بسنت اور احتجاج!معجزے کا انتظار

لو جی بسنت بھی منا لی گئی اور8فروری کا احتجاج بھی ہو گیا۔لاہوریوں نے تو بھرپور ہفتہ گزارا۔ کتاب میلہ بھی ہوا اور دیگر ادبی و ثقافتی میلے ٹھیلے بھی چلتے رہے،جس طرح  شادی کی تقریب کے بعد سب نڈھال ہو کر بیٹھے ہوتے ہیں اسی طرح کی صورت حال اب پنجاب حکومت اور دوسری طرف تحریک انصاف کی ہے۔

 ہماری حالت ”زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد“جیسی ہے۔ملک مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، یہ کوئی افسانوی بات نہیں۔ معیشت سنبھل نہیں رہی، امن و امان کی صورت حال بہت تشویشناک ہے۔ دارالحکومت جیسے مضبوط حصار والے علاقے بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔ سیاسی بے چینی اپنی جگہ ہے۔ پارلیمنٹ جسے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہونا چاہیے، وہ کردار ادا نہیں کررہی جس کی ضرورت ہے۔فیصلے بالابالا ہو رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں لائے ہی نہیں جا رہے۔ سیاسی ہم آہنگی کا امکان دوردور تک نظر نہیں آتا۔ ایک واحد حقیقت ضد اور انا ہے جو سینہ تانے کھڑی نظر آتی ہے۔ اسلام آباد کا دھماکہ تلخیوں کو بڑھا گیا ہے۔ زخموں پر مرہم رکھنے کی اشد ضرورت ہے لیکن اسے بھی نظریہ ضرورت کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ جا کر اشک شوئی کرنے والے اسلام آباد جا کر غمزدہ خاندانوں کی اشک شوئی نہیں کررہے۔

 پورے منظر نامے پر کوئی ایسا لیڈر دور دور تک نظر نہیں آتا جو قومی آہنگی کو پروان چڑھانے کے لئے آگے آئے۔ نوابزادہ نصراللہ خان ایسے میں بہت یاد آتے ہیں وہ خلیج کو پاٹنے کا ہنر جانتے تھے۔ انہوں نے آمروں سے بھی میچ جیتے اور سول حکمرانوں کو بھی آسمان سے زمین پر لائے۔ ان کی بات اس لئے سنی جاتی تھی کہ وہ ریاکاری اور سیاسی منافقت کے بغیر سچی بات کرتے تھے۔ آج کا منظرنامہ سب کے سامنے ہے۔ تقسیم اتنی گہری ہے کہ لکیر مٹنے کا نام نہیں لیتی۔ نہ اڈیالا جیل والے میں نرمی آ رہی ہے اور نہ آج کے مالک و مختار کچھ سننے کو تیار ہیں۔ ہر پاکستانی کی طرح میرا بھی جی چاہتا ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی جمہوری ملک بن جائے۔جس میں بنیادی انسانی حقوق یقینی ہوں اور ملک امن و امان کا گہوارہ بن کر پھلے پھولے۔ جمہوریت صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ ہو اور پارلیمنٹ کو آزادانہ قانون سازی کے مواقع میسر آئیں۔ انتخابات شفاف ہوں اور ایسی دھاندلی نہ ہو جس کا دفاع بھی نہ کیا جا سکے اور سارے جمہوری عمل پر عوام کی طرف سے عدم اعتماد کا لیبل لگ جائے۔ مخمل میں ٹاٹ کے پیوند لگانے، مختلف تہواروں کے ذریعے وقتی طور پر عوام کو بہلانے سے عملاً کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وہ کون سا بیریر ہے جس نے سیاسی قوتوں میں دراڑ ڈال رکھی ہے۔ آگے بڑھ کر راستہ نکالنے سے تو صحراؤں اور دریاؤں میں بھی راستہ نکل آتا ہے۔ یہاں کیوں نہیں نکل سکتا۔ شرط صرف یہ ہے صدق دل سے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔

اب کچھ لوگ کہیں گے سب کچھ تو ٹھیک چل رہا ہے۔ ادارے کام کررہے ہیں، پارلیمنٹ موجود ہے، عدلیہ کے دروازے کھلے ہیں۔ اسمبلیوں میں اپوزیشن ارکان دھواں دار تقریریں کرتے ہیں سب کچھ اپنے دائرے میں کام کر رہا ہے۔ پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسے لوگ بھی بجا فرماتے ہیں انہیں ملک میں سب اچھا نظر آتا ہے، مگر یہ تو وزیراعظم شہبازشریف سے کوئی پوچھے کہ کام کیسے چل رہا ہے۔ پچھلے دنوں تو انہوں نے صاف صاف بتا دیا تھا ملک کی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے قرضہ دینے والوں کی ایسی ایسی شرائط ماننی پڑتی ہیں جو کسی بھی طرح ہمارے مفاد میں نہیں ہوتیں، مگر اس لئے ماننی پڑتی ہیں کہ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اب قصہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سی باتیں، بہت سے معاملات پارلیمنٹ اور عوام سے چھپانے بھی ہوتے ہیں انہیں پارلیمنٹ میں لایا ہی نہیں جاتا۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ بھی بالابالا ہی کیا گیا۔

