قومی شناخت اور پارلیمانی اختیار کا معاملہ

قومی اسمبلی نے ایک قرار داد  میں  اسلام آاباد بارگاہ میں خود کش دھماکہ کی شدید مذمت کی ہے۔   جمعہ کے روز اس بزدلانہ دہشت گردی میں تین درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ تاہم قومی اسمبلی میں تقریروں اور قرار  داد منظور کرنے سے  ملک میں انتہا پسندی کا   خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

 بدقسمتی سے حکومت ایسے سنگین وقوعہ کے بعد ٹھوس اقدامات کا اعلان کرنے کی بجائے  پرجوش مذمتی بیانات اور قرارداوں سے کام چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ دہشت گردی ہو یا مذہبی انتہاپسندی، اس معاملہ میں خالی بیانات عوام میں احساس تحفظ پیدا نہیں کرسکتے۔ دسمبر 2014 میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان منظور کیا گیا تھا لیکن حکومت نہ تواس پر عمل درآمد یقینی بنا پارہی ہے اور نہ ہی ایک نئے سانحہ کے بعد اس پر مؤثر انداز میں عمل کرنے کا کوئی اعلان سامنے آیا ہے۔  حکمرانی کے اس طرز عمل سے معاشرے  میں ہلاکت اور فساد برپا کرنے  والے عناصر کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر دفاع  خواجہ آصف نے ماضی کے زخم  کریدے اور سابقہ فوجی آمروں  پر مذہبی انتہا پسندی  پھیلانے  اور امریکہ جیسی بڑی طاقت کا  آلہ کار بننے کا الزام  عائد کیا۔  یہ معاملات تاریخی حقیقت  ہونے کے باوجود ہمارے آج کے مسائل کا کوئی حل تجویز نہیں کرتے بلکہ مشکلات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کے نمائندے بھاشن دینے کی بجائے  ماضی سے سبق سیکھیں اور الزام تراشی کی بجائے  ٹھوس حل تجویز کریں ۔ اور اس پر قوم اور اپوزیشن کی امداد مانگیں۔  البتہ دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت اس کی بجائے نعرہ زن رہنے پر اکتفا کرتی ہے۔ اس کا آغاز جمعہ کو خود کش دھماکہ کے  فوری بعد ہی کردیا گیا تھا جب خود خواجہ آصف  نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس حملہ میں بھارت اور افغانستان ملوث ہیں۔

خواجہ آصف کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بے تکان  بولنے کی شہرت حاصل ہے۔ وہ بات کرتے ہوئے نہ سچائی  پرکھتے ہیں اور نہ ہی کسی معاملہ کی پیچیدگی  پر غور کرتے ہیں۔  بلکہ کسی بھی طرح کوئی ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں  جس سے حکومت کو ہمدردی حاصل ہو اور  کسی واقعہ پر پریشان عوام کو نعروں کے پیچھے لگا کر سوال اٹھانے اور حکومت سے جواب طلب کرنے سے روکا جائے۔ البتہ ہمسایہ ملکوں کے خلاف بیانیہ بنانے سے ملک کو درپیش مسائل حل ہونے  کاا امکان نہیں ہے۔ بھارت یا افغانستان پر الزام لگاتے ہوئے یہ حقیقت فراموش  نہیں کی جاسکتی کہ ملک کے اندر بھی مذہبی جنونیت اور فرقہ پسندی کا شدید ماحول موجود ہے۔ ایسے گروہوں اور لیڈروں کی کمی نہیں ہے جو کسی بھی موقع  کو مخالف عقیدہ یا مسلک کے خلاف استعمال کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔  حکومت اور اس کے نمائیندے جب بھارت اور افغانستان کو دہشت گردی سے متعلق مسائل کی بنیاد قرار دیتے ہیں  تو بھی اس نکتہ کی وضاحت نہیں کرتے کہ ملک کے اندر ان طاقتوں کو سہولت کار کیسے دستیاب ہوجاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت داخلی حالات پر قابو پانے اور وسیع تر مذہبی شدت  پسندی کا تدارک کرنے کی نہ تو طاقت رکھتی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی منصوبہ بندی دیکھنے میں آئی ہے۔ بلکہ سیاسی  ضرورتوں کے لیے حکومت میں شامل عناصر بھی  ایسی نفرت انگیز  مہم جوئی کا حصہ بننے میں  مضائقہ نہیں سمجھتے۔

