینے کے باوجود دونوں سیاسی گروہوں کے درمیان  کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اسی طرح تحریک انصاف کے لیڈر  بھی بات  چیت  کا اشارہ دیتے رہتے ہیں لیکن حقیقی سیاسی  مفاہمت  کے لیے ایک قدم آگے بڑھانے پر آمادہ  نہیں ہوتے۔ گزشتہ چند  ہفتوں کے دوران  تمام امیدیں 8 فروری کی شڑڈاؤن ہڑتال سے وبستہ کی گئی تھیں۔ تحریک انصاف،  اس کے ساتھ مل کر چلنے والے دیگر سیاسی عناصر جو اب تحریک تحفظ آئین پاکستان   کے بینر تلے ’متحد‘ ہیں، کا خیال تھا کہ اس روز ملک بھر میں کاروبار زندگی معطل کرکے  بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ تاکہ حکومت زیادہ سے زیادہ مراعات دینے پر مجبور ہوجائے۔  گو کہ یہ کبھی واضح  نہیں ہوسکا کہ ہڑتال میں کامیابی کے بعد اپوزیشن کون سے مطالبے منوانا چاہتی تھی۔  اس کی سب سے بڑی وجہ  یہ ہے کہ اس بارے میں عمران خان کی رائے حتمی ہے اور جیل سے باہر احتجاج  منظم کرنے والا کوئی لیڈر بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے گا ، عمران  خان اس کی تائید کریں گے۔ دوسری طرف حکومت کسی بھی طرح عمران  خان کو غیر متعلق کرکے کوئی سیاسی راستہ نکالنے کی خواہاں رہی ہے۔

تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان    کے لیڈروں نے اگرچہ آج کے احتجاج میں ’ناکامی‘ کا اعتراف یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ احتجاج کا یہ سلسلہ  جاری رہے گا لیکن  یہ حقیقت  بھی ان کے پیش نظر ہونی چاہئے کہ احتجاج کا راستہ بوجوہ مسدود ہے اور اس پر ڈٹے رہنے سے سیاسی مقاصد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ فی الوقت تحریک انصاف اور ان کے حامیوں کا سب سے بڑا مطالبہ عمران خان سے  جیل میں ملاقاتیں بحال کرانا ہے۔ اس کے بعد سیاسی لیڈروں اور کارکنوں  کے لیے سہولت حاصل کرکے سیاسی قوت میں  اضافہ کرنا ہے۔  یہ نوٹ کرنا چاہئے کہ   فروری  2024 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینے کے باوجود تحریک انصا ف دو ٹوک الفاظ  میں نئے انتخابات کا  مطالبہ سامنے نہیں لاتی۔ عمران خان  کے لیے سہولت حاصل کرنے کے  علاوہ ان کا سب سے اہم مطالبہ یہی  رہا ہے کہ  اسٹبلشمنٹ سے  براہ راست بات چیت ہوجائے۔  عسکری نمائیندے ایسے کسی  عمل کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔  فوج کی اس پوزیشن کو مثبت سیاسی اشارہ یا موقع سمجھ کر سیاسی صفوں میں یک جہتی پیدا کرنے کی بجائے  حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر دل کا غبارنکالا جاتا ہے۔ اسی لیے ملک میں سیاسی عمل بدستور تعطل کا شکار ہے۔

پاکستان ایک طرف دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے تو دوسری طرف بھارت نے  آپریشن سندور جاری رکھنے کا اعلان کررکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان پر ایک اور حملہ کرنے کا آپشن کھلا رکھنا  چاہتا ہے۔ افغان  سرزمین چونکہ پاکستان میں متحرک تمام دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے ،اس لئے گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات شدید  سفارتی سرد مہری کا  شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف امریکہ کی دھمکیاں اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کی تیار ی سے بھی    پاکستان کو مشکل علاقائی صورت حال کا سامنا ہے۔ یہ تمام معاملات جتنے حکومت میں شامل جماعتوں کے لیے تشویش کا سبب ہیں، تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان   میں شامل دوسری پارٹیوں کے لیے  بھی یہ اتنے ہی پریشان کن ہونے چاہئیں۔ اپوزیشن صرف یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا نہیں ہوسکتی کہ  موجودہ حالات حکومت کی نالائقی و نااہلی کی وجہ سے رونما ہوئے ہیں اور ان مسائل کو عمران خان ہی حل کرسکتے ہیں۔ اس کی بجائے اس پر  قومی یک جہتی پیدا کرنے اور  ایسے مسائل سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ بننا چاہئے جو ملکی وجود و سالمیت کے لیے خطرہ  ہیں۔

8 فروری کا احتجاج کامیاب یا ناکام کی بحث وقت کا ضیاع ہے، البتہ سب کو یہ مان لینا چاہئے کہ  یہ کوشش کوئی قابل ذکر سیاسی تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اسی طرح حکومت کو بھی جان لینا چاہئے کہ  تحریک انصاف کی سیاسی پوزیشن اور حیثیت وقتی نہیں ہے بلکہ یہ پارٹی ملک کے ایک قابل ذکر حصے کی نمائیندگی کرتی ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ تحریک انصاف اب احتجاج کی بجائے سیاسی حکمت عملی  کا آغاز کرے۔ اس کا اشارہ اڈیالہ جیل سئے آنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ  عمران خان کی واضح ہدایت کے بغیر اپوزیشن کسی سیاسی عمل  میں حصہ دار نہیں بنے گی۔ اسی طرح حکومت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ پابندیاں لگانے اور جلسے جلوس   ناکام بنانے کے انتظامی ہتھکنڈوں سے سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا۔

فریقین اگر یکساں طور سے اس  نتیجہ پر پہنچ سکیں تو ملک میں سیاسی مفاہمت کی طرف پیش قدمی ممکن ہے۔ تحریک انصاف کو احتجاج ترک کرکے بات چیت پر راضی ہونا پڑے گا اور حکومت کو ٹھوس سیاسی نکات  پر مشتمل ایجنڈا جاری کرنا چاہئے تاکہ  مذاکرات کے اہداف مقرر ہوں۔ ان میں سر فہرست سیاسی گھٹن کا خاتمہ، آزادی  رائے میں سہولت اور عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے لیے مراعات کے نکات ہوں۔ اس کے علاوہ   فعال سیاسی عمل پر یقین بحال کرنے کے لیے آئیندہ انتخابات کے معاملہ پر کھلے دل سے بات چیت کی جائے اور  ان پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ اس حوالے سے  منصفانہ انتخابات کا انعقاد اور شفاف الیکشن کمیشن کا قیام بنیادی معاملات ہوں گے۔ ان پر اتفاق رائے تمام سیاسی پارٹیوں اور پوری قوم کے مفاد میں ہوگا۔