ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا: صدر پرشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’جوہری ہتھیاروں کا حصول نہیں چاہتا‘ اور ہم اس کی تصدیق کرنے کو بھی تیار‘ ہیں۔
ایرانی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ جمعے کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا تھا۔
مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپ اور امریکہ نے جو بداعتمادی کی دیوار کھڑی کر دی ہے اس کے بعد ان مذاکرات کے مؤثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ایران زیادہ مطالبات کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم پڑوسی ممالک سے بات کر رہے ہیں تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔ جب ہمارا دشمن ہمارے خلاف منصوبہ بندی اور جارحیت کرنے کا سوچ رہا تھا، پڑوسی اور اسلامی ممالک ہم سے رابطے کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بیان میں ترکی، آذربائیجان، قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، سعودی عرب اور مصر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ’اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ ایران کی حماقت ہو گی۔‘ فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
امریکی صدر نےزگذشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پچھلی بار ہم نے ان کی جوہری طاقت ختم کر دی تھی۔ دیکھنا ہو گا کہ اس بار ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ بات چیت کا محور صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہ رہے بلکہ اس دوران بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کی پراکسیوں اور ایرانی عوام کے ساتھ حکومت کا برتاؤ بھی اس میں شامل ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات کو متعدد بار مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں واپسی کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت ’برابری کی بنیاد‘ پر کی جائے۔