بہتر ہوگا کہ خواجہ آصف اور حکومت میں ان کے ہمنوا سازشی نظریہ اور ماضی کی غلطیوں پر زور بیان صرف کرنے کی بجائے موجودہ حالات  میں کوئی تدبیر کریں۔  حکومت ابھی تک دہشت گردی   کی حالیہ لہر کی ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد کرتی ہے ۔ اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف نے  ٹی ٹی پی کے باغیوں کو پاکستان واپس لاکر آباد کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا  جس کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔ حالانکہ حقیقت  یہ ہے کہ جیسے آج کسی حکومت کو سکیورٹی کے معاملات پر فیصلے  کرنے یا  ان کے بارے میں کوئی اقدام کرنے کا محدود حق حاصل ہے ، اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت  میں بھی عسکری ادارے ہی ایسے اہم اور حساس فیصلے کرنے کے ذمہ دار تھے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) فیض حمید جب چائے کی پیالی نوش کرنے کابل  گئے تھے تو انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اجازت نہیں لی تھی  بلکہ یہ توقع کی جاتی تھی کہ وزیر اعظم فوج کے ہرا قدام کو خوش آمدید کہے گی۔   لہذا تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں اس وقت کی حکومت نے بھی وہی کیا جو آج کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کررہی ہے یعنی فوجی قیادت کے فیصلوں کو  قبول کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں کوئی ٹھوس اور بامقصد بحث سننے میں نہیں آتی اور نہ ہی وزیر اعظم خود ایسے کسی مباحثہ کی قیادت کرتے ہیں۔ بلکہ  قرارددیں منظور کرانے اور خواجہ آصف کی مجموعہ  اضداد قسم کی تقریر سے کام چلایا جاتا ہے۔

خواجہ آصف نے ایک  طر ف قومی شناخت یا دوسرے لفظوں میں  عمومی اتحاد اور اہم سانحات پر اتفاق رائے  کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن خود  یہی حکومت سابقہ حکومت کو اس کے ناکردہ گناہوں پر معتوب کرکے خود اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی ناکام  کوشش کرتی رہتی ہے۔ مسلم  لیگ (ن)  ،تحریک  طالبان پاکستان کے جنجگوؤں کی آبادکاری سے لے کر ملکی معیشت کی بحالی تک کے سوال پر سابقہ حکومت  کو قصور وار سمجھتی ہے حالانکہ عمران خان محض ساڑھے تین سال برسر اقتدار رہے اور  اب تحریک انصاف کو اقتدار سے محروم ہوئے چار برس ہوچکے ہیں۔  حکومت اگر واقعی کسی قومی یک جہتی نامی منصوبہ پر یقین رکھتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے سیاسی طرز عمل کو تبدیل کرکے  میرٹ اور حقائق کی روشنی میں بات کرنے کا سلیقہ سیکھنا چاہئے۔

قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ  آصف کا یہ بھی فرمانا تھا کہ  ’پارلیمنٹ کو فعال  بنایا جائے اور آئین پر حقیقی معنوں  میں عمل کیا جائے‘۔ اس اصول کو  مان لیا جائے تو  پارلیمنٹ سے بالا ہی بالا فیصلے کرنے کا طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئے۔ حکومت نے  قومی ایکشن پلان پر عمل کی کوئی  رپورٹ کبھی پارلیمنٹ کو پیش نہیں کی اور نہ  ہی تقریروں کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف  حکمت عملی کو ایوان سے منظور کرانے کی کوشش  کی گئی۔ حتی کہ حال ہی میں خارجہ  تعلقات  میں غزہ کے بارے  میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  ’بورڈ آف پیس‘  میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا  گیا۔ اوراب وزیر اعظم شہباز شریف اس کے پہلے اجلاس میں شریک ہونے  کے لیے واشنگٹن جارہے ہیں۔ لیکن انہوں نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے یا اس اہم سفارتی اقدام کی پارلیمانی منظوری لینے  کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس پس منظر میں ملک کا وزیر دفاع کس منہ سے پارلیمنٹ  اور آئین کی بالادستی کی بات کرسکتا ہے۔

خواجہ آصف کی تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’حکومت پارلیمنٹ کو بااختیار بنائے، تمام اہم فیصلے یہاں کیے جائیں، اپوزیشن اس عمل میں حکومت کی غیر مشروط حمایت کرے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم آج یہ فیصلہ کرلیں کہ پارلیمنٹ ہی طاقت کااصل سرچشمہ ہے تو ہمارے سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔  اس دوٹوک بیان کے بعد اپوزیشن سے اور کس قسم کے تعاون کی خوہش کی جاسکتی ہے؟  تاہم  پارلیمنٹ کو حقیقی فیصلہ ساز ادارہ بنانے سے حکومت کو من مانی کرنے اور شاید اقتدار پر قابض رہنے کا موقع حاصل نہیں رہے گا۔  پاکستان کی کوئی حکومت یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہوگی۔