جب یہ ڈر ہو کہ اپوزیشن نے اس معاملے میں مخالفت ہی کرنی ہے تو اسے اعتماد میں کیسے لیا جا سکتا ہے۔ بڑی خواہش ابھرتی ہے کہ کم از کم بعض ایسے قومی مفادات پر تو حکومت اور اپوزیشن کی ہم آہنگی ہونی چاہیے، جن سے گریز نہیں کیا جا سکتا مگر یہ تو اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اپوزیشن کے ساتھ حکومت کا کم از کم ایک چینل تو کام کررہا ہو۔ یہاں تو سارے چینلز فیل ہیں۔ آج اپوزیشن کا بڑا حوالہ تحریک انصاف ہے اور تحریک انصاف کے حوالے سے اصل طاقت عمران ہیں۔ معجزے کا انتظار دونوں طرف جاری ہے۔ حکومت یہ چاہتی ہے عمران خان حوصلہ ہار جائیں اور سرنڈر کرنے پر آمادہ ہو جائیں، انہیں ملک سے باہر بھیج دیا جائے یا وہ ملک میں رہیں تو اس سسٹم کے لئے خطرہ نہ بنیں جو اس وقت چل رہا ہے۔ کوئی بہت بڑا معجزہ ہی ایسی صورت حال کو عملی شکل دے سکتا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف ہے۔ اس کی قیادت میں اتنا دم خم نہیں کہ کوئی فیصلہ عمران خان کے بغیر کر سکے اور عمران خان تک رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا۔

وقت گزر جائے گا تو شاید عمران خان تک رسائی کو روکنے والے یہ سوچیں کہ اس فیصلے سے انہیں نقصان زیادہ ہوا یا فائدہ؟میرے نزدیک اس میں نقصان زیادہ ہوا ہے، کیونکہ اس سے سیاسی بے یقینی بڑھی ہے۔ سب سے بڑی بات عوام کی نظر میں یہ عمل اس خوف کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو جیل میں بیٹھے ہوئے عمران خان سے اس نظام کے حلقوں کو لاحق ہے۔

ایک عام پاکستانی کے نزدیک کسی بھی سیاسی دور کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ اس میں لوگوں کو معاشی ریلیف ملے۔ اس دور میں ایسے کسی ریلیف کی دور دور تک جھلک نظر نہیں آتی۔ الٹا ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا۔ میں جب بھی کسی اپٹما کے عہدیدار کی پریس کانفرنس سنتا ہوں اور ٹیکسٹائل یونٹوں کی دھڑا دھڑ بندش پر ان کے اذیت ناک خیالات سنتا ہوں جن میں ہزاروں نہیں لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کی داستان بھی سنائی جاتی ہے تو دل دہل جاتا ہے۔ یہ ملک خداداد جو پہلے ہی آبادی میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے، روزگار کی محرومی کے نئے طوفانوں کی زد میں ہے۔ بحران کی دستک کے قریب پہنچ چکا ہے۔ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں بڑھنے والی سیاسی بے یقینی ہے۔ دوسری وجہ امن و امان کی صورت حال ہے، تیسری اور بڑی وجہ یہ ہے کہ بحران موجودہ حالات کی وجہ سے ہے جنہیں کسی حل کی طرف لے جانے کی بجائے طاقت کے مختلف انجکشن لگا کر ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کوئی سیاسی کشیدگی اتنی طویل نہیں چلی جتنی موجودہ چل رہی ہے۔ مسئلے کا اس قدر طوالت اختیار کرلینا بھی سیاسی عدم استحکام کی وجہ بنتا ہے۔ ہماری اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے ہمارا بیرونی دشمن فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ ان حالات میں کہ جب دہشت گردی سرابھار چکی ہے، وفاقی اور خیبرپختونخوا کی حکومت کو ایک پیچ پر ہونا چاہیے، مگر سب دیکھ رہے ہیں پالیسیوں میں کتنا تفاوت ہے، کتنی دوری ہے، ایسے حالات میں ہرپاکستانی کی خواہش تو یہی ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے اور ہم عدم استحکام سے نکل کر استحکام کی منزل میں داخل ہو جائیں، کیا ایسا معجزہ ممکن ہے؟

